History of Democracy as Practiced in Pakistan معروف صحافی بابر ایاز مرحوم کی کتاب ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ ڈاکٹر سمعیہ نے شائع کی ہے۔ بابر ایاز ایک علمی گھرانے میں لاہور میں 17، فروری، 1949 کو پیدا ہوئے۔ بابر ایاز کے والد شہزاد ایاز ایک ترقی پسند صحافی اور شاعر، والدہ زہرا خالدہ شاعرہ تھیں۔ یہ خاندان ہندوستان کی تقسیم کے بعد سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں آباد ہوا تھا۔ بابر ایاز نے سکھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج سکھر سے بی اے اور پھر سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
بابر ایاز زمانہ طالب علمی میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ اپنے والد کے صحافتی کیریئر سے بہت متاثر تھے۔ اس بناء پر انھوں نے صحافت کا شعبہ اختیار کیا۔ بابر ایاز نے سیاسی اور اقتصادی امور پر کئی کتابیں تحریر کیں۔
بابر ایاز نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ کیا پاکستان میں جمہوریت ناکام رہی ہے ؟ اس سوال کا فوری اور مکمل جواب ’ہاں‘ یا ’ناں‘ میں ہو گا۔ مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں ہم دنیا کو ’’سیاہ‘‘‘ و’’ سفید‘‘ میں دیکھنے کے عادی ہیں، یہ جواب تسلی بخش نہیں ہے۔ اس کا درست جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہر پہلو پر محیط تجزیے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر لوگ جو عام طور سے نا پسندیدہ لب و لہجے میں اس سوال کو اٹھاتے ہیں، تحقیقی مقالے اورکتابیں پڑھنے کی زحمت سے کتراتے ہیں یا سنجیدگی سے اس پر بحث مباحثہ نہیں کرتے۔اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ پاکستانی معاشرہ معاشی اور سماجی ترتیب کے لحاظ سے کئی ڈھانچوں پر استوار اور متعد د نسلی و لسانی گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔ کسی بھی ملک میں جمہوریت حتیٰ کہ آمریت بھی معاشرتی ساخت کی براہ راست جھلک ہوتی ہے۔
بابر ایاز نے کتاب کے ایک باب میں لکھا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے زیادہ تر ناقدین اس ٹھوس حقیقت سے صرف نظر کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو یہ دلیل دیتے ہیں کہ کم شرح خواندگی اور معاشرے کے قبائلی و نیم جاگیردارانہ ڈھانچے کے پیش نظراس ملک کے لیے جمہوریت موزوں نہیں ہے۔ یہ سوچ شہری متوسط طبقے کی عقل و دانش کی تضحیک اور پاکستان کی ساٹھ فیصد دیہی آبادی کی توہین ہے، اگرجمہوریت نے ہمیں وہ کچھ نہیں دیا جو وہ دے سکتی تھی تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے ؟پاکستان میں پہلے دن سے جمہوریت کے ساتھ مسائل رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، مگر ان کوششوں کا وہ نتیجہ نہیں نکل سکا جو نکلنا چاہیے تھا۔
ابھی آزادی کو دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ قیادت کو یہ خیال آیا کہ مسا ئل بہت گھمبیر ہیں اور جب تک لوگوں کوایک مذہبی مقصد پر اکٹھا نہیں کیا جائے گا بات نہیں بنے گی۔چنانچہ اس دلیل کے ساتھ قرارداد مقاصد پیش کر دی گئی۔ قرار داد مقاصدمنظور ہو گئی مگر مسائل جوں کے توں رہے۔بیشتر سیاست دان جن کی نظر میں ہمیشہ قلیل المدت مقاصد ہوتے ہیں ،اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مقصد کے حصول کے لیے جو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ان میں سے زیادہ تر طریقے بعد میں ایک اور انجام کوآ گے بڑھانے لگتے ہیں۔ قرار داد مقاصد کی منظوری کے بعد بھی یہی ہوا۔ آزادی کے نو سال بعد پہلا آئین بنا مگر دو سال بھی نہ چل سکا جس کے باعث سیاسی محاذ آرائی بڑھتی گئی۔
