قسط نمبر۔4
1925 ء میںقائداعظم محمدعلی جناح کو سیاست شروع کئے تقریباً 21 سال ہو چکے تھے اِس دوران اُن کا اہم کا رنامہ 1916 ء کا میثاق لکھنو تھا قائد اعظم آل انڈیا کانگریس کے اہم لیڈر تھے۔ 1920 ء میں اُنہوں نے آل انڈیا کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ، 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے 1923-24 ء انتہائی دکھ ، افسوس اور مایوسی کا زمانہ تھا۔ مسلما ن خلافت ِعثمانیہ کو اپنے عالمی اتحاد کا مرکز تصور کرتے تھے،کیونکہ حجاز مقدس ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مو لانا محمد علی جو ہر ، شوکت علی اِ ن کی والدہ بی اماں نے تحریک خلافت کا آغاز کیا۔
یہ تحریک ہند وستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھی اس موقع پر انقلابی شاعر ، معروف صحافی مولانا ظفر علی خان کے علاوہ کانگریس کے مولانا ابو کلام آزاد اور پھر گاندھی جی بھی عدم تعاون کی تحریک کے ہمراہ تحریک خلافت کے ساتھ کھڑ ے ہو گئے۔ 1925 ء میں صورتحال بہت عجیب تھی دنیا بالکل تبدیلی ہو چکی تھی۔ مصطفی کمال پاشا نے 1924 ء میں خلافت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی ایک تو خلیفہ نے شکست کے معاہدے سیورے پر دستخط کر دیئے تھے جس میں استمبول سمیت ترکی کے اپنے علاقے بحری گذر گاہیں بھی اپنے اقتدار کی خاطر اتحادیوں کے حوالے کر دیں تھیں، مگر مصطفی کمال پاشا نے معاہدے کو رد کر دیا تھا۔ انہوں نے انگریز فوجوں سے جنگ کی ، جنگ کے بعد سیورے سے بہتر معاہدہ کر کے ترکی کو بحیثیت ملک آزاد اور محفوظ کر لیا تھا۔ دوسری جانب انگریزوں نے حجاز مقدس کو آزاد ملک کا درجہ دیا ، مگر اب دنیا کے تما م مسلمانوں کے پاس آزاد و خود مختار مرکزی حیثیت کا کو ئی ملک نہیں تھا۔
مصطفی کمال پاشا نے مغربی جمہوریت کو قبول کر لیا تھا۔ یورپ سے ثقافتی ، تعلیمی ، قربت پید اکر لی جو مجموعی طور پر خصوصاً برصغیر میںمسلم معاشرے کو قابل ِ قبول نہیں تھی۔ قائداعظم کلین شیو سوٹ بوٹ پہننے، انگر یزی زبان بولنے والے ایسے لیڈر تھے جن کے صاحبِ کردار حق گو اوراصول پرست ہونے کو علامہ اقبال بھی تسلیم کر تے تھے ، مگر ہندوستان کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعدا د مسلم لیگ کی بجائے کانگریس کے ساتھ تھی۔ جہاں جنگ کے بعد خلافت کے خاتمے سے ہندوستان کے مسلمان مایوس تھے وہیںعالمی صورتحال یہ تھی کہ شکست خودرہ اور فاتح دونوں طرح کے ممالک پریشان تھے ، اتنی بڑی جنگ لڑ کر بر طانیہ ، فرانس اور دیگر اتحادی جیت چکے تھے مگر جنگ کے اخرجات اتنے زیادہ ہو گئے تھے کہ پوری دنیا میں آمدنیوں میں کمی بے روزگاری ، غربت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ دوسری جانب سوویت یونین میں جہاں کیمو نسٹ انقلاب ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا وہاں 1924 ء میں انقلاب کے قائد لینن کا صرف 53 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا جس کے بعد مغربی یورپ کے ملکوںمیں خو ش فہمی پیدا ہو ئی کہ کیمونسٹ انقلاب کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اسٹالن کے بارے میں کسی کو انداز نہیں تھاکہ وہ انقلاب اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لاکھوں روسیوں کے سفاکانہ قتل سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ اسٹالن نے انقلاب کو مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
