اسرائیل میں سخت انتخابی مقابلہ، نیتن یاہو معمولی برتری کے باوجود حکومت سازی کے لیے کوشاں

اسرائیلی انتخابی کمیٹی کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو تقریباً تین دہائیوں میں بلند ترین شرح قرار دیا گیا ہے


ویب ڈیسک October 28, 2026

تل ابیب: اسرائیل کے وزیراعظم اور لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد دائیں بازو کی حکومت بنانے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صہیونی عوام میں دائیں بازو کی جماعتوں کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی ہے، تاہم ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ایک مضبوط قومی دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد مرکزی اپوزیشن اتحاد سے معمولی برتری رکھتا ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 27 اکتوبر کو جاری تازہ ترین صورت حال میں 27 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی، جو مجموعی ووٹوں کا تقریباً 55.4 فیصد بنتے ہیں۔

ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 20.8 فیصد درست ووٹ ملے، جبکہ ایزن کوٹ کی یاشار پارٹی 17.06 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ نفتالی بینیٹ کے اتحاد ’ٹوگیدر‘ نے 9.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرلی، جبکہ عرب قیادت میں قائم جوائنٹ لسٹ اس سے پیچھے چلی گئی۔

عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 18 سے 19 پارلیمانی نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں بڑے سیاسی دھڑوں نے حکومت سازی کے لیے ان جماعتوں کو ساتھ ملانے کا عندیہ نہیں دیا۔

اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو تقریباً تین دہائیوں میں بلند ترین شرح قرار دیا گیا ہے۔

انتخابی نتائج ابھی ابتدائی ہیں اور ووٹوں کی مزید گنتی کے ساتھ ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ حکومت سازی کے لیے کس سیاسی اتحاد کو مطلوبہ حمایت حاصل ہوگی۔