مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کے لیے حکومت کو اختیار دیدیا

قطر میں مذاکرات کے بعد ایرانی وفد دوبارہ وطن پہنچ گیا


ویب ڈیسک November 02, 2026
ایرانی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کیساتھ 7 گھنٹوں پر مشتمل ملاقات کا احوال بتادیا (فوٹو: فائل)

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان نے بتایا کہ حکومت امریکا کے ساتھ تنازع بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے سپریم لیڈر نے حکومت کو بعض اختیارات تفویض کیے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے زور دیکر کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب اے ایف پی نے بھی ایرانی صدر پزیشکیان کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں حکومت کو اختیارات دیے ہیں۔

تاہم ان اختیارات کی نوعیت اور حدود واضح نہیں کی گئیں اور نہ ہی کسی حتمی معاہدے کا اعلان ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے مذاکرات کار قطر میں ثالثوں سے ملاقات کے بعد واپس روانہ ہو چکے ہیں تاہم مذاکرات سے متعلق ایک مجوزہ معاہدے کا مسودہ زیرِ گردش ہے اور آئندہ ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔

حکام کے مطابق ایرانی وفد کی واپسی مذاکرات کی ناکامی یا تعطل کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ مسودے پر مزید غور و خوص کے لیے وقت لیا گیا ہے۔