دنیا کی سیاست میں بعض فیصلوں کی قیمت صرف ان ملکوں کو ادا نہیں کرنا پڑتی جن کے ایوانوں میں ان کا اعلان ہوتا ہے، بلکہ ان کے اثرات سمندروں، منڈیوں، معیشتوں اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک انتخابی شکست کا صدمہ ہو یا تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ، دونوں بظاہر الگ معاملات دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں ایک مشترکہ حقیقت کارفرما ہے۔ امریکی سیاست کا داخلی دباؤ اب عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں یہی تضاد نمایاں ہے کہ ایک طرف وہ انتخابی نتائج تسلیم کرنے، سیاسی مفاہمت اور حزب اختلاف سے تعاون کی بات کرتے ہیں، دوسری جانب ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی، شدید حملوں اور طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار دینے کے بجائے اس کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امریکا اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا حق رکھتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کو اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دینا چاہیے؟
ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی تحفظات کوئی نئی بات نہیں، تاہم جوہری تنازع کے حل اور فوجی تصادم کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ سفارت کاری اختلافات کو قابلِ گفت و شنید بناتی ہے، جب کہ جنگ انھیں ناقابل واپسی دشمنیوں میں تبدیل کرسکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا کو ایران کے خلاف کچھ بڑا کرنا ہوگا اور اسے شدید ضرب لگائی جا سکتی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے تصادم کی گنجائش بڑھاتا ہے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔ بالخصوص اس وقت جب دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی عسکری کارروائیوں، جوابی حملوں اور ثالثی کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جزیرہ قشم پر امریکی حملے، ایرانی طیارہ شکن نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اور بندر خمیر کے علاقے میں امریکی ڈرونز مار گرانے سے متعلق ایرانی مؤقف اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کشیدگی محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔
اس صورتحال کا سب سے تشویش ناک پہلو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کا بارودی سرنگوں سے ٹکرانا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں معمولی نوعیت کا عسکری واقعہ بھی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کرسکتا ہے، اگر اس سمندری راستے کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف امریکا یا ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یورپ، ایشیا اور بالخصوص ان ترقی پذیر معیشتوں کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی خطے پر انحصار کرتی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مال برداری کے اخراجات، بیمہ پالیسیوں کی لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یوں جنگ کا ایک فیصلہ ان لوگوں کی زندگیوں میں مہنگائی کا نیا طوفان لاسکتا ہے جن کا اس تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔خطے کے ممالک کو بھی اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ باہمی بداعتمادی اور جوابی کارروائیوں کا تسلسل انھیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کا کوئی واضح فاتح نہیں ہوگا۔ ایشین فٹبال کپ کا ملتوی ہونا بھی اس حقیقت کی علامت ہے کہ جنگی بے یقینی اب کھیل، ثقافت، سیاحت اور معمولاتِ زندگی تک کو متاثر کرنے لگی ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ دوبارہ لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، سفارتی راستے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے رابطوں کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ اگرچہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ابھی تک کسی نکتے پر اتفاق نہیں ہوسکا اور امریکا کی جانب سے دیے گئے جوابات بھی تہران کے لیے قابل اطمینان نہیں رہے، لیکن سفارت کاری میں ابتدائی اختلافات مذاکرات کے خاتمے کا جواز نہیں بننے چاہئیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا یہ موقف کہ ایران دھمکیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مسلسل دباؤ کسی ریاست کو لازماً پسپائی پر مجبور نہیں کرتا، بعض اوقات یہی دباؤ قومی مزاحمت کو مزید مستحکم کردیتا ہے۔ امریکا کے اندرونی سیاسی حالات اس پورے بحران کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی خراب کارکردگی اور ڈیموکریٹس کی پیش قدمی نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کردی ہیں۔
