افغانستان میں طالبان رجیم مخالف گروہوں کی مسلح کارروائیاں تیز، مزید حملوں کے دعوے

افغانستان کے مسلح مزاحمتی گروپوں نے متعدد حملوں کی تفصیلات جاری کردیں


خالد محمود November 04, 2026

افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان رجیم مخالف مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی آنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ مزاحمتی گروپوں نے متعدد حملوں کی تفصیلات جاری کردیں۔

افغان طالبان رجیم کے دور میں ملکی سکیورٹی صورت حال ابتر ہونے اور اعلیٰ حکام کے قافلوں سمیت حفاظتی چوکیوں پر مسلسل حملوں کی اطلاعات ہیں۔ افغان رجیم مخالف مزاحمتی گروپوں نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں، قندھار اور سرِپل میں تازہ کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔

نیشنل انڈیپینڈنس فرنٹ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طالبان کی وزارتِ معدنیات کے نائب وزیر عبدالمتین سعید کے قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ حملے میں طالبان نائب وزیر کے 6 محافظ ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق صوبہ قندھار کے ضلع ارغنداب میں طالبان کی چیک پوسٹ پر مسلح کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک ہوگیا، جبکہ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبہ کے ضلع البدر میں طالبان کی چوکی پر مسلح حملہ کیا گیا۔ شدید جھڑپ کے بعد چوکی پر قبضہ کرلیا گیا، جس میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