موجودہ حالات میں ہر شخص غریب ہو یا امیر خصوصاً متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بھی پریشان ہیں۔ غریب اپنے حال میں اور امیر اپنے اپنے مالی وسائل کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں مگر تینوں طبقے مہنگائی سے پریشان ہیں کیوں کہ اخراجات بڑھ گئے اور آمدنی بڑھنے کی بجائے کم ہی ہوئی ہے اور دونوں ہی اپنے مسائل میں مبتلا ضرور ہیں مگر متوسط طبقہ پس رہا ہے اور مہنگائی سے زیادہ تر متاثر بھی وہی ہورہا ہے اور تینوں طبقے ہی مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول کو اس کا ذمے دار سمجھتے ہیں جو تینوں حکومت کے کنٹرول میں ہیں مگر یہ تینوں اہم اشیاء سرکاری طور پر مفت حاصل ہونے والوں کو اس کا رتی برابر بھی احساس نہیں اور حکومت نے ان تینوں اشیائے ضرورت کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
ہر مساجد کے امام حضرات ان مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان حالات کا ذمے دار دین سے دوری، معاشرتی بے راہ روی، سوشل میڈیا کو قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں امام حضرات مساجد میں خدمات انجام دینے والوں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہیں سب سے کم ہیں مگر وہ اﷲ پر توکل کرتے ہیں اور محدود آمدنی میں گزارا کرتے ہیں اور کسی سے شکوہ نہیں کرتے اور اپنے مشکل حالات میں بھی اﷲ کا شکر ہی ادا کرتے ہیں۔
رمضان میں فوت ہونے والے مشہور شاعر جن کی مذہبی حلقوں میں بھی ان کی نعتیہ شاعری کے باعث بڑی اہمیت تھی۔سید سلمان گیلانی کہا کرتے تھے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ حالات سے سے تنگ آکر خودکشیاں کررہے ہیں مگر کوئی ایسی مثال موجود نہیں کہ مالی حالات سے تنگ آکر کسی امام مسجد یا مسجد کے خدمات انجام دینے والے موذن یا خادمین نے خودکشی کی ہو اور مرحوم کی یہ بات درست بھی ہے۔
اسلام نے خودکشی کو حرام موت قرار دیا ہے اور کسی بھی مشکل حالات میں خودکشی کرنے کی اجازت نہیں ۔ حرام موت غیر مسلم معاشرے میں ضرور ہے لیکن پاکستان میں موجودہ حکومت میں خودکشیوں کا ریکارڈ ضرور قائم ہوا ہے جب کہ عشروں سے خودکشیاں صرف عشق و محبت میں ناکامی پر ہوتی تھیں اور مشہور شخصیات نے بھی ماضی میں خودکشیاں کیں مگر سالوں سے خودکشیاں اب مہنگائی، بیروزگاری ، غربت، مقروض اور گھریلو تنازعات پر ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ نوجوانوں اور نابالغ بچوں تک پہنچ گیا ہے مگر حکومتوں کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے جو مہنگائی و بیروزگاری بڑھاکر خود عوام کو خودکشیوں پر مجبور کررہی ہیں مگر حکومتی سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں جو مایوس افراد کو اس غیر اسلامی انتہائی اقدام سے روک اور ان کی مدد کرسکے۔
نجی طور پر ملک میں درد دل رکھنے والے افراد کے قائم کردہ ایسے ادارے ضرور موجود ہیں جو لوگوں کو خودکشی سے روکتے اور ان کے مشکل حالات میں بہتری لانے میں مدد دیتے اور اچھے حالات کی امید ضرور دلاتے ہیں جو خودکشی کو گناہ سمجھتے اور مایوس لوگوں کی مدد اپنا مذہبی فریضہ بھی سمجھتے ہیں مگر لوگوں کے لیے ایسے مایوس کن حالات پیدا کرنے والے حکمرانوں میں انسانیت ہے نا احساس جس کی وجہ سے ملک میں لوگ بجلی کے ناقابل ادائیگی بل دیکھ کر ہی خودکشیاں کرچکے ہیں جس کی ذمے دار حکومتیں ہیں جو لوگوں کے لیے مشکل حالات پیدا کرکے خودکشیاں بڑھا رہی ہے۔ علاج کی سہولتوں کے فقدان ، بیروزگاری، غربت کی انتہائی سطح پر آ جانے کے باعث اپنے بچوں کو بھوکا مرتا کوئی نہیں دیکھ سکتا اور خود کو درپیش حالات سے نجات کا حل سمجھ کر خودکشی تو کرلیتا ہے مگر اچھے حالات کی بہتری سے مایوس افراد کو یہ سمجھانا چاہیے کہ وہ تو دکھوں سے نجات پالیں گے مگر ان کے بعد ان کے اہل خانہ پر کیا گزرے گی، یہ احساس مایوس لوگوں کو ضرور دلانا چاہیے۔