پنجاب بھر میں قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب

ڈپٹی کمشنرز کو 60 روز کے اندر اپنے اضلاع میں موجود ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مکمل تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت


عائشہ صغیر November 03, 2026

لاہور:

پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے لاہور سمیت صوبے بھر میں قائم قانونی اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب کرلیں۔

کمیٹی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر اپنے اضلاع میں موجود ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مکمل تفصیلات جمع کرائیں، جبکہ غیر قانونی سوسائٹیز کے قیام میں سرکاری اداروں کی مبینہ غفلت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی نے سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری بلدیات اور سیکرٹری ہاؤسنگ سے بھی تمام تر تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ حکام سے پوچھا گیا ہے کہ صوبے بھر میں کتنی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہیں، ان میں سے کتنی قانونی اور کتنی غیر قانونی ہیں، جبکہ غیر قانونی سوسائٹیز کے قیام میں کن اداروں کی غفلت یا کوتاہی شامل رہی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف اب تک کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ متعلقہ حکام کو بتایا گیا ہے کہ ایسی سوسائٹیز کے قیام کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور خلاف ورزیوں پر ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کمیٹی نے قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی فائلوں کی خرید و فروخت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ سرکاری اداروں سے منظور شدہ سوسائٹیز میں اراضی کے مقابلے میں زیادہ پلاٹس کی فائلیں فروخت کرنے کے معاملے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے استفسار کیا گیا ہے کہ پانچ ہزار کنال اراضی پر قائم ہاؤسنگ سوسائٹی میں 20 ہزار پلاٹس کی فائلیں کیسے فروخت کی جا سکتی ہیں؟

کمیٹی نے سوسائٹیز کی ملکیتی اراضی سے زائد پلاٹس کی فائلوں کی خرید و فروخت سے متاثر ہونے والے شہریوں کی داد رسی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام سوالات کے جوابات اور مطلوبہ ریکارڈ مقررہ مدت میں کمیٹی کو فراہم کریں۔