930 ارب کی اسلامی فنانسنگ ٹرانزیکشن کامیابی سے مکمل

حکومت کو 795 ارب کی سبسڈی اجرا میں معاونت، صارفین کو 183.4 ارب سے زائد ریلیف


ظفر بھٹہ October 27, 2026

اسلام آباد:

حکومتِ پاکستان نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں کمی کیلیے 930 ارب روپے کی تاریخی اسلامی فنانسنگ ٹرانزیکشن کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے جی) کے حکام نے منگل کو ٹیرف سے متعلق عوامی سماعت کے دوران بتایاکہ ادارے کی مختلف مالیاتی اور انتظامی کوششوں کے نتیجے میں بجلی صارفین کو بھی نمایاں ریلیف ملا ہے۔

حکام کے مطابق سی پی پی اے جی نے گردشی قرضے میں کمی کے حکومتی اہداف کی حمایت کرتے ہوئے اسلامی فنانسنگ ٹرانزیکشن اور متعلقہ تصفیوں پر کامیابی سے عمل درآمدکیا۔ اس اہم اقدام میں کرداراداکرنے پر حکومت نے سی پی پی اے جی کے چیف ایگزیکٹوآفیسر اور ایک دوسرے افسرکو ستارہ امتیاز سے نوازا۔

سی پی پی اے جی نے بتایاکہ ترمیم شدہ اور باہمی مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے تصفیاتی معاہدوں پر ٹاسک فورس کی سربراہی میں عمل درآمدسے 184.53 ارب روپے کی بچت ہوئی،جس سے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین کو فائدہ پہنچا۔ اسی طرح بجلی کے شعبے میں مالی استحکام برقراررکھنے کیلیے تقریباً 795 ارب روپے کی سبسڈی کے اجرا کو بھی یقینی بنایاگیا۔

ادارے نے ونڈ،سولر اورنیوکلیٔر پاور پلانٹس کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں معقولیت لانے اورصارفین کیلیے بچت پیداکرنے کے اقدامات بھی کیے، جن میں ٹیرف میں کمی اور ایل پی آئی سے متعلق رعایت شامل ہے۔

عوامی سماعت کے دوران سی پی پی اے جی کی جانب سے ملٹی ایٔر ٹیرف (ایم وائی ٹی) درخواست فوری طور پر دائرکرنے سے استثنا اور موجودہ سال کیلیے سنگل ایٔر ٹیرف درخواست قبول کرنے کامعاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

سی پی پی اے جی حکام نے بتایاکہ ادارے کے بورڈآف ڈائریکٹرز نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ حقیقت پسندانہ مفروضوں، زمینی حقائق،مستقبل کی آپریشنل ضروریات اور سرمایہ جاتی اخراجات کو مدنظررکھتے ہوئے جامع جائزہ مکمل کیاجائے، تاکہ ٹیرف درخواست ادارے کی جائز ضروریات اور پائیدارمالی تقاضوں کی درست عکاسی کرسکے۔

حکام کے مطابق انتظامیہ اس جائزے پرکام کررہی ہے اور توقع ہے کہ ضروری تیاری مکمل ہونے کے بعدمالی سال 2027-28 سے ملٹی ایٔر ٹیرف درخواست دائرکی جاسکے گی۔

اسی بنیاد پر سی پی پی اے جی نے پاورریگولیٹرسے درخواست کی ہے کہ ادارے کوفوری درخواست جمع کرانے کا پابندکرنے کے بجائے اگلے مالی سال میں جامع اور قابلِ عمل درخواست پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

سماعت میں سی پی پی اے جی کے انتظامی اخراجات کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کیلیے عمومی اسٹیبلشمنٹ اخراجات 2 ارب 524 ملین روپے رہے، مالی سال 2026-27 کیلیے ادارے نے مجموعی طور پر 2 ارب 504 ملین روپے کے اخراجات طلب کیے ہیں۔