یہی صورتحا ل اُس وقت جرمنی کی تھی جس سے 1919 ء میںاتحادیوں نے فرانس میںوارسائی کا ذلت آمیز معاہدہ کروایا تھا۔ بنیادی طور پر اس کے دو فریق تھے شکست خودرہ جرمنی اور فاتح اتحادی بر طانیہ ، فرانس امریکہ جس نے 28 جون 1919 ء کو Treaty of Versailles یعنی معاہدہ وارسائی کر ایا تھا۔ جنگ کی تمام ذمہ داری اکیلے جرمنی پر ڈالی گئی۔ Reparation تاوان ِ جنگ کے طور پر اربوں ڈالر ( 132 ارب گولڈ مارک ) کا جرمانہ عائد کر دیا ۔ ایسی عسکری پابندیاں عائد کی گئیں تھیں کہ جرمنی مستقبل میں ایک کمزور ترین ملک بن کر رہ جائے۔ معاہدے کے مطابق جرمنی کی فوج کی تعداد بہت کم کر دی تھی۔ جرمنی کی ایئر فورس اور آبدوزوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ رائن لینڈ کے علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جرمنی کو اپنے کئی بڑے علاقوں اور مقبوضاعات سے دستبردار ہو نا پڑا تھا۔ اس معاہدے کے نہایت ہولناک نتائج سامنے آئے۔
1914 ء میں جب جنگ شروع نہیں ہو ئی تھی تو سواچار یعنی4.25 جرمن مارک کا ایک ڈالر تھا معاہدہ وارسائی کے سال بعد 1920 ء میں ساٹھ جرمن مارک کاایک امریکی ڈالر ہو گیا۔ 1921 ء میں 330 جرمن مارک کا ڈالر ہوا، 1923 ء میں دنیا کی تاریخ میں کرنسی کے گرنے کا ریکارڈ قائم ہو گیا ایک امریکی ڈالر 4.2 ٹریلین جرمن مارک کا ہو گیا، یعنی ایک امریکی ڈالر4210500000000 جرمن مارک کا ہو گیا۔ دسمبر1923ء میں جرمنی میں ایک انڈے کی قیمت 320 ارب جرمن مارک تھی۔ جرمنی کی معیشت تباہ و بر باد ہو گئی۔ اسی معاشی اقتصادی اور سیاسی بحران نے ایڈولف ہٹلر کو اقتدار میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دنیا میںامریکہ نیا سپر پاور بن گیا تھا ا لبتہ اس کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ جہاں جرمنی کی کرنسی مارک کے گرنے کا تاریخی ریکارڈ سامنے تھا وہاں جنگ کی وجہ سے اب پیدواراور روزگار کے شعبے دنیا بھر میں متا ثر ہو ر ہے تھے۔ اس اقتصادی بحران میں امریکہ ، بر طانیہ اور فرانس سمیت تمام یورپی ممالک شامل ہو رہے تھے ۔
یعنی اب ایک جانب سوویت یونین میں کیمو نسٹ انقلاب کی جڑیں مضبوط ہورہی تھیں تو دوسری جانب جرمنی میں ذلت آمیز شکست تباہ شدہ معیشت کی بنیاد پر جرمن نیشنل ازم ،،قوم پرستی ،، شدت سے ابھر رہی تھی جس کی قیادت ایڈ ولف ہٹلر کر رہا تھا۔ اس کے اثرات ہندوستان پر بھی سیاسی انداز سے یوں مرتب ہو رہے تھے کہ ہند و قوم پرست جماعت 1925 ء میں آر ایس ایس کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ اسی سال ہندوستان میں کیمونسٹ پارٹی بھی وجود میں آچکی تھی۔ 1925 ء میں میثاق لکھنو کو طے ہو ئے نو سال ہو چکے تھے ، کانگریس 1885 ء میں اور مسلم لیگ 1906 ء میں جمعیت علما ہند 1919 ء وجود میں آچکی تھیں ، اِن جماعتوں میں بحیثیت سیاسی جماعت کانگریس ایسی جماعت تھی جس میں بہت سے کانگریسی لیڈر عالمی ، علاقائی اور قومی سطحوں پر ہو نے والی اِن تبدیلیوں سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اِن تبدیلیوں کے نتیجے میں ہندوستان میں ممکنہ طور پر ابھرنے والے مسائل کا بھی ادارک رکھتے تھے۔ جب کہ مسلم سمیت ہندوستان کی دیگر سیاسی
