استنبول: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ امت کو انتہاپسندی، تکفیر اور فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علماء مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔
استنبول میں اتحاد العالمی للعلما المسلمین کے زیراہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین و کشمیر کے تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح پالیسی کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلم اقلیتوں کے لیے عالمی پلیٹ فارم قائم کیا جائے، اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ سے ہی ممکن ہے، صیہونیت امت مسلمہ کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، مسلمان اسکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم عوام اور حکمرانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے واضح لائحہ عمل دیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلم ممالک کو اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرنے چاہئیں، دنیا میں دو ارب مسلمانوں میں ایک ارب خواتین ہیں، ان کے مسائل کا حل عصری تقاضوں کے مطابق تلاش کرنا ہوگا، ملازمت پیشہ خواتین کو موجودہ حالات میں گھروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر کام کی ضرورت ہے، درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کانفرنس کی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
بین الاقوامی کانفرنس میں ترکیہ، سوڈان، موریطانیہ، اردن، انڈونیشیا اور لیبیا کے 200 سے زائد مسلم اسکالرز نے شرکت کی۔