امریکا میں 3 نومبر بروز منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی امتحان بن گئے ہیں جن کے نتائج طے کریں گے کہ آئندہ دو برس کانگریس میں ان کی جماعت کی گرفت برقرار رہتی ہے یا ڈیموکریٹس انہیں مشکل سیاسی حالات سے دوچار کر دیتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔
اس وقت ری پبلکنز کو دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے جبکہ انتخابی جائزوں میں ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ سینیٹ میں مقابلہ سخت ہے اور وہاں نتیجے کی پیش گوئی مشکل ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی تحقیقات، حکام کو طلب کرنے اور سرکاری اخراجات سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا اختیار مل جائے گا۔
سینیٹ میں اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں وہ صدر کی جانب سے نامزد وزرا اور ججوں کی منظوری بھی روک یا تاخیر کا شکار کر سکتے ہیں۔
تاہم ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود صدر ٹرمپ کے صدارتی اختیارات ختم نہیں ہوں گے بلکہ وہ قانون سازی کو ویٹو کرنے اور کئی معاملات میں انتظامی احکامات کے ذریعے فیصلے کرنے کا اختیار برقرار رکھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی آج اپنے بیان میں بھی کہا کہ مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں وہ مسٹر ویٹو بن جائیں گے اور اپوزیشن جماعت کے بلوں کو بلڈوز کردیں گے۔
الجزیرہ اور امریکی تحقیقی ادارے بروکنگز کے تجزیوں کے مطابق کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ٹرمپ کی پالیسیوں کی نگرانی اور ان کے خلاف تحقیقات بڑھا سکتا ہے جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان بجٹ اور حکومتی اخراجات پر اختلافات بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے تو ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہوگا۔