ایف آئی آر سرکاری ملازمت کے لیے نا اہل نہیں کر سکتی، جسٹس امین

بریت کے بعد پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ریکارڈ کو منفی ظاہر نہ کیا جائے


حسنات ملک November 04, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ محض ایف آئی آرکا اندراج  سرکاری ملازمت کیلیے نااہلی کی وجہ نہیں بنے گا۔

چیف جسٹس امین خان کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران وفاقی و صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ہدایات جاری کیں  کہ سرکاری بھرتیوں میں سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیلئے یکساں،شفاف اور آئین سے ہم آہنگ ضابطے اپنائیں۔

عدالت نے کہا امیدوارکے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے عدالتی ہدایت کو اہمیت دی جانی چاہئے،کردارکی جانچ پڑتال قیاس آرائی یا شک کی بجائے مستند اور آزادانہ طور پر تصدیق پر ہونی چاہیے،بریت کے بعد پولیس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں کیس کو منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

جہاں کارروائی زیر التوا ہو وہاں جرم کو پہلے سے فرض کردہ تصور کے بغیر صرف اس کے زیر التوا ہونے کا ذکرکیا جائے۔

کسی امیدوارکو سنے بغیر اور دلائل پر مبنی فیصلے کے بغیر ملازمت سے خارج نہیں کیا جائے گا،بھرتی کے فیصلے قانونی معیار،میرٹ اور انصاف کے مطابق ہونے چاہئے۔

ایف آئی آر کے اندراج اور عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم کے درمیان بنیادی فرق کو برقرار رکھا جانا چاہئے،ایف آئی آرصرف ایک الزام ہے ،یہ نہ تو ثبوت ہے اور نہ ہی جرم کی کوئی شہادت پیش کرتی ہے۔