جماعتوں میں کو ئی ایسی جماعت نہیں تھی جس کو اِ ن عالمی سطح کے اِن معاملات اور مسائل کا علم ہو ،یہ ضرور تھا کہ علامہ محمد اقبال اور قائدا عظم ایسے مسلمان رہنما تھے جو بڑی گہرائی کے سا تھ اِن ابھرتے ہو ئے عالمی ، علاقائی اور قومی سطح کے مسائل سے واقف تھے۔ اِن مسائل کے حل کے کچھ منصوبے بھی اِن کے ذہنوں میں تھے۔ ہندوستان کی برٹش گورنمنٹ اور خصوصاً اس کے وائسرائے کی مشاورت سے بر طانوی حکومت انڈیا میں اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے دو بنیادوں پر منصوبہ بندی کرتی تھی۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی کا مستحکم اتحاد قائم نہ ہو ، یعنی انگریز تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول اپنا ئے ہو ئے تھا۔ مسلم لیگ جب 1906 ء میں قائم ہوئی تو اسی سال مسلم لیگ کے ایک وفد نے شملہ میں انگریز سرکار کے سامنے مسلمانوں کی شناخت اور حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ مطالبات پیش کئے تھے۔ جس میں ایک اہم مطالبہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ ووٹ کا حق تھا۔ 1909 ء Minto Morley Reforms منٹو مارلے اصلاحات میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ طریقہ انتخاب Separate Electorate کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا۔
اس قانون کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے نمائندے الگ ووٹ لسٹ کے ذریعے خود منتخب کر نے کا حق دیا گیا تھا۔ مگر یہ انگریز سرکارکی جانب سے تھا سیاسی طور پر ہند و جو اکثریت میں تھے اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور انگریز سرکار کی جانب سے جبراً نافذ کیا جانے والا قانون تصور کر تے تھے۔ اسی لیے قائد اعظم نے میثاق لکھنو کر وا کر اس کو جمہوری بنیاد پر مشترکہ ہندوستان کا مشترکہ موقف کا قانون بنا یا تھا ،1924-25 ء کے عرصے میں عالمی سطح پر جو اہم تبدیلیاں ہوئیں اِن میں جزیرہ نما عرب یا حجاز مقدس میں اقتدار کی جنگ تھی انگریز وں نے ترکیہ کی خلافت عثمانیہ کی شکست کے بعد اقتدار آل ہاشم ( ہاشمی خاندان ) کے سپرد کر دیا تھا اس کے حکمران شریفِ مکہ ،،شاہ حسین بن علی الہاشمی ہو ئے۔ اِن کے بعد اُن کے بیٹے شاہ علی بن حسین تھے جن کو شاہ عبدالعزیزابن سعود کی نجدی فوجوں نے شکست دے بادشاہت حاصل کی۔ نجد ، حجاز اور مدنیہ کی فتح کے بعد حجاز مقدس کا نام ابن سعود کی مناسبت سے ( سعودی عرب ) رکھا۔ 1925 ء کے اکتوبر اور دسمبر میں Locarno Treaties معاہدوں کا مقصد پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپ میں قیام کے لیے سرحدی استحکام کو یقینی بنانا تھا ،1925 ء ہی میں اٹلی میں موسو لینی کی آمریت قائم ہو ئی اسی سال یعنی 1925 ء ہی میں کارل مارکس کی کتاب ،،میں کیمپف Mein Kampf اور ہٹلر کی میری جدوجہد کی پہلی جلد شائع ہو ئی واضح رہے کہ اِن کتابوں میں تخلیق کئے گئے نظریات نے اُس وقت نہ صرف دو ارب سے زیادہ انسانی آبادی کو کسی نہ کسی انداز سے متاثر کیا بلکہ 1945 ء میں اِن ہی نظریا ت کی بنیاد پر تقریباً دس کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہو ئے۔
