چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان اسکیم‘‘ کے سپاہی

برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمان تقریباََ آٹھ سو سال تک حکمران رہے اور بالآخر برطانوی سامراج سے شکست کھا گئے



اس دعویٰ میں کوئی مبالغہ نہیں کہ پاکستان، دنیا کا واحد ملک ہے جو المُسلِمونَ اَمَّۃٌ واحد کے معروف نظریہ کی اساس پر جمہوری طریقے سے معرض وجود میں آیا ہے۔ کہنے کو تو یہ نظریہ چودہ سو سال پرانا ہے۔ اس خرمن کا ابتدائی خاکہ، چودھری رحمت علی کی مجتہدانہ آراء کا مرہون منت ہے۔ چودھری رحمت علی کے مجتہدانہ جغرافیائی خاکے، جنوبی ایشیا کے جدید اسلامی نظریاتی شعور کی بنیاد ہیں۔ یہی نظریاتی شعور، تحریک پاکستان کی جان تھا اور اب اور آئندہ اسی سے ہماری پہچان وابستہ ہے۔

بزم شبلی کے اجلاس منعقدہ اسلامیہ کالج لاہور 1915ء میں آزاد اسلامی ریاست کا تصور پیش کرنے والی ہستی نے جس کی عمر اُس وقت اٹھارہ برس تھی نے جب اپنی سوچ فکر کو تحریک کا نام دیا تو بہت جلد یہ تحریک اُن کی محنت اور جدوجہد سے تحریک قیام پاکستان کے مطالبے کی صورت اختیار کرگئی جس کے لیے آپ نے نہ صرف خوبصورت نام پاکستان تجویز کیا بلکہ اُس کا جھنڈا بھی بنایا اور اُس ہستی نے اپنی تمام عمر تحریک قیام پاکستان کی نذر کردی۔

چودھری رحمت علی کا نام آتے ہی ذہن 23 مارچ 1940سے پہلے کے دور کی طرف لوٹتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز نے منتشر ہندی مسلمانوں میں مختلف تنظیموں اور انجمنوں کی شکل میں یک جائی کا احساس ابھرتے دیکھا۔1933ء میں اس دیرینہ احساس تشخص کو چودھری رحمت علی نے واضح جغرافیائی خدوخال دئیے لیکن کاروانِ احساس کے سفر کا یہ موڑ، انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ نادان دوستوں اور دانا دشمنوں نے اس موڑ پر فکری اور منطقی شکوک و شبہات کی رکاوٹیں کھڑی کردیں اور قافلے والوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے بھرپور قلمی یلغار کا آغاز کیا۔ اس یلغار میں ہندو دانشور، نیشنلسٹ مسلمان اور حکمران انگریز سبھی مصروفِ کار نظر آتے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے 1937ء اور 1940ء کے رحمت علی کے افکار سے سرشار چند نوجوان مفکروں نے مجلسِ کبیر پاکستان کے نام سے ایک فکری حلقہ قائم کیا اور اپنے مضامین و مقالات کے ذریعہ قرارداد پاکستان کے لیے زمین ہموار کی۔ اس قلمی جہاد میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر اصحاب، مرزا عبداللّہ انور بیگ، خورشید عالم، احمد بشیر، ظفر علی گوندل اور محمد یونس کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد نوجوانوں نے اُن کی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور اُن کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد کی۔

برصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمان تقریباََ آٹھ سو سال تک حکمران رہے اور بالآخر برطانوی سامراج سے شکست کھا گئے۔ چونکہ ہندو اور مسلمان برسوں کی معاشرتی اور وطنی رفاقت کے باوجود دو مختلف مذاہب کے پیرو اور دو علیحدہ تہذیبوں کے علم بردار تھے اور اپنے اصول حیات ومعاشی مفاد نیز سیاسی عزائم اور قومی تصورات کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔ لیکن مسلمانوں نے ہندوؤں کے اس کھیل کو بخوبی بھانپ لیا اور ان کا قومی مؤقف واضح ہوکر سامنے آگیا کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں ایک نہیں بلکہ دو قومیں آباد ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل یہی تھا کہ برصغیر میں ایک کی بجائے دو آزاد اور خودمختار مملکتیں قائم ہوں اور جن علاقوں میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے، وہاں ایک آزاد مملکت بنا دی جائے۔ تقسیم ہند اور قیامِ پاکستان کی بنیاد یہی دو قومی نظریہ تھا جو اسلام کے نظریہ قومیت کی عملی تفسیر تھا۔ چودھری رحمت علی کی فکری کاوشیں اور ان کے تتبع میں، مجلسِ کبیر پاکستان کا قلمی جہاد، تحریک و نظریہ پاکستان کی روشن تاریخ ہے۔

