جی 24گروپ کی سربراہی اور ترجیحات

معاشی دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ آیا ہے جب کسی کمزور معیشت کو ایک ایسا منصب ملا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے معاشی کرب کا اظہار عالمی فورم پر کرسکتا ہے۔



معاشی دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ آیا ہے جب کسی کمزور معیشت کو ایک ایسا منصب ملا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے معاشی کرب کا اظہار عالمی فورم پر کرسکتا ہے۔ پاکستان نے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ممالک کے اتحاد جی 24گروپ کی سربراہی سنبھالی ہے۔ واضح رہے کہ یہ صرف منصب کا ملنا ہے، طاقت حاصل کرنا بالکل مختلف ہے لیکن پاکستان جو کہ عرصہ دراز سے ایک معاشی اور تاریخی سوال کے سامنے کھڑا ہے، شاید اس کے لیے ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز بن کر معاشی سفارتی کامیابی حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس منصب کو سنبھالنے والے وزیر خزانہ کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس قیادت کے ذریعے پاکستان کے عوام کو سستی بجلی، سستا پٹرول ، مزدورکو روزگار اور آئی ایم ایف کی انتہائی سخت ترین شرائط سے چھٹکارا دلاسکیں گے؟ کیا دنیا کو یہ باورکرایا جاسکے گا کہ آئی ایم ایف کی کئی پالیسیوں کے باعث پاکستان میں سستی بجلی عوام کے لیے سستا پٹرول دینے کے مواقعے ضایع ہوئے، مہنگائی نے سر چڑھ کر بولنا سیکھ لیا۔ کیا پاکستان اس بات کا مقدمہ لڑسکے گا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد جو نقصان ہوا۔ نائن الیون کے بعد ملک میں بدامنی اور ابھی تک کے بم دھماکوں سے شہریوں کی شہادت ہوئی اور ملکی معیشت کا جو نقصان ہوا اور موسمیاتی تبدیلی سے انتہائی متاثر ملک کے اوپر ایسی پابندیاں جس سے معیشت اور عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ہے اسے کوئی ریلیف مل سکے گا یا نہیں۔

سوالات بہت ہیں، اس طرح کے معاشی و سماجی مسائل غربت کے شکار ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اب پاکستان کو قیادت ملی ہے تو اسے اپنے اور غریب ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ ان ملکوں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے، اسے اگر ہم پاکستان کی طرف سے نئی معاشی سفارت کاری کا نام دیتے ہیں تو مشرق وسطیٰ کے حالات سے آنکھیں نہیں بند کرسکتے۔ ہرمز کے مزاج کو سمجھے بغیر عالمی توانائی کی منڈی کے مدوجزرکو سمجھنا ناممکن ہے جس نے سمندری تجارت، بڑھتے ہوئے بمہ اخراجات ، کرایوں میں اضافہ اورکئی مالیاتی مسائل کے باعث ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردارگزرگاہ بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کی لہروں میں جیسے ہی بے چینی پیدا ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہی درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملکوں کے لیے صرف تیل مہنگا نہیں ہوتا، وہاں کے عوام پر مہنگائی بم، پٹرول بم، گیس بم ، زرمبادلہ کا دباؤ ، بالاخر جب روپے کی قدر گھٹتی ہے تو ظاہر ہے کہ فرض کیا اس وقت اگر ایک ڈالر ڈھائی سو روپے کا ہے اور ڈالر کے نرخ بڑھ کر ایک ڈالر تین سو روپے کا ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے پہلے ایک ڈالر کی درآمدی شے خریدنے کے لیے ڈھائی سو روپے ادا کرتے تھے، اب ایک ڈالر کی شے خریدنے کے لیے 300روپے ادا کرنا ہوں گے یعنی درآمدی شے مہنگی ہوکر رہ جاتی ہے۔ ہم ملکی متبادل اشیاء چھوڑ کر درآمدی اشیاء استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 عالمی معیشت کی اصل حیثیت کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے کے لیے اہم ترین کردار پاکستان کو ادا کرنا چاہیے کہ کس طرح تیل کی قیمت میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک انتہائی مشکل ترین صورت حال سے دوچار ہوجاتے ہیں اور جیسے ہی ترقی پذیر ممالک تیل کے مہنگا ہونے کے باعث زرمبادلہ کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو ایسے میں عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