عالمی سطح کی ادبی تخلیقی اور تحقیقی سرگر میوں بھی جنگ عظیم اوّل کے بعد کا یہ زمانے یعنی 1925-26 ء اہم رہا اس دوران امریکہ کے F.Scott The Great کا مشہور ناول Fitzgerald شائع ہوا جبکہ امریکہ 1925 ء Gatsby میں ارتقا کی تدریس پر بحث کا مشہور، Scopes Trial، بھی اسی سال شروع ہوا۔ مغربی معاشروں کے سماجی تعلیمی تحقیقی ارتقا میں ڈارون کے ارتقا کے قوانین کو بنیادی اہمیت حاصل ہے مگر 1920 ء کی دہائیوں میں بنیاد پرستو ںکی جانب سے ڈارون کے نظریا ت کی تدریس کی مخالفت بہت شدید تھی۔ 1925 ء میں اسکوپس مقدمہ جس کو منکی ٹرائل بھی کہا جا تا ہے اس کی اہم مثال ہے۔ ہائی اسکول کے ٹیچر جان ٹی اسکو پس پر بٹلر ایکٹ کی خلاف ورزی کر تے ہو ئے چارلس ڈارو ن کا نظریہ ارتقا پڑھانے پر مقدمہ چلا یا گیا تھا۔ مارچ 1925 ء میںامریکہ کی اس ریاست میں قانون منظور ہو ا تھا۔ جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں ایسے نظریات کو پڑھا نا جرم تھا جو بائبل میں بیان کردہ تخلیقِ انسانی کے واقعے کی نفی کر تا ہو۔ ڈیٹن کے مقامی تاجروں اور امریکن سول لبرٹیزیونین نے اس قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے ایک آزمائشی مقدمے کا منصوبہ بنا یا اور24 سالہ استاد جان ٹی اسکوپس کو بطور مدعا علیہ ( ملزم ) تیار کیا۔ 10 سے21 جولائی 1925 ء تک چلنے والے اس مقدمے میں اسکوپس کو 100 ڈالر کا جرمانہ عائدکیا گیا۔ یہ قانون 1967 ء تک قائم رہا۔
یہاں قائداعظم کے سیاسی سفر کے اعتبار سے عالمی سطح کے اس قانون اور مقدمے کا حوالہ اس لیے دیا گیا کہ مغرب کے معاشروں میں اُس وقت علمی تحقیقی ارتقا ئی عمل کس سطح کا تھا۔ برصغیر میں خصوصاً مسلم معاشرہ کہاں کھڑا تھا یہاں وضاحت ضروری ہے کہ معاشرتی سماجی ارتقائی عمل کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ٹھوس حقائق اگر بنیاد بنیں تو اجتماعی فکر میں وسعت آتی ہے لیکن ہندوستان میں ایسا نہیںتھا عوام شعور کی بیداری کے لحاظ سے بہت پیچھے تھے۔ قائد اعظم زمانے کی رفتار کے ساتھ اور جدید تقاضوںکے مطابق ہندوستان کی آزادی اور استحکام چاہتا تھا۔ اسی طرح امریکہ کے عظیم ناول نگار F.Scott Fitzgerald نے 1925 ء میں The Great Gatsby شائع کیا۔ اگر چہ اس ناول نگار نے چار ناول لکھے مگر اس ناول کو دنیا کا اپنے وقت مشہور ترین ناول قرار دیا گیا۔ اِن ناولوں میں ہندوستانی معاشرتی ارتقا سماجی مسائل کا ادبی انداز میں کھلے ذہین کے ساتھ جائز نہیں ملتا۔ ناول ایسی یورپی ادبی نثری صنف ہے جو آج بھی مغرب میں تھیٹر کی طرح مقبول ہے۔ ناول نے معاشرتی سماجی سیاسی شعور کی بیداری اور ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ تھا کہ اُس وقت ہندوستان کے مسلمانوں میں نہ صرف شرح خواندگی آٹھ سے نو فیصد تھی بلکہ پڑھے لکھے افراد میں بھی ناول پڑھنے کا روحجان مغربی معاشروں کے مقابلے میں50 فیصد کم تھا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فرانس کے انقلاب ، امریکہ کی خانہ جنگی روس کے اشتراکی انقلاب میں ایک بنیادی نکتہ وہ لٹریچر تھا جسے ہر دوسرا فرد پڑھتا اور پھر اپنے اِن پڑھ ساتھیوں کو بھی سناتا اور سمجھاتا تھا ، جب کہ بر صغیر کے مسلمانوں اب بھی روایت ہے کہ وہ مرغی بھی مولوی صاحب ہی سے ذبح کرواتے ہیں۔ ایک فیصد سے بھی کم افراد ترجمے کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ ہزاروں میں سے کو ئی ایک قرآن کی تفسیر پڑھتا ہے۔ 