چودھری رحمت علی (1897 -  1951)

آپ 16نومبر 1897ء کو موضع موہر، تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چھوٹے سے قصبہ بالا چور (ہوشیار پور) اور راہوں (جالندھر) میں حاصل کی۔ بعدازآں بعد 1911ء میں اینگلو سنسکرت ہائی اسکول، جالندھر میں متعلم رہے، جہاں سے 1914ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اسی سال، اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور 1919ء میں بی۔اے کیا۔ دوران تعلیم، کالج کے مجلہ ’’کریسنٹ‘‘ کی ادارت کی اور 1915ء میں ’’بزمِ شبلی‘‘ کی بنیاد رکھی۔

بی۔اے کرنے کے بعد لا کالج لاہور میں سے 1923تا 1925 تک تعلیم حاصل کرتے رہے لیکن ڈگری نہ حاصل کرسکے۔ بعد ازاں کچھ عرصے کے لیے منشی محمد دین فوق کے مختلف رسالوں اور اخبارات میں بطور ایڈیٹر کام کرنے لگے اور ایچی سن کالج لاہور میں بطور ’ہاؤس ماسٹر‘ بھی کام کیا۔ 1930ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔ نومبر 1930ء میں "Inner Temple Inn" میں شمولیت اختیار کی اور 26جنوری 1931ء سے ایمینول کالج میں تعلیم حاصل کرنے لگے جہاں سے آپ نے 1933 میں بی۔ اے کیا اور 1940ء میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1943ء میں ’’بار‘‘ تک رسائی حاصل کی۔

چودھری رحمت علی نے اس تخیل کی آبیاری کے لیے 1933ء میں ’’پاکستان نیشنل موومنٹ‘‘ کے نام سے، سات اُصولوں کی بنیاد پر، تحریک کی داغ بیل ڈالی اور اس ضمن میں ایک پمفلٹ بعنوان "What does the Pakistan National Movement Stand for?" شائع کیا۔

تحریک کے دوران جتنے بھی پمفلٹ اور کتابچے شائع ہوتے رہے، چودھری رحمت علی، باقاعدگی سے ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو بھجواتے رہے، جن سے مسلم طلباء کی مختلف تنظیمیں، کماحقہ مستفید ہوئیں۔ ان میں مجلسِ کبیر پاکستان کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ اگرچہ آپ انگلستان میں مقیم تھے لیکن مجلس نے مرکزی دفتر کی اعزازی نشست ان کے لیے خالی رکھی جاتی تھی۔

مارچ 1940ء میں چودھری رحمت علی کراچی تشریف لائے تو خصوصی طور پر مجلس کے اراکین سے ملاقات کی اور تحریک پاکستان سے متعلق، مجلس کی کار گزاری سے بے حد متاثر ہوئے۔ ایک حوالہ کے مطابق چودھری رحمت علی کی خواہش تھی کہ انہیں مسلم لیگ کے اجلاس، لاہور میں قراردادِ پاکستان پیش کرنے کی دعوت دی جاتی اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ مارچ 1940ء میں انگلستان سے کراچی آئے تھے۔

دنیا کے کئی ملکوں کے نام، نام ور شخصیات کے حوالے سے تو ہوسکتے ہیں لیکن شاید تاریخ کی یہ انوکھی مثال ہے کہ کسی ملک کے قیام سے کئی سال قبل اس کے تخیل، نام اور حدودِ اربعہ نے کسی شخص کے ذہن میں جنم لیا ہو اور وہ تخیل، عملی طور پر وقوع پذیر ہوکررہا ہو۔ یہ سہرا چودھری رحمت علی کے سر ہے کہ انہوں نے لفظ پاکستان کی تخلیق کی اور پاکستان کے قیام کے لیے قلمی تحریک کی ابتداء بھی خود ہی کی۔ اس عظیم ہستی کا انتقام 3فروری، 1951ء کو علالت کے باعث کیمبرج، انگلستان میں ہوا اور آپ وہیں مدفون ہوئے۔ تاریخ عقیدہ نہیں، تجزیہ ہے اور یہ کہنا انسب ہوگا کہ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ خالقِ لفظ پاکستان کی آخری آرام گاہ اور پاکستان کے درمیان ہزاروں میل کے فاصلہ نے لازم و ملزوم کو ایک دوسرے سے جدا کررکھا ہے۔

