امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو مسلمان سیاست دانوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے تاریخ رقم کردی۔
مصری نژاد عبدالرحمان السید ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دیکر امریکی وفاقی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہوگئے جبکہ بھارتی نژاد نبیلہ سید نے الینوائے کی ریاستی سینیٹ کی ریپبلکن نشست ڈیموکریٹس کے نام کردی۔
مشیگن سے کامیاب ہونے والے 42 سالہ عبدالرحمان محدم السید مصری تارکین وطن کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ وبائی امراض کے ماہر، ڈاکٹر اور ڈیٹرائٹ کے سابق ڈائریکٹر صحت رہ چکے ہیں۔
ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی، مہنگائی میں کمی، سیاسی نظام میں بڑی کمپنیوں کے اثرورسوخ کا خاتمہ اور اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی مخالفت نمایاں موضوعات تھے۔
دوسری جانب 27 سالہ نبیلہ سید نے الینوائے کے چھبیسویں انتخابی حلقے سے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دے کر ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ انہیں تقریباً 57 فیصد ووٹ ملے جبکہ حریف امیدوار 43 فیصد ووٹ حاصل کرسکیں۔
نبیلہ سید کے والدین کا تعلق بھارتی شہر حیدرآباد سے تھا اور وہ الینوائے کے شہر پالاٹائن میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی۔ انھوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے سیاسیات اور کاروباری انتظامیہ کی تعلیم حاصل کی۔
وہ 2022 میں صرف 23 برس کی عمر میں الینوائے کے ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اس وقت اپنی دوسری مدت پوری کررہی تھیں۔
ان کی انتخابی ترجیحات میں مہنگائی، صحت کی سہولتوں تک رسائی، بچوں کی دیکھ بھال اور مصنوعی ذہانت کے مراکز سے بجلی کے اخراجات میں اضافے جیسے معاملات شامل تھے۔
دونوں کامیابیاں امریکی سیاست میں مسلمانوں اور نسلی اقلیتوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی علامت قرار دی جا رہی ہیں۔