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزمرہ زندگی کے اخراجات نے امریکی ووٹرز کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ پٹرول کی مہنگائی نے انتخابی نتائج میں کردار ادا کیا۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کی توثیق ہے کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف فوجی طاقت یا عالمی سطح پر اثرورسوخ نہیں بلکہ عام شہری کی معاشی آسودگی بھی ہے۔ امریکی عوام کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ انھیں پٹرول مناسب قیمت پر ملے، گھر کا بجٹ قابو میں رہے اور روزگار کے مواقع برقرار رہیں، اگر کسی بیرونی جنگ کے نتیجے میں ان کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے تو وہ اپنی قیادت سے سوال ضرور کریں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی بظاہر ایک مثبت سیاسی اشارہ ہے۔ جمہوری نظام کی اصل قوت اسی میں ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت انتخابی فیصلے کو عوامی رائے کا اظہار تسلیم کرے اور اختلاف رکھنے والی جماعت کو قومی معاملات میں شریک کرے۔ تاہم دوسری جانب ڈیموکریٹس کی قانون سازی کے خلاف صدارتی ویٹو استعمال کرنے کا عندیہ اس مفاہمت کی حدود بھی واضح کرتا ہے۔
صدر کا یہ کہنا کہ اگر وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے، سیاسی حقیقت سے زیادہ اپنی شخصیت کے گرد انتخابی کامیابی کی توجیہ تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ جمہوریت میں قیادت کی مقبولیت کا تعین محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عوام کے عملی فیصلوں سے ہوتا ہے۔مشی گن میں مسلم اور عرب نژاد ووٹرز کا ردعمل بھی امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ گزشتہ انتخاب میں امن اور جنگ بندی کی امید پر ٹرمپ کی حمایت کرنے والے بعض ووٹرز اب ان کی پالیسیوں سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر السید کی انتخابی پیش قدمی، صیہونی اور چرچ لابیوں کی سرگرمیاں اور اسلاموفوبیا پر مبنی مہم اس امر کو نمایاں کرتی ہیں کہ امریکی معاشرے میں خارجہ پالیسی اب محض سفارتی حلقوں کا موضوع نہیں رہی بلکہ انتخابی سیاست کا براہِ راست حصہ بن چکی ہے۔ کسی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ مالی وسائل کے علاوہ عوامی اعتماد، سماجی شناخت اور اخلاقی ترجیحات بھی کرتی ہیں۔ نوے ملین ڈالر کی انتخابی مہم بھی اس وقت بے اثر ہوسکتی ہے جب ووٹر اپنے بنیادی عقائد اور اصولوں کے خلاف کسی سیاسی قوت کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔
اس تناظر میں اسرائیل کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر کی امریکی امداد بند کرنے کا ٹرمپ کا اعلان بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اب امریکی مالی مدد کی ضرورت نہیں اور اس سلسلے میں نیتن یاہو سے پہلے ہی معاہدہ طے پاچکا ہے۔ یہ اعلان امریکی داخلی سیاست میں اسرائیل سے متعلق بدلتے ہوئے عوامی رجحانات کا بھی مظہر ہے۔ ایک سروے کے مطابق 48 فیصد امریکی ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کررہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معاشرے میں خارجہ امداد، مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی اور اسرائیل سے تعلقات پر ازسرنو بحث جنم لے رہی ہے۔ تاہم امداد روکنے کا اعلان اپنی جگہ، اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ آیا امریکی پالیسی عملی طور پر بھی خطے میں مساوی انصاف، جنگ بندی اور دیرپا امن کی حمایت کرتی ہے یا نہیں۔پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے موجودہ حالات غیر معمولی سفارتی بصیرت کے متقاضی ہیں۔ پاکستان کے خلیجی ممالک، ایران اور امریکا کے ساتھ تعلقات اسے ایک ذمے دارانہ سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت کے مظاہرے سے وقتی برتری تو حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن مستقل امن کے لیے سیاسی بصیرت، تحمل اور قابلِ قبول معاہدہ ضروری ہوتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ تصادم کو اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ بنانا چاہتی ہے یا ایک ایسے سفارتی حل کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے جس سے امریکا، ایران اور پورا خطہ جنگ کے مستقل خطرے سے نکل سکے۔ انتخابات نے امریکی قیادت کو عوامی ترجیحات کا پیغام دے دیا ہے۔ اب اس پیغام کو سمجھنا واشنگٹن کی ذمے داری ہے۔ جنگ کا دائرہ وسیع کرنا آسان، مگر اس کے نتائج سمیٹنا دشوار ہوتا ہے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ میزائلوں کی گرج کو مذاکرات کی آواز میں تبدیل کیا جائے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کو ایک اور جنگ نہیں بلکہ ایسا امن درکار ہے جس میں ریاستوں کی خودمختاری، عوام کی سلامتی اور عالمی معیشت کا استحکام محفوظ رہ سکے۔