مرزا عبداللہ انور بیگ (1907)

آپ 1907ء میں ضلع فیروزپور کے ایک پرانے مغل خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک مشہور حکیم، اور فارسی زبان کے عالم تھے۔ مرزا عبداللّہ انور بیگ نے 1931ء میں اسلامیہ کالج، لاہور سے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ زمانہ تعلیم میں ملک کی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے تھے اور کبھی کبھی کسی مخصوص موضوع پر اخبار کے لیے بامعنی مضمون بھی لکھتے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد، سرالیگزنڈر ولسن کی سرپرستی میں ’’مسلم آوٹ لک‘‘ (لاہور) سے فنِ صحافت کا ابتدائی تعارف حاصل کیا۔ اس کے بعد، لاہور سے شائع ہونے والے ہندو کانگرس کے انگریزی اخبار ’’ٹریبیون‘‘ میں مسٹر کے۔ این۔ رائے کی نگرانی میں اپرینٹس شپ اختیار کی۔ بعد ازاں، مرزا عبداللّہ انور بیگ، مسلمانوں کے ترجمان اخبار ’’ایسٹرن ٹائمز‘‘ (لاہور) میں کام کرنے لگے۔ آپ نے اس اخبار کے ایڈیٹر، عبدالمجید راؤ، جو بذاتِ خود، انگریزی کے مستند ادیب تھے کی رہنمائی میں صحافت کے میدان میں مزید جلاپائی۔ اسی دوران، مرزا عبداللّہ انور بیگ کو، لاہور کے انگریزی اخبار ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں سیاسی مضامین لکھنے کا موقع ملا اور اندریں اثناء مرزا صاحب نے تعلیم بھی جاری رکھی۔ 1933ء میں اورینٹل کالج سے ایم۔ ا ے فارسی اور 1936ء میں لاء کالج، لاہور سے ایل۔ ایل۔بی کی سند حاصل کرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ اسی سال مرزا عبداللّہ انور بیگ نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ’’عالمگیر ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنی زور دار تحریروں سے استفادہ کرتے ہوئے "The Passing Caravan" جیسے پمفلٹ شائع کرنے کی ابتدا کی۔ مرزا صاحب کی معروف کتاب "Since Our Fall" ان کا ایک مشہور علمی کارنامہ ہے، جس میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیائے اسلام کی سیاسیات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ ازاں بعد 1938ء میں انہوں نے سیاسیات ہند پر ایک اور تصنیف ’’تعمیرنو‘‘ شائع کی۔ 1942ء میں مرزا اسد اللّہ خان غالب کی زندگی اور ان کے کلام پر ایک کتاب بعنوان "An Introduction to Persian Literature" شائع کی۔ ’’اول الذکر کتابوں کو شائع کرنے کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ یاد دلا کر، آیندہ متوقع سیاسی تبدیلیوں کے پیشِ نظر، برصغیر میں مسلمانوں کو ایک نئی سلطنت کی تشکیل کے لیے مستعد اور ہوشیار رکھنا تھا۔‘‘    

23مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان منظور ہونے کے بعد، مرزا صاحب، قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر، دوسرے ساتھیوں کی معیت میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ بعد ازاں سٹی مسلم لیگ لاہور کے لیے بحیثیت جنرل سیکرٹری قیامِ پاکستان تک انتھک کام کرتے رہے۔ مرزا صاحب سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ میں بطور سینئر ایڈووکیٹ وکالت کرتے رہے انتقال کرچکے ہیں۔

احمد بشیر (1920ء)

آپ 1920ء میں مردان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1939ء میں بی۔ کام (آنرز) کیا اور 1941ء میں یہیں سے ایم۔ اے اکنامکس کی سند حاصل کی۔ دورانِ تعلیم، احمد بشیر نے چودھری رحمت علی کی ’’پاکستان نیشنل موومنٹ‘‘ کے لیے خلوصِ نیت سے کام کیا۔ آپ مجلسِ کبیرِ پاکستان کے بانی ممبر کی حیثیت سے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر 1940ء تک کام کرتے رہے۔ احمد بشیر نے مجلس کی طرف سے قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلمان اور ہندو لیڈروں کے علاوہ لارڈ لنلتھگو اور لارڈ زیٹ لینڈ کو بھی تحریک پاکستان کے حق میں خطوط ارسال کیے۔

