پنجاب میں عدالتی مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلیے متبادل نظام قائم کرنے کا فیصلہ

تبادل نظام کے تحت تنازعات ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز


عائشہ صغیر October 29, 2026
فوٹو: فائل

پنجاب میں عدالتی مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور فریقین کو جلد انصاف کی فراہمی کے لیے متبادل نظام کے تحت تنازعات ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دے دی گئی۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا پنجاب متبادل تنازعات کے حل کا آرڈیننس 2026 مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کر دیا گیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد آرڈیننس کو منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔

آرڈیننس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت عدالتوں میں طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنے والے تنازعات کو فریقین کی رضامندی سے متبادل نظام کے ذریعے حل کیا جا سکے گا۔ تنازع حل ہونے پر متعلقہ عدالت فیصلہ اور ڈگری جاری کرے گی۔

مجوزہ نظام کے تحت لاہور ہائیکورٹ سے نامزد جج، منظور شدہ ثالث یا منظور شدہ مراکز تنازعات کے حل کے لیے خدمات انجام دیں گے۔ اتھارٹی تنازعات کے متبادل نظام کی نگرانی، ثالثوں اور مراکز کی منظوری، ان کی تجدید اور متعلقہ تربیتی اداروں کی منظوری کا طریقۂ کار وضع کرنے کی مجاز ہوگی۔ منظور شدہ ثالثوں اور مراکز کی فہرست لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو بھی فراہم کی جائے گی۔

آرڈیننس میں خاندانی تنازعات، بچوں کی سرپرستی اور تحویل، تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد، معاہدوں کی مخصوص تکمیل، ہرجانے کی وصولی، منقولہ جائیداد یا اس کی قیمت کی وصولی اور مشترکہ غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم سمیت متعدد معاملات کو متبادل نظام کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مشترکہ جائیداد کے حسابات، حقِ وراثت، ڈیکلریشن، جانشینی، پیشہ ورانہ غفلت، صارفین کے تنازعات اور کاپی رائٹ سے متعلق معاملات بھی مجوزہ نظام کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔

متن کے مطابق عدالت فریقین کو باہمی رضامندی سے منظور شدہ ثالث یا مرکز منتخب کرنے کا موقع دے گی۔ فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی صورت میں عدالت منظور شدہ فہرست میں سے ثالث یا مرکز منتخب کر سکے گی۔

تنازعات کے حل کی کارروائی میں فریقین خود، اپنے مجاز نمائندوں یا وکلا کے ذریعے شرکت کر سکیں گے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سمیت متعلقہ فریقین کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک اور جدید ذرائع سے کارروائی میں حصہ لینے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

آرڈیننس میں کارروائی اور فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کو خفیہ رکھنے کی شق بھی شامل ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے فیس اور دیگر اخراجات فریقین باہمی رضامندی سے تقسیم کریں گے۔ خواتین سے متعلق تنازعات میں ترجیحی بنیادوں پر خاتون ثالث کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

متبادل تنازعات کے حل کے نظام سے متعلق آرڈیننس کی منظوری گورنر پنجاب نے 6 اکتوبر 2026 کو 90 روز کے لیے دی تھی۔ اب قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسے پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایوان سے منظوری کے بعد آرڈیننس قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