سیاست ،جمہوریت ،آئین ،قانون کی حکمرانی کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے شفاف اور منصفانہ انتخابی نظام کنجی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی بنیاد پر انتخابی نظام ہر محاذ پر اپنی ساکھ کو قائم رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ایسی سیاسی تجربہ گاہ ہے جہاں ہم نے ابتدا سے لے کر آج تک شفاف انتخابات کے مناظر نہیں دیکھے یا لوگوں کو اب تک ہونے والے تمام انتخابات کی ساکھ پر یقین نہیں ہوا۔انتخابات کے نام پر مختلف سطح سے مداخلت کے کھیل کی سیاسی کہانی پرانی ہے اور یہ کہانی ہر دفعہ ایک نئے اسکرپٹ کے تحت دہرائی جاتی ہے۔
ہماری سیاسی تاریخ میں جب بھی انتخابات ہوئے، الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے نتائج عوام کی منشا کی بجائے کسی اور کی خواہشات کے تابع رہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج اس ملک میں انتخابات کا نظام کمزور ہے بلکہ شفافیت پر شک وشبہ کیا جاتا ہے۔ پری پول،الیکشن کے دن اور الیکشن کے بعد حکومت سازی یا اس میں جوڑ توڑ کا مکمل کھیل عدم شفافیت کا شکار ہے۔اب پارلیمان میں موجود لوگوں کے درمیان ’’ انتخابی اصلاحات کمیٹی‘‘ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے خط وزیر اعظم،چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کو لکھے ہیں کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں معاونت کریں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم سے 10حکومتی ارکان، اپوزیشن لیڈر سے 05ارکان اور چیئرمین سینیٹ سے 10ارکان کے نام مانگے ہیں۔ اس کمیٹی پر اپوزیشن نے برابری کی نمائندگی مانگی ہے وگرنہ ان کے بقول اس طرح کی کمیٹی میں بیٹھنا وقت کا ضیاع ہوگا۔ہم اس ملک میں انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں مگر یہ سیاسی آنکھ مچولی کا کھیل نہیں ہونا چاہیے ۔
آج تک اس کھیل میں لوگوں کو سیاسی طور پر گمراہ کرکے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا رہا ہے۔کیونکہ جس ملک میں شفاف سیاسی اور جمہوری نظام کی عدم موجودگی ہو اور ہم آئین و قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں شخصی حکمرانی پر یقین رکھتے ہوں وہاں اصلاحات کا کھیل بھی کبھی مثبت نتائج نہیں دے سکتا۔عملی طور پر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا مجموعی سیاسی اور انتخابی نظام یرغمالی کا شکار ہے اور جب تک اس نظام کی خود مختاری سمیت الیکشن کمیشن کو خود مختاری نہیں دی جائے گی ہم شفاف انتخابات سے بہت دور رہیں گے اورداخلی و خارجی محاذ پرانتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھتے رہیں گے۔اس ملک میں 2013 کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی سمیت کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کی 35رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے مستقبل کے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اپنی تجاویز دی تھیں۔
پی ٹی آئی کے مطالبے پر 2013 کے انتخابات کو جانچنے کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بنایا گیا تھا۔اس کمیشن نے کہا تھا کہ ان انتخابات میں کافی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔عدالتی کمیشن نے مستقبل کے انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو 42 نکات پر مبنی تجاویز دی تھیں کہ یہ بے ضابطگیاں دوبارہ نہ ہوں۔دیکھنا یہ ہے کہ عدالتی کمیشن کی 42نکات پر مبنی تجاویز پر2018 اور 2024 کے انتخابات میں کیا عملدرآمد کیا گیا ۔ پارلیمانی کمیٹی اور عدالتی کمیشن کی تجاویز کا کیا ہوا۔ کیا اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا یا انتخابات کی شفافیت کے لیے کوئی کام بھی ہوا۔صورتحال سامنے آنی چاہیے۔