 اس اجلاس میں حمید نظامی، امجد حسین اور سید عنایت علی شاہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ قائداعظم نے 1940ء میں حاجی سرعبداللّہ ہارون کی سرکردگی میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی جس کے ذمہ یہ فرض سونپا گیا کہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے ضمن میں مختلف سکیموں پر غوروغوض کرکے، مسلم لیگ کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ اس کمیٹی میں احمد بشیر کو بھی نامزد کیا گیا۔ قراردادِ پاکستان منظور ہونے کے بعد آپ قائداعظم کی ہدایت پر آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ آپ نے چودھری رحمت علی کی پاکستان اسکیم کی تجویز پیش کی۔

احمد بشیر نے تقریباََ 34 سال بطور صحافی اور ایڈیٹر کام کیا۔ 1941ء میں انہوں نے صحافتی زندگی کی ابتداء بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر، اورینٹ پریس آف انڈیا کی لاہور شاخ سے کی۔ بعد ازآں، اسی ادارے میں ترقی پانے کے بعد 1946ء میں ایک انگریزی ہفت روزہ (Sind Times) میں بطور ایڈیٹر، شمولیت کی جس سے آپ اپریل 1947ء تک منسلک رہے۔ کچھ عرصہ بعد کراچی سے روزنامہ ’’قندیل‘‘ شائع کیا اور یکم فروری 1949ء کو اے۔ پی۔ آئی ( بعد ازآں اے۔ پی۔ پی) میں ملازمت اختیار کی اور چھے ماہ بعد بیورومینجر کی حیثیت سے پشاور منتقل ہوگئے۔ 1972ء میں احمد بشیر، اے۔پی۔پی سے بحیثیت ریجنل ایڈیٹر مستعفی ہوئے۔ صحافتی زندگی کے علاوہ احمد بشیر نے بعض انتظامی عہدوں پر بھی کام کیا۔ اکتوبر 1972ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، اسلام آباد میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے جہاں آپ مارچ 1973ء تک رہے۔ اس عہدے سے احمد بشیر کو پاکستان کے سابق وزیراعظم، ذوالفقار علی بھٹو کے حکم سے سبکدوش کیا گیا۔ جون 1975ء سے دسمبر 1975ء کے عرصے کے دوران، احمد بشیر، اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں بطور سیکرٹری، اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور آخر کار اے۔پی۔پی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے اور اسی حیثیت سے ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔

خورشید عالم (جہاں گرد) 1911ء

آپ 12دسمبر 1911ء کو تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور گوجرخان سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1932ء میں گارڈن کالج، راولپنڈی سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی اور اپنے علاقے کے مسلمانوں میں تعلیم اور اخبار بینی کا شوق پیدا کرنے کا عزم کیا۔ آپ نے گوجر خان میں ’’اقبال مسلم لائبریری‘‘ قائم کی جو تھوڑے ہی عرصہ میں ایک ثقافتی مرکز بن گیا۔ ازاں بعد لاہور منتقل ہونے پر پوسٹ ماسٹر جنرل (لاہور) کے دفتر میں ملازمت اختیار کی جہاں سے چند سالوں کے بعد مستعفی ہوگئے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ خورشیدعالم ہی ’’مجلسِ کبیرِ پاکستان‘‘ کے روح ِ رواں تھے جس کا بین ثبوت اُن کے وہ بیشتر مقالات ہیں جو زیرِنظر تصنیف میں شامل کیے گئے ہیں، جس جرأت اور پامردی سے انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے تخیل کو پسِ پردہ رہ کر ایک خاموش تحریک کے ذریعہ عوام تک پہنچایا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے ’جہاں گرد‘ ’ایک پاکستانی‘ اور بت شکن جیسے قلمی ناموں سے اخبارات میں پاکستان کے عنوان سے پرمغز اور مدلل مقالات قلم بند کرکے مسلمانانِ برصغیر کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ مجلسِ کبیرِ پاکستان کی طرف سے پاکستان کے عنوان کے تحت جو اولین مضامین شائع ہوئے وہ خورشید عالم ہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ تحریک کے دوران بیشتر مسلمان اور ہندو رہنماؤں کو خطوط کے ذریعہ پاکستان کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کی سعی کے محرک بھی آپ ہی تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ خورشید عالم نے برصغیر کی سیاسیات کے بعض موثر اور منفرد سیاسی زعماء سے بنفسِ نفیس ملاقاتیں کرکے مسلمانانِ ہند کے مسائل کے واحد حل ’’تقسیمِ ہندوستان‘‘ کے ضمن میں مجلسِ کبیرِ پاکستان کا نظریہ پیش کیا اور چودھری رحمت علی کی پاکستان اسکیم کو آگے بڑھایا۔

