اسرائیل کے شہر تل ابیب میں حزبِ اختلاف کے رہنما یائر گولان کے قریب چاقو لے کر پہنچنے والے 20 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
بی بی سی اردو کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ گولان انتخابی مہم کے دوران شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہے تھے۔
ڈیموکریٹک جماعت نے اس واقعے کے متعلق بتایا کہ مشتبہ شخص دھمکی آمیز انداز میں گولان کی طرف بڑھا تو سیکیورٹی اہلکاروں نے روک لیا۔
اس دوران مبینہ حملہ آور شخص کے کپڑوں میں چھپایا گیا بڑا چاقو زمین پر گر گیا جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پارٹی نے واقعے کو گولان کے خلاف مبینہ دھمکیوں سے جوڑتے ہوئے ان کی سلامتی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی داخلی سکیورٹی ادارے شِن بیت نے بھی حال ہی میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔
گولان نے ردعمل میں کہا کہ دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے انہیں خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بائیں بازو کے رہنماؤں کے خلاف سخت بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس ماحول کا ذمہ دار وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹھہرایا۔
واضح رہے کہ یائر گولان اسرائیلی فوج کے سابق اعلیٰ افسر ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرنے والے نمایاں اسرائیلی سیاست دانوں میں شامل ہیں۔