قطر سے ایرانی وفد وطن پہنچ گیا؛ معاہدے کا مسودہ تیار؛ جنگ بندی کی نئی امید جاگ اٹھی

مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ متعلقہ فریقوں کی رائے کے لیے بھیجا گیا ہے


ویب ڈیسک November 02, 2026
قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ امن معاہدے کا مسودہ زیر غور ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران مذاکرات کے بعد ایرانی وفد نئی امید اور مثبت پیشرفت کے ساتھ قطر سے واپس اپنے وطن پہنچ گیا۔

دوحہ میں مذاکراتی معاملے سے آگاہ ایک سفارت کار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایرانی وفد کی دوحہ سے روانگی مذاکرات میں ناکامی یا اختلافات کے باعث نہیں ہوئی بلکہ مجوزہ معاہدے پر رائے حاصل کی جارہی ہے اور آئندہ ملاقات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے جبکہ مجوزہ امن معاہدے کا مسودہ متعلقہ فریقوں کی رائے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ خط کو اہم قرار دیا۔ ان کے بقول خط میں امریکی مؤقف کا لہجہ مکمل طور پر تبدیل ہوا جو ایک مثبت اشارہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی رابطے کی کوشش کو مثبت قدم قرار دیا ہے تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی حتمی معاہدے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی مطالبات کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔

قطر کی ثالثی میں ہونے والی یہ کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم انتخابات کے بعد فوجی کارروائی کا امکان بدستور موجود ہے۔