خورشید عالم کو یہ شرف حاصل ہے کہ مجلس کے کارکنوں کی معیت میں آپ نے قائداعظم محمد علی جناح سے پاکستان سکیم کے ضمن میں مارچ 1940ء میں لاہور میں ملاقات کی۔ لیگ کی طرف سے قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد قائداعظم ہی کے حکم کے تحت، آپ مسلم لیگ میں ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے شامل ہوگئے۔

1940ء میں سیاسیاتِ ہند اور مسلمانوں کے نکتہ نظر کے حوالے سے ایک قابلِ ذکر کتاب بعنوان ’’شاہرہ پاکستان‘‘ آپ کے قلمی نام ’جہاں گرد‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ زیڈ۔ اے۔ سلہری کی معرکۃ آلاراء تصنیف "My Leader" کا اُردو ترجمہ بعنوان ’’ہمارا قائد‘‘ کرنے والے بھی خورشید عالم ہی تھے۔

1942ء میں خورشید عالم نے محکمہ ڈاک و تار کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں ملازمت اختیار کی۔ 1947ء میں ملازمت سے طویل رخصت حاصل کرکے کراچی سے روزنامہ ’’قندیل‘‘ اپنی ادارت میں شائع کیا جس کے سابقہ ایڈیٹر احمد بشیر تھے۔ 1951ء میں خورشید عالم، کراچی کے انگریزی اخبار ’’ایوننگ ٹائمز‘‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔ 1958ء میں انہوں نے لاہور سے چھپنے والے انگریزی روزنامے ’’دی سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے عہدے پر کام کرنا شروع کیا اور بعد ازآں اسی روزنامہ میں ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں خورشید عالم نے روزنامہ پاکستان ٹائمز لاہور میں ملازمت اختیار کی لیکن 1963ء میں مستعفی ہوگئے۔ بعد ازآں لاہور سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ میں بطور ایڈیٹر عرق ریزی کی۔ چند سال ’ڈائجسٹ‘ میں ایڈیٹر رہنے کے بعد، مرحوم حامد محمود کے انگریزی روزنامہ ’’نیشنل نیوز‘‘ سے منسلک ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد ہفتہ وار ’’نصرت‘‘ اور روزنامہ ’’مساوات‘‘ (لاہور) میں ڈیڑھ سال کام کرنے کے بعد صحافتی زندگی کو خیرباد کہہ دیا۔ آج کل خورشید عالم، اپنے چھوٹے بھائی، عنایت اللّہ کے معروف ماہانہ، حکایت (لاہور ) کی سرپرستی کا فرض نبھایا۔ 8 نومبر 2001ء کو لاہور میں خالق حقیقی سے جاملے۔ بھائی کے پہلو میں شادمان (نزد فاطمہ میموریل ہسپتال) کے قبرستان میں دفن ہیں۔

محمد عبدالحمید (1907-1954)

آپ 1907ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بی۔ اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1928ء میں جالندھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ملازمت اختیار کی۔ 1933ء میں ریڈیو انجنیئرنگ کے لیے انگلستان تشریف لے گئے جہاں سے کورس کی کام یاب تکمیل کے بعد 1936ء میں درآمدات کی تجارت کا آغاز کیا۔

قیامِ انگلستان (1933)کے دوران عبدالحمید نے چودھری رحمت علی سے ملاقات کی اور بعد ازآں پاکستان نیشنل موومنٹ کے لیے مفید کارکن ثابت ہوئے۔ فروری 1938ء میں ہندوستان واپس آنے کے بعد مجلسِ کبیر پاکستان کی طرف سے قیام پاکستان کی ’قلمی تحریک‘ میں شامل ہوگئے۔ اس ضمن میں عبدالحمید نے ’’پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت بعض پر مغز مضامین، حمید پاک، اے پاکستانی، دیدہ ور اور نکتہ رس جیسے قلمی ناموں کے ساتھ اخبارات میں شائع کیے۔ ایک لحاظ سے آپ مجلسِ کبیر پاکستان کے بانی ممبروں میں سے تھے۔ آپ نے مجلسِ پاکستان کی طرف سے مارچ 1940ء میں قائداعظم کی دعوت پر ان سے لاہور میں ملاقات کی۔ 1940ء میں مجلس کے ختم ہونے پر آل انڈیا مسلم لیگ کے لیے سرگرم عمل ہوگئے۔ عبدالحمید نے باقاعدہ کوئی ملازمت اختیار نہ کی۔ آپ کی وفات فروری 1954ء میں راولپنڈی میں ہوئی۔

