کراچی:
ڈاو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبا کے لیے حلف نامے کی شرط کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔
درخواست میں سندھ حکومت، وائس چانسلروں، رجسٹرار اور کالج پرنسپل کو فریق بنایا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے موقف اپنایا کہ کالج آف میل نرسنگ لیاقت آباد کے امتحانات میں طلبہ کی غیر معمولی تعداد کو فیل کیا گیا، طلبہ نے امتحانات اور جوابی کاپیوں کی جانچ کے تحفظات کا اظہار کیا تھا، طلبہ نے سپلیمنٹری امتحانات کی فیس میں اضافے کے خلاف بھی احتجاج کیا جبکہ طلبہ کے پرامن احتجاج پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یونیورسٹی نے طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے حلف نامہ جمع کروانے کا حکم دیا ہے، جس میں سوشل میڈیا پر ادارے کی ساتھ، تعلیمی معاملات سے متعلق احتجاج میں شرکت سے ممانعت شامل ہے جبکہ حلف نامے کو لازمی قرار دے کر طلبہ کے بنیادی حقوق محدود کیے جا رہے ہیں۔
وکیل عثمان فاروق نے درخواست میں موقف اپنایا کہ کسی طالب علم کو تعلیم جاری رکھنے کی شرط پر اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، پرامن احتجاج اور تعلیمی مسائل پر اظہار رائے پر غیر معقول پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ حلف نامے جمع نا کروانے کی بنیاد پر طلبہ کے خلاف منفی کارروائی سے روکا جائے، طلبہ کے لیے کسی بھی تادیبی کارروائی سے قبل نوٹس اور سماعت کا موقع فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ امتحانات میں بے قاعدگی اور سپلیمنٹری امتحانات کی فیس میں اضافے کے خلاف طلبا کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