1857 ء کی جنگ کے بعد اگرچہ سر سید کے علی گڑھ کالج نے ایک طرف اہم کردار ادا کیا دوسری جانب مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا فضل الرحمن عثمانی اور حاجی سید محمد عابد دیوبندی نے دیوبند مدرسہ کے سبب مثبت تبدیلی لائی تھی اور تعلیم کے شعبے میں ایک توازن قائم کیا تھا۔ مگر یہ اب بھی تناسب کے اعتبار سے مغربی معاشروں کے مقابلے میں ابھی بہت کم تھا۔ برصغیر کے ہندوں کے مقابلے میں بھی مسلمان شعور و آگہی کی بنیاد پر پچاس فیصد پیچھے تھے، یہی وجہ تھی کہ انگریز لاکھ سے بھی کم تعداد میں ہو نے کے باوجود اُس وقت بھی سیاسی سماجی انجیئرنگ کرکے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا تھا ۔
برٹش انڈیا کے دور دراز علاقے کو ہاٹ میں 8 ستمبر1924 ء کو شہرکوہاٹ میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور ایک ہی رات میں 3200 ہندو شہر چھوڑ گئے۔ شہر میں لگائی جانے والی آگ ایک ہفتے تک نہ بجھائی جا سکی۔ زیادہ تر ہندوںکی دکانیں اور گھر جلا دیئے گئے۔ 150 افراد جاں بحق ہو ئے جن میں 70 فیصد سے زیادہ ہندو تھے۔ ہندوں نے یہاں سے فرار ہو کر راولپنڈی میں پناہ لی جو اُس وقت بھی ایک بہت بڑی اور اہم چھا ونی تھی۔ اِن فسادات کا پس منظر یہ تھا کہ 1919 ء سے 1924 ء کے درمیان کو ہاٹ میں تقریباً 150 ہندوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ جواب میں کو ہاٹ میں ہندووں کی مذہبی تحریکیں آریہ سماج اور سنا تن دھرم یہاں کا فی متحرک ہو گئی تھیں۔ سماجی طور پر اور مالی اعتبار سے ہندو تعداد میں کم ہو نے کے باوجود بہتر پوزیشن میں اس لیے تھے کہ اِن کی اکثریت کارو بار سے وابستہ تھی اور تعلیم یافتہ تھی۔ کوہاٹ میں ان فسا دات سے پہلے ایسی تحریریں اور شاعر ی سامنے آئی تھی جس سے مسلمانوں کے جذ بات مجروح ہو ئے تھے۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ امن پسند اور صلح جو مسلم علما اور ہندو رہنماؤں نے انتظامیہ خصوصاً انگریز چیف کمشنر ایچ این ہو بولٹن تک کو اور مقامی انگریز انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا مگر بر وقت کو ئی کاروائی نہ ہوئی۔
اسی تاخیر کی وجہ سے یہ ہند و مسلم فسادات ہوئے۔ جب فسادات شروع ہوئے ، تو سب سے پہلے مسلمانوں نے ہندوں کے محلوں پر حملے شروع کئے پہلے حملے میں سردار مکھن سنگھ کے گھر کو جلا یا گیا جس کا بیٹا کچھ عرصہ پہلے کو ہاٹ سے ایک مسلمان لڑکی کو لے کر بھاگ گیا تھا۔ واضح رہے کہ تحریک خلافت کے دوران جب گاندھی جی نے تحریک خلافت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو کانگریس کے اہم مسلم رہنما مولانا ابو کلام آزاد مولانا محمدعلی جوہر اور مولانا ظفر علی خان کے متحرک تھے۔ اور پورے ہندوستان میں بہت گرم جوشی سے ہند و مسلم بھائی چارے کی فضا قائم ہو گئی تھی۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ برٹش سرکاراس ہندو مسلم تحاد سے کا فی گھبرائی ہو ئی بھی دکھائی دیتی تھی۔ 1919 میں جیانوالہ باغ کا واقعہ پیش آیا تھا اسی سال تیسری اینگلو افغان جنگ ہوئی تھی تحریک خلافت اور گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک یہ ماحول تھا کہ جس میں کو ہا ٹ کا یہ واقعہ انتہائی اہم تھا، جس سے ہندو مسلم اتحاد کی فضا کو ناقابل ِ تلافی نقصا ن پہنچا۔ حالانکہ اس واقعہ کی مذمت میں اور ہندومسلم اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے گاندھی نے21 دن کی بھوک ہڑ تال کی تھی۔