وہاب الدین کمبوہ (امرتسری) 1883 تا 1964

آپ 26مارچ 1883ء کو موضع ہیر کمبوہ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کی اچانک وفات کی بنا پر تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور اسی سال 4 دسمبر کو محکمہ پولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوگئے۔ وہاب الدین کمبوہ مرحوم کی باقاعدہ تعلیم یوں تو معمولی رہی لیکن ملازمت کے دوران وسیع مطالعہ کی وجہ سے اچھے خاصے عالم بن گئے۔ ’’آپ کے شوقِ مطالعہ کا یہ حال ہوا کرتا تھا کہ جرائم کی تفتیش کے لیے ڈیوٹی پر جارہے ہیں تو ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام ہے تو دوسرے میں کتاب۔ اس طرح وہ کئی بار حادثے سے بال بال بچے۔‘‘

مرحوم کی تحریک پاکستان کے لیے ’تحریری جہاد‘ میں شمولیت کی وجہ وہ مضامین بنے جو مجلسِ کبیر پاکستان کی طرف سے اخبارات میں گاہے بگاہے شائع ہوتے تھے۔ اس وقت وہاب الدین کمبوہ، سب انسپکٹر پولیس کے عہدے پر فائز ہوچکے تھے۔ تعجب کی بات ہے کہ پولیس جیسے محکمے میں رہ کر مرحوم نے ذہن کی یہ افتاد اور قلب کا یہ گداز کیسے پیدا کرلیا جس کے نتیجے میں آپ نے تحریک کے لیے پرمغز مقالات شائع کیے۔

 سب انسپکٹر بننے سے پہلے اور بعد میں بھی آپ سرکاری طور پر ہندوؤں کے جلسوں کی کارروائی قلم بند کرنے پر مامور تھے اور اس دوران آپ کو ہندوؤں کے اندرون خانہ جھانکنے کا موقع ملا۔ انہوں نے دیکھا کہ ہندوؤں کے دل میں مسلمانوں کے لیے کس قدر نفرت بھری ہوئی ہے اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے کیسے کیسے منصوبے باندھ رہے ہیں۔ ’’ہندوؤں کی گہری دشمنی کا اتنے قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا ایسی قوم سے مل کر رہنے کا سوال پیدا ہوسکتا ہے؟‘‘ اس سوال نے انہیں مسلسل مضطرب کیے رکھا اور 1923ء میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’مغربی پاکستان کے صوبے، جن میں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے، علیحدہ ہوکر اپنی جداگانہ حکومت قائم کرلیں۔ مسلمانوں کی اس آزاد حکومت کو انہوں نے اپنے طور پر ’’نورستان‘‘ کا نام دیا‘‘۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایم۔ کے گاندھی، تحریک خلافت کو درون خانہ سبوتاژ کررہے تھے اور ہندوؤں کی شدھی اور سنگھٹن کی تنظیمیں زوروں پر تھیں۔ ’’نورستان‘‘ کا تخیل ان کے ذہن میں ابھرا اور صرف انہی کی ذات تک محدود رہا اور اس ضمن میں انہوں نے باقاعدہ کوئی سکیم یا سلسلہ مضامین کی شروعات نہ کی۔

مرحوم وہاب الدین کمبوہ، مجلسِ کبیرِ پاکستان کے لیے لکھنے والوں میں سب سے زیادہ معمر تھے۔ آپ نے مضامین کے علاوہ ’’تاریخ کمبوہاں‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی۔ آپ 1934ء میں پولیس کی ملازمت سے بحیثیت سب انسپکٹر سبکدوش ہوئے۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے اپنے گاؤں میں مسلمان کاشتکاروں کو ہندو ساھو کاروں کے چنگل سے چھڑانے کی مہم کا آغاز کیا اور اس ضمن میں امداد باہمی کی انجمن قائم کی۔ جو پاکستان بننے تک کام کرتی رہی۔ مرحوم نے اپنے علاقہ میں مسلم لیگ کی ذیلی شاخ بھی قائم کی اور 1945-46ء کے عام انتخابات میں سرگرم حصہ لیا۔