 پاکستان کو جی 24کی سربراہی سے یہ موقع ملا ہے کہ ایک اجتماعی آواز کے ذریعے متحد ہوکر آئی ایم ایف اور عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ کے سامنے آواز اٹھانا چاہے اور اگر افریقہ، ایشیاء ، لاطینی امریکا اور دیگر ترقی پذیر ممالک ایک مشترکہ مضبوط ترین موقف اٹھاتے ہیں تو عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی فلاح و بہبود کے لیے اصلاحات کا مطالبہ انتہائی وزنی ہوسکتا ہے۔ پاکستان تو اس اجتماعی موت کو اپنے عملی معاشی مفادات کے ساتھ جوڑنے کے لیے عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اورگزشتہ 26برسوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے نقصانات اور 2010 اور 2022 کے سیلاب متاثرین کی انتہائی ناکافی امداد کی طرف توجہ دلانا ہوگی۔

پاکستان ہر دور میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بجٹ خسارہ، درآمدات میں ناقابل برداشت اضافہ، برآمدات میں کمی، تجارتی خسارے کے بم کا بار بار دھماکہ اور دیگر بہت سے مسائل جن میں غربت میں اضافہ، بیروزگاری میں اضافہ وغیرہ شامل ہونے کے باوجود آئی ایم ایف کی طرف سے انتہائی سخت ترین شرائط میں قرض ملتا رہا ہے۔ بہت سے افریقی ممالک کے ساتھ بھی سخت ترین معاشی حالات موجود ہیں باوجود یہ کہ قرض کی سخت ضرورت کے کئی ملکوں نے آئی ایم ایف کی شرائط پر قرض لینے کے بجائے اپنی معاشی ترقی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اب ان کے لیے اجتماعی آواز اٹھانے کا وقت آگیا ہے تاکہ آسان شرائط پر قرض مل سکے۔

جی 24 کی سربراہی پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع لے کر آیا ہے جہاں اجتماعی طور پر یہ پرزور مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے غریب ممالک کے لیے برائے نام گرانٹس کے بجائے حسب ضرورت گرانٹس مہیا کی جائیں۔ موسمیاتی منصوبوں کے لیے پاکستان جوکہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں صف اول پرکھڑا ہے، اسی طرح دوسرے شدید متاثرہ ملکوں کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک مالیاتی پالیسیوں میں ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ پاکستان کو ایک جامع موسمیاتی معاشی منصوبہ پیش کرنا چاہیے۔ جی 24 کے اجلاس میں پاکستان کو 2022 کے سیلاب متاثرین کا تذکرہ کرنا چاہیے جو کہ ابھی تک اپنے معاشی مالیاتی اور سماجی مسائل سے دوچار ہیں اور آیندہ آنے والی آفات، تباہیوں، سیلاب سے نقصانات اور دیگر ممالک کے مسائل کو سامنے رکھ کر متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے، اگر آپ نے دنیا کو باورکرانا ہے تو اپنی نئی عالمی، معاشی قیادت کو عالمی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ پاکستان اور 2022کے سیلاب زدگان کے نام کرنا چاہیے۔

 بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ حکومت نئی معاشی قیادت کی اہمیت کو کس طرح معیشت کے حق میں استعمال کرتی ہے۔اگرچہ وزیرخزانہ پرامید ہیں اور اپنی ترجیحات کا اعلان کرچکے ہیں لیکن اصل مسئلہ آواز اٹھانے اور مطالبہ کرنے کے ساتھ فیصلہ سازی میں جی 24 کا اصل حق حاصل کرنا ہے تاکہ ان کے مطالبات کے مطابق فیصلے ہوں تب جاکر ترقی پذیر ممالک کے شامل ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