شواہد اِن امکانات اور اندیشوں کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ہندو مسلم انتہا پسندوں کے علاوہ انگریز سر کار بھی درپرد ہ کہیں اِن سازشوں میںملوث تھی۔ 1921 ء سے1926 ء تک انڈیا کے گورنر جنرل اور وائسرائے لارڈ ریڈنگ تھے لارڈ ریڈنگ کا دور ہندوستان میں جنگ عظیم اوّل کے خاتمے کے بعد کا اہم دور ہے۔ اِن کی ہندوستان میں بحیثیت وائسرائے اور گور نر جنرل تعیناتی کے فوراً بعد 1921 ء ہی میں پرنس آف ویلز نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اِن کی اہلیہ کے نام پر لاہور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال قائم کیا گیا تھا۔ لارڈ ریڈنگ نے ایک خط بر طانیہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کو23 جولائی 1924 ء کو لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں ’’گاندھی موو منٹ کامیاب تو نہیں ہو سکتی مگراس سے یہ اثر ضرور ہواہے کہ مسلم ہندوں سے مل گئے ہیں جس سے ہمیں بڑا چیلنج یہ ہے کہ مسلمانوں اور ہندوں میں نفاق کس طرح پیدا کیا جا ئے۔ میرا یہ خیال ہے کہ یہ کام تاج ِ بر طانیہ کے لیے نا گزیر ضرورت بن چکا ہے‘‘۔ اس دوران خصوصا ً 1923 ء سے 1927 ء کے دوران چار برسوں میں 88 ہندو مسلم فسادات ہو ئے۔ یہ زیادہ تر شمالی ہندوستان میں ہوئے مگر ہندو مسلم اتحاد کو شدید نقصان اُس وقت پہنچا جب گاندھی نے چورا چوری کے پُر تشدد واقعہ کے بعد اچانک اور مسلم رہنماؤں سے مشاورت کئے بغیر تحریک کو ختم کر نے کا یک طرفہ اعلان کر دیا۔جس کے بعد ہی ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔
اس صورتحال پر قائداعظم اور علامہ اقبال کی نظر تھی۔ اگر چہ 1925 ء میں ہندوستان میں کیمو نسٹ پارٹی موجود تھی جبکہ آر ایس ایس جیسی تنگ نظر مسلم دشمن ہندو مذہبی جماعت کا قیام بھی عمل میں آ چکا تھا ، لیکن اِن جماعتوں کی عوام میں قبولیت کی سطح بہت کم تھی۔ ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس تھی ۔ کانگریس کے بعد مسلم آبادی کی نمانید ہ جماعت مسلم لیگ تھی۔ 1916 ء کے میثاق لکھنو اور تحریک خلاف کے دوران شروع میں گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل سے ہند و مسلم اتحاد کو کافی تقویت ملی تھی ، باوجود اس کے کہ بعد میں گاندھی جی کے یکہ طرفہ فیصلے سے مسلمان بد دل ہو ئے تھے۔ پھر بھی میثاق لکھنو ہندو مسلم اتحاد کا ایک مو ثر معاہدہ تسلیم کیا جا رہا تھا مگر اس دوران ایک جانب کو ہاٹ کے ہندومسلم فسادات کے بعد ایسے واقعات شروع ہو گئے تھے جن کی وجہ سے یہ ہندو مسلم اتحاد اب قدرے کمزور ہو تا دکھائی دے رہا تھا۔ اس اتحاد کا کمزور ہو نا انگریز سرکار کے حق میں تھا۔ ہند و مسلم فسادات سے مقامی طور پر ہندو مذہبی پارٹیوں خصوصاً آر ایس ایس کو بہت فائد ہ تھا ، یہ جماعت پُر جوش انداز میں سامنے آئی تھی اِس کے نظریات شروع ہی سے مسلمانوں کے خلاف، تعصب اور نفرت پر مبنی تھے۔