پاکستان کے قیام کے بعد آپ لائل پور (فیصل آباد) میں رہائش پذیر ہوئے۔ جون 1963ء میں آپ نے تحریکِ پاکستان سے متعلق یادداشتوں پر مشتمل مقالات قلمبند کرنے کا ارادہ کیا لیکن ان کی صحت نے ساتھ نہ دیا اور آپ 11اکتوبر 1964ء کو سفرِ آخرت کو روانہ ہوگئے۔

خلیق قریشی (1914-1974)

آپ کا اصل نام غلام رسول تھا اور خلیق تخلص کرتے تھے۔ آپ 14اگست 1914ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم، لائل پور (فیصل آباد) میں حاصل کی اور یہیں کے گورنمنٹ ڈگری کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ مجلسِ کبیر پاکستان، لائل پور کی ذیلی شاخ کے سیکرٹری بھی رہے اور مجلس کے لیے بعض نادر مقالات بھی شائع کیے۔ چوںکہ آپ کو علم و ادب سے گہری وابسطگی رہی یہی وجہ ہے کہ خلیق قریشی نے عملی زندگی کا آغاز بطور صحافی کیا اور اس ضمن میں ’’لائل پور اخبار‘‘ کی ادارت کے فرائض بخوبی انجام دئیے۔

1947ء میں آپ نے بطور ’الاٹمنٹ کمشنر‘ فرائض سنبھالے اور 1950ء کے بعد روزنامہ ’’عوام‘‘ کا اجراء کیا۔ 1965ء میں سرکاری طور پر برطانیہ میں خدمات انجام دیں۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ آپ شروع سے لے کر آخر دم تک مسلم لیگ سے وابسطہ رہے۔ 1970ء میں حج بیت اللہ کے بعد نعتیہ شاعری کی طرف رجوع کیا۔ اس سے پیشتر زمانۂ تعلیم میں آپ اُردو، عربی اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔ آپ کی وفات 4جنوری 1974ء کو ہوئی فیصل آباد میں دفن ہیں۔

ظفر علی گوندل (1912)

ظفر علی گوندل 15مئی 1912ء کو تحصیل کمالیہ، ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 1927ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول کمالیہ سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا جہاں سے آپ نے 1931ء میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم، کالج کے میگزین ’’راوی‘‘ میں باقاعدگی سے مقالات شائع کیے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد کچھ ماہ، ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور محکمہ انہار میں ملازمت کی، لیکن جلد ہی مستعفی ہوگئے۔ آپ نے تحریک پاکستان میں شمولیت کی ابتداء، چودھری رحمت علی کے انگریزی پمفلٹ "Now or Never" کے اُردو ترجمہ سے کی، جس کی فرمائش انہیں، خواجہ عبدالرحیم آئی۔ سی۔ ایس نے کی تھی۔

بعدازآں اس پمفلٹ کا ترجمہ قائداعظم محمد علی جناح کی خدمت میں بھیجا گیا۔ 1938ء میں ظفر علی گوندل مجلسِ کبیر پاکستان کے ارکان سے متعارف ہوئے اور انہوں نے مجلس کے لیے مقالات لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کے مضامین روزنامہ احسان، شہباز اور ایسٹرن ٹائمز، لاہور میں شائع ہوتے رہے۔ ستمبر 1938ء کو ظفر علی گوندل نے ایک مشہور نظم بعنوان ’’اے فرزندِ پاکستان اپنی خودی پہچان‘‘ کہی جو ’’فرزندِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے روزنامہ انقلاب میں شائع ہوئی۔ انہی دنوں آپ نے کمالیہ میں مجلسِ کبیر پاکستان کی تشکیل میں بنیادی کام کیا اور بعد ازاں اس شاخ کے صدر بھی رہے۔

مجلسِ کبیر پاکستان کے ختم ہونے پر، آپ آل انڈیا مسلم لیگ میں بطور کارکن شامل ہوگئے۔ لائل پور (فیصل آباد) میں منعقد ہونے والی مسلم لیگ کانفرنس کے انتظام و انصرام کا سہرا انہی کے سر ہے۔ 1945ء اور 1946ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے اُمیدواروں کے لیے انتھک کام کیا۔ قیامِ پاکستان پر مہاجرین کے کیمپ کے انچارج رہے اور صدر، ہاؤس الاٹمنٹ کمیٹی کی حیثیت سے مہاجرین کی خدمت کرتے رہے۔