سیاستدانوں کی جانب سے الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ پارلیمنٹ،سیاسی جماعتیں،ارکان اسمبلی اور الیکشن کمیشن شفاف انتخابات اور اصلاحات پر عملدرآمد نہیں کر سکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سب ادارے کس حد تک اپنی شفافیت اورخود مختاری یا آزادانہ فیصلوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ملکی سطح پر آرٹی ایس بیٹھے یا فارم 47 پر مبنی حکومت کا الزام ہو یا عوامی ساکھ اور حمایت سے محروم حکومتیں ہوں ، لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان پر جبری بنیادوں پر حکومتیں مسلط کی جاتی ہیں۔اس لیے جب تک انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مداخلتوں کا کھیل ختم نہیں ہوگا ہم شفاف انتخابی اصلاحات اور انتخابات سے محروم ہی رہیں گے۔اسی طرح انتخابی اصلاحات کا کام ہم کاغذوں میں تو خوب کرلیتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ہم نے انتخابی اصلاحات کے عمل میں خوب ترقی کرلی ہے۔لیکن آج بھی ہمارے ملک کی انتخابی اصلاحات دنیا کی جدید انتخابی اصلاحات سے پیچھے ہیں۔ بالخصوص ہم ڈیجیٹل لائزیشن سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں اور اپنے نظام کو روائتی اور فرسودہ نظام کی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں۔ایک منطق دی جاتی ہے کہ ہمارے ہاں شرح خواندگی کم ہے اس کی وجہ سے ڈیجیٹل نظام کامیاب نہیں ہوسکے گا۔
حالانکہ اب جو تعلیم سے محروم ہیں مگر ان کی ڈیجیٹل لٹریسی کافی بہتر ہے۔اصل میں ہم ڈیجیٹل کی مدد سے انتخابات میں چوری کے نظام کے خاتمے سے ڈرتے ہیں جو طاقت ور افراد کے خلاف ہے۔اسی طرح جب تک ہماری سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام شفاف نہیں ہوگا اور وہ کسی بھی سطح پر جوابدہ نہیں بنے گا شفاف انتخابات کیسے ممکن ہوسکیں گے۔ہماری بڑی سیاسی جماعتیں اوپر سے لے کر حلقہ جات کی سیاست تک ہر وہ ناجائز حربے اختیار کرتی ہیں جو انتخابات کی شفافیت کے عمل کو متنازعہ بناتے ہیں۔ یہ ہی نہیںانتخابات کا کھیل اب ایک کارپوریٹ اور صنعت کا درجہ بھی حاصل کرچکا ہے ۔ جس بڑے پیمانے پر روپے پیسے کا آزادانہ کھیل ٹکٹ کے حصول سے لے کر انتخابی مہم یا پارٹی فنڈ کے نام پر ہوتا ہے وہ سب کچھ انتخابی عمل کو طاقت ورطبقات اور دولت مند افراد کے تابع کردیتا ہے ۔
عام سیاسی کارکن خود کو انتخابی عمل سے دور رکھتا ہے یا اسے دولت کی حکمت عملی کی بنیاد پر پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس لیے بہت سے لوگ نئی انتخابی اصلاحات میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر بھی انتخابی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کی جانب سے اس نقطہ پر بار بار کہنے کے باوجود ہماری سیاسی حکومتیں یا پارلیمنٹ متناسب نمائندگی کے اصول کو نظر انداز کرتی ہیں۔
بلکہ ہمارے یہاں تو بننے والی نگران حکومتیں جن کی نگرانی میں انتخابات کروائے جاتے ہیں وہ خود اپنا یا ان کو پیش کیا جانے والا سیاسی ایجنڈا بھی رکھتی ہیں اور متنازعہ بھی ہوتی ہے۔ سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی نگرانی میں بننے والا نگران سیٹ اپ تھا ۔دنیا بھر میں نگران حکومتوں کا تصور نہیں ہوتا لیکن ہم یہ دربار بھی سجاتے ہیں اور مقصد مطلوبہ نتائج کا حصول ہوتا ہے۔ نگران حکومتیں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پوری انتظامی سطح کی مشینری کو تبدیل کرتی ہے جس سے سارا انتخابی نظام ہی مشکوک بن جاتا ہے۔اس لیے نئی کمیٹی بنانے کی بجائے پہلے سے موجود انتخابی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس نظام کا پوری سچائی کے ساتھ ادراک کیا جائے کہ یہاں کیسے الیکشن کی ساکھ کو خراب کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں پارلیمانی فورم یعنی پارلیمنٹ کی کمزوری کا ایک بڑا نتیجہ ہم کمزور جمہوریت کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ اصلاحات ایک عمل ہوتا ہے جب کہ اس کا دوسرا کام ان اصلاحات کی بنیاد پرانتخابی عملدرآمد کے نظام کو شفاف بنانا ہوتاہے اور اس جگہ ہم بہت کمزور پوزیشن پر کھڑے ہیں۔یہ کام محض سیاسی جماعتوں یا پارلیمانی فورم تک محدود نہیں رکھنا ہوگا بلکہ اس میں سول سوسائٹی سمیت دیگر طبقات کو بھی اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ہمیں ایک بڑی آواز اٹھانا ہوگی کہ شفاف انتخابی اصلاحات اور شفاف انتخابی نظام سمیت اداروں کی خود مختاری کے بغیر کچھ نہیں ہوسکے گا۔لیکن اگر ہم نے ماضی کی بنیاد پر انتخابی اصلاحات کے کھیل کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے تو اس سے سیاست اور جمہوریت کا عمل کبھی بھی مضبوط نہیں ہوسکے گا۔