یوں اُس فضا میں ہندو مسلم اتحاد کے حامیوں میں یہ تاثر عام تھا کہ انگریز سرکار کی خاموش اور درپردہ کوششوں اور سازشوں سے ہندوستان میں ہند و مسلم تصادم کے پے درپے واقعات رونما ہو نے لگے تھے۔ ایسی بھی صورت سامنے آنے لگی تھی کہ کانگریس کے اندر بھی ہندو بنیاد پرستوں کا اثر بڑھنے لگا تھا ،کچھ مسلم مذہبی بنیاد پرست افراد بھی سخت موقف کے حامی تھے۔ دوسری جانب ہندوستان کی کیمو نسٹ پارٹی جو 1925 ء قائم ہو چکی تھی اس کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھ گئی تھی کہ لینن کے انتقال کے بعد اسٹالن نے نہ صرف سوویت یونین کو مستحکم کر لیا تھا بلکہ مشرقی یورپ سمیت دنیا کے اہم ملکوں میں کمیو نسٹ کے نظریات کو برآمد بھی کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ کارل مارکس نے بھی اپنے نظریات کی بنیاد پر 1853 ء سے 1860 ء کے درمیان امریکی اخبار New-York Daily Tribune میں ہندوستان میں بر طانیوی راج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے سے اہم مضامین لکھے تھے۔ بعد میں کارل مارکس اور فریڈرک اینجلس نے ان مضا مین کو کتابی شکل میں شائع کیا تھا اور اس کتاب کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہو ئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ 1925 ء میں روسی ادیبوں کی کتابیں بھی ہندوستان میں پڑھی جانے لگیں تھیں یہ ہندوستان کے لیے نظریاتی اعتبار سے فکر و شعور کاارتقائی دور تھا اور برصغیر کے ادیب شاعر اس سے متاثر ہو رہے تھے۔ مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے سیکولر سماجی اور حکومتی پالیسی کے اصول آل انڈیا گانگریس نے اپنائے تھے جو اس وقت کے لبرل آزاد خیال ہندو اور مسلمانوں دونوں کے لیے قابل قبول تھے ۔ اس میں طبقاتی ہم آہنگی یوں تھی کہ مسلمان تقدیر پر اور ہند و ،،ہونی،، کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے ، اس سیکولرازم میں ہندوستان کے رسم و راوج کے مطابق معاشرتی اجتماعی زندگی کا نظام صدیوں سے جاری تھا ۔ مگر کیمو نزم ،، اشتراکیت میں مذہب کی نفی تھی اس کے نظریات میں مذہب کو افیون خیال کیا جاتا تھا اشتراکی معاشرتی ناہمواری کے خلاف تھے وہ طبقاتی تقسیم کی بجائے انسان کی برابری کا تصور پیش کر تے تھے۔
اس کے مقابلے میں ہندو دھرم ذات بات کی تقسیم کی بنیاد پر قائم تھا۔ مسلمانوں پر بھی اس کے اثرات تھے اگر چہ ہندو ں کے مقابلے میں اِ ن کی شدت کم تھی۔ ہندوستان کی فضا اور ماحول اس اعتبار سے اشتراکی نظریات کے پھیلاؤکے لیے بہت سود مند دکھائی دیتی تھی۔ 1917 ء میں روسی اشتراکی انقلاب نے پوری دنیا میں کیمونسٹ نظریا ت کے حامی مزدوروں ، کسانو ں میں ایک یقین پیدا کر دیا تھا کہ وہ انقلاب کے ذریعے بڑی سے بڑی بادشاہت اور حکومت کا تختہ الٹ کر مزدروں کسانوں کی اشتراکی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ کیمونسٹ پروپیگنڈا اور لٹریچر ترقی پسند ادب خصوصاً اشتراکی نظریات کا حامل ادب بہت موثر اور معیاری ادب ہے۔ اس نے اُس وقت بھی دنیا کو متاثر کیا ،آج بھی کرتا ہے۔ شتراکی پروپگنڈہ ہندوستان میں جاری رہا۔ جس سے لوگ متاثر ہوتے تھے۔ اِن حالات میں مختلف الخیال سیاسی جماعتیں بھی وجود میں آگئی تھیں مگر سماجی سیاسی شعور کی سطح اس لیے بلند نہیں تھی کہ ایک تو ہندوستان میں محب وطن جاگیردار طبقہ مو جود نہیں تھا، تقریباً تما م نوابین، راجے مہا راجے انگریزوں کے وفادار تھے اور دوسری جانب یہاں شرح خوندگی بھی نہایت کم تھی ۔