چودھری محمد شفیع

آپ لائل پور (فیصل آباد) کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے 1938ء میں علی گڑھ سے ایم۔ اے (جغرافیہ) کیا۔ دورانِ تعلیم، آپ مجلسِ کبیر پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے مقالات سے متاثر ہوچکے تھے۔ اس لیے فراغت کے فوری بعد، کارکنانِ مجلس سے آملے اور لائل پور میں 1938ء میں مجلس کبیر پاکستان کی بنیاد رکھی۔ آپ نے تحریک پاکستان کی ’قلمی مہم‘ میں پوری دل جمعی سے حصہ لیا جس کا ثبوت آپ کے بعض مضامین ہیں جو کتابِ ہذا کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ازاں بعد، آپ بحریہ میں ملازم ہوگئے اور جب پاکستان کی تشکیل ہوئی تو چودھری محمد شفیع بحریہ ہی میں کراچی میں متعین تھے۔ پاکستان بحریہ کی ملازمت سے آپ بطور لیفٹیننٹ کمانڈر سبکدوش ہوئے اور کچھ عرصہ بعد، اس عالمی ادارے سے منسلک ہوگئے جو منگلا ڈیم کی تعمیر کا ذمے دار تھا۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد آپ انگلستان چلے گئے۔

محمد یونس (1917-1993)

 محمد یونس یکم ستمبر 1917ء کو پیدا ہوئے۔ آپ خورشید عالم (جہاں گرد) کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم تحصیل گوجر خان سے حاصل کی اور ازاں بعد، اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ لاہور سے 1939ء میں بی۔ اے کیا۔ دورانِ تعلیم، کالج سے شائع ہونے والے مجلہ ’’کریسنٹ‘‘ کے ’بزمِ فروغ اُردو نمبر، کی مجلسِ ادارت میں عبدالسلام خورشید کی معیت میں کام کرتے رہے۔ اسی دوران، مسلمان طلبا کی جماعت ’’پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ کی ممبر شپ اختیار کی۔ مجلسِ کبیر پاکستان کے لیے مضامین لکھنے کے علاوہ مسلم طلبا کو پاکستان کے قیام کے حق میں ہموار کرتے رہے۔

1930ء سے 1939ء کے دور میں محمد یونس کے ادبی ذوق اور سیاسی شعور کی آبیاری، گوجر خان کی ’اقبال مسلم لائبریری‘ سے ہوئی، جہاں آپ باقاعدہ بزم ادب، کے ممبر بنے۔ گوجر خان میں کانگرس کے جلسوں میں شرکت نے انہیں یہ باور کرایا کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از بس ضروری ہے۔

1940ء میں گوجر خان میں مسلم لیگ کی شاخ قائم ہوئی، جس میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہیں دنوں آپ اسلامیہ ہائی اسکول میں بحیثیت استاد کام کرنے لگے۔ اس طرح طلبا کے تعاون سے تحریکِ پاکستان کو پوٹھوہار کے علاقے کے کونے کونے تک عام کیا۔ گوجر خان ہی میں آپ نے ’’پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ کی شاخ قائم کی اور 1945-46ء کے عام انتخابات میں طلبا کے ساتھ مسلم لیگ کے اُمیدواروں کے لیے شب و روز کام کیا۔ فروری 1947ء میں تحریک سول نافرمانی کے دوران، محمد یونس کو سکول کی ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا لہٰذا آپ کو پنجاب مسلم لیگ کے صدر دفتر، لاہور کے شعبہ نشر و اشاعت میں طلب کرلیا گیا۔

جون 1947ء میں آپ نے روزنامہ قندیل (کراچی) میں بطور نائب مدیر ملازمت اختیار کرلی۔ جنوری 1948ء میں، ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام سنبھالا۔ بعد ازآں، روزنامہ باد شمال (راولپنڈی) میں کچھ عرصہ نائب مدیر رہنے کے بعد، روزنامہ نوائے وقت (لاہور کے لیے وقائع نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ 1952ء میں عساکر پاکستان کے روزنامہ ’’ہلال‘‘ (راولپنڈی) میں شمولیت اختیار کی اور دسمبر 1975ء میں بطور ایڈیٹر ریٹائر ہوئے۔ راولپنڈی میں 1993ء میں انتقال ہوا اور وہیں دفن ہیں۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا