پشاور:اتحاد تنظیمات مدارس نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیررجسٹرڈ مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں اتحاد تنظیمات المدارس کے صوبائی صدر مولانا حسین احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں مدارس کے حوالے سے نئی پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مدارس کی رجسٹریشن 3 ماہ میں مکمل کرنے کے لئے فارم تقسیم کئے جارہے ہیں اور رجسٹریشن فارم کے لئے دو دن کی مہلت دے کر مدرسہ بند کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن قانونی تقاضہ ہے جس سے کبھی انکار نہیں کیا تاہم ہمیں رجسٹریشن کے طریقہ کار پر اختلاف ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم میں مدارس کو 1860 کی سوسائٹی ایکٹ یا ڈی جی آر ای کے ساتھ رجسٹریشن کا اختیار دیا گیا ہے اور ہم آج بھی سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے لئے تیار ہیں۔
صوبائی صدر نے کہا کہ ہم کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے اور جہاں ہم چاہیں گے وہاں رجسٹریشن کرینگے۔مہتمم کی معلومات میں سیاسی وابستگی کا بھی پوچھا جارہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان سے سیاسی وابستگی کا پوچھا جاتا ہے؟ جب حکومت کوئی فنڈ نہیں دیتی تو آمدن کے ذرائع کیوں پوچھ رہی ہے۔
مولانا حسین نے کہا کہ مدارس کے نئے بینک اکاونٹس کھولنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مدارس کسی بیرونی فنڈنگ پر نہیں مقامی عطیات پر چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں 45 سے 50 لاکھ طلبہ طالبات کو مفت تعلیم فراہم کررہے ہیں جبکہ ہم دہشتگردی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں تقسیم ہونے والے کوائف فارم کو مسترد کرتے ہیں۔