امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے ابتدائی دو برسوں کی کارکردگی کا فیصلہ کرنے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا آغاز ہوگیا جنھیں ٹرمپ کی مقبولیت اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک، کنیکٹیکٹ، نیو جرسی اور ورجینیا سمیت متعدد ریاستوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے ووٹنگ شروع ہوئی جبکہ دیگر ریاستوں میں پولنگ کا آغاز مختلف اوقات میں ہوگا۔
یاد رہے کہ 5 کروڑ 80 لاکھ سے زائد امریکی شہری ڈاک اور قبل از وقت ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔ انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔
ان نتائج سے طے ہوگا کہ آئندہ دو برس امریکی کانگریس پر ریپبلکنز کا کنٹرول برقرار رہے گا یا ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے سامنے بڑی رکاوٹ بننے میں کامیاب ہوں گے۔
مختلف عوامی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے تاہم حتمی نتائج سامنے آنے میں کئی ریاستوں میں بدھ یا اس کے بعد تک وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مشی گن سے سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر مختلف نسلی و مذہبی گروہوں سے نفرت کرنے کا الزام عائد کیا۔
انتخابات کے نتائج ٹرمپ کی مقبولیت اور ان کی جماعت کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