خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد 3 ایم پی او کے تحت پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار دینے اور انہیں گرفتار نہ کرنے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا گیا جو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے مختلف افراد کی 3 ایم پی او کے تحت نظر بندی کو کالعدم قرار دینے اور انہیں گرفتار نہ کرنے کے احکامات کے خلاف چیف سیکریٹری کے توسط سے دائر درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کےلیے مقررکر دی گئی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جن 51 کارکنوں کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں احسان، حق نواز خان، صدرالرحمان، فضل اللہ، عمران سعید، محمد ادریس، سلمان، خان نواب، فدامحمد، بخت کرم، اظہاراللہ، امجدعلی، جمشید علی، محمد اشفاق، فضل جہاں، داﺅدخان، سعیدالرحمان، انعام اللہ، اصغر منیر، عادل، حضرت علی، انعام اللہ، حنیف اختر، غلام اللہ، تیمور، نصیر، مبشر شاہ، محمد اکمل، اجمل شاہ، حیات خان، سجاد، فدامحمد ، نیاز محمد ، عبدالوہاب، گل بادشاہ، فضل کریم، راجہ لیاقت زمان، منیر خان جدون، محمد نعمان، سید فہیم شاہ، ملک حارث، کاشف خان، دانیال، زیبان خان، رشید بابر، دلبر خان، محمدجہانگیر اور نوید شہزاد اور دیگر شامل ہیں۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ گورنر راج کے تحت قائم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 150کارکنوں کی نظربندی اور ان کی ضمانتیں کالعدم قرار دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے خلاف بھی وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