امریکی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم، 42 سالہ عبدالسید پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے

70 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر وہ 52 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں


ویب ڈیسک November 04, 2026

مشی گن: امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید نے ری پبلکن حریف اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔ اس کامیابی کے بعد وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔

امریکی اخبار ڈیٹرائٹ فری پریس کے مطابق ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو اور فاکس نیوز نے بدھ 4 نومبر کی صبح تقریباً 2 بجے عبدالسید کی کامیابی کا اعلان کیا۔ 70 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر وہ 52 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے تھے، جبکہ مائیک راجرز کو 46 فیصد ووٹ ملے تھے۔

42 سالہ عبدالسید کا تعلق ریاست مشی گن کے شہر این آربر سے ہے۔ وہ وین کاؤنٹی اور ڈیٹرائٹ کے سابق ڈائریکٹر صحت رہ چکے ہیں اور مصری تارکینِ وطن کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سبکدوش ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لیں گے، جنہوں نے دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عبدالسید جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز پر سینیٹ کا حصہ بنیں گے۔

عبدالسید کی انتخابی مہم میں اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ وہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کے سخت ناقد ہیں اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیرونِ ملک فوجی اخراجات کے بجائے یہ وسائل امریکا میں صحت، تعلیم اور عوامی ضروریات پر خرچ کیے جانے چاہییں۔

انتخابی مہم کے دوران ان پر اشتہارات کے ذریعے شدید تنقید کی گئی اور انہیں شدت پسندی اور دہشت گردی سے ہمدردی رکھنے والے شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ عبدالسید نے یہ الزامات مسترد کیے اور بارہا یہود دشمنی اور ہر قسم کے سیاسی تشدد کی مذمت کی۔

ان کی مہم کو سینیٹر برنی سینڈرز، رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور یونائیٹڈ آٹو ورکرز سمیت کئی اہم شخصیات اور تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سیاسی معاملات سے بڑی کارپوریٹ رقوم کا اثر ختم کرنے، عوام کی جیب میں زیادہ پیسہ پہنچانے اور سب کے لیے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو مرکزی نعرہ بنایا۔

عبدالسید نے انتخابی مہم میں ایندھن اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں، صحت کی سہولتوں تک رسائی اور ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کو بھی موضوع بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو مہنگے ایندھن اور دیگر اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مائیک راجرز سابق ایف بی آئی اہلکار اور قدامت پسند ری پبلکن امیدوار تھے۔ وہ 2001 سے 2015 تک ایوانِ نمائندگان کے رکن رہے اور ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے انتخابی مہم انتہائی مہنگی اور سخت مقابلے پر مشتمل رہی۔ سیاسی اخراجات کا جائزہ لینے والے ادارے اوپن سیکرٹس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ریاست سے باہر کے گروپوں نے اس انتخابی مہم میں 300 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے، جبکہ دونوں امیدواروں نے مجموعی طور پر 100 ملین ڈالر سے زائد کے فنڈز جمع کیے۔

ڈیموکریٹ امیدوار کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ عبدالسید نے کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشی گن کے عوام نے ان پر اعتماد کیا اور وہ ریاست کی خدمت کے منتظر ہیں۔