پاکستان میں عام آدمی کے اصل مسائل دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی، غربت، بے روزگاری،امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور صحت و تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ان مسائل میں اس لیے اضافہ ہوا کہ جمہوری نظام کے تحت عوام کے منتخب نمائندوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ یہ حقیقت اطمینان بخش ہے کہ عوام کی اکثریت جمہوریت کے حق میں ہے۔ اس کا ثبوت بڑی سیاسی جماعتوں کو حا صل حمایت ہے جو آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اپنے سیاسی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں۔ریاستی اداروں کی تعمیر نو کا عمل اور اعلیٰ سطح پر گورننس کا فقدان آپس میں جڑے ہوئے معاملات ہیں، جو لوگ انقلابی تبدیلیاں دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ جمہوریت کو اپنے طریقے سے ارتقاء کی منازل طے کرنا ہوتی ہیں۔ یہ ایک دن میں مسائل کا حل فراہم نہیں کرتی۔ بہت سے انقلاب جو وقت سے پہلے آئے بالآخر ناکام ہو گئے۔اس ناکامی کی بڑی وجہ داخلی کمزوریاں اور قبل از وقت جنم تھا۔
بابر ایاز نے اپنی اس کتاب کے ایک اور باب میں لکھا ہے کہ امن و امان قائم کرنے میں ناکامی اور خراب طرز حکومت کو پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے دوسرے ملکوں کو بھی اس قسم کے مسائل کا سامنا ہے مگر وہاں یہ سوال اٹھانے کی بجائے کہ ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے یا نہیں، حکومت کو اس کی ناقص کارکردگی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مسائل کا حل صرف جمہوریت میں ہے جو ووٹروں کو حق دیتی ہے کہ وہ اپنے نمائندوں پر کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں اوراگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو ووٹر آزاد ہیں کہ دوبارہ منتخب نہ کریں۔پاکستان میں جب جمہوریت کو پروان چڑھنے کا موقع ملا توہم نے بہت سی کامیابیاں بھی حاصل کیں جن میں صوبائی خود مختاری سب سے اہم ہے۔ بابر ایاز نے اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کو وعدے کے مطابق صوبائی خود مختاری کی دہلیز تک پہنچنے میں چھ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ لگا۔اس ضمن میں بڑی آئینی رکاوٹوں کواٹھارہویں ترمیم کے ایکٹ کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔
پاکستان کی داغ داغ تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک مخصوص سوچ نے ملک میں جمہوریت کے فروغ اورنتیجتاً نا ہموار اقتصادی ترقی میں منفی کردار ادا کیا۔ پہلی آئین ساز اسمبلی نے سات سال لیے اور جب اس نے آئین کا مسودہ تقریباً مکمل کر لیا تھا تو گورنر جنرل نے اس لیے اسمبلی توڑ دی کہ تمام اختیارات ان کے پاس تھے۔ نو سال بعد دوسری آئین ساز اسمبلی نے پارلیمانی نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کی منظوری دی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان سالوں میں ملک کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی بنیاد پر چلایا گیا۔ اتفاق رائے محض اس وجہ سے پیدا نہ ہو سکا کہ مرکز اپنے سیاسی اختیارات اور صوبوں کے معاشی وسائل سے الگ ہونے پر آمادہ نہیں تھا۔یہ سب کچھ ہماری جمہوری تاریخ کا حصہ ہے۔
تاریخ اس لیے لکھی جاتی ہے کہ بعد میں آنے والے پچھلی ناکامیوں اور کامیابیوں کا جائزہ لے سکیں اور اس بات پر غور کر سکیں کہ ناکامیوں کے اصل محرکات کیا تھے اور آیندہ ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ہماری جمہوریت کی تاریخ تلخ حقائق سے بھری پڑی ہے مگر ہم واحد قوم نہیں ہیں جسے اس قسم کی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ دوسری بہت سی اقوام جمہوری منزل تک پہنچنے میں ہم سے بھی زیادہ برے حالات سے گزریں۔
قیام پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد کی تایخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مزید بھی لکھا جائے گا۔ ہمارے صحافی دوست بابر ایاز نے اپنی زندگی میں اس حوالے سے بہت کام کیا اور بہت کچھ لکھا۔ ان کی پہلی تصنیف ان کی گہری تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ کتاب تقریباً ایکWhat‘s Wrong With Pakistan دہائی پہلے شائع ہوئی تھی، جس کا بعد میں اردو اورسندھی زبانوں میں ترجمہ بھی شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کے مختلف انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والے آرٹیکلز کا ترجمہ’’ پاکستان کے مسائل ، میرا نقطہ نظر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بابر ایاز مزید بھی بہت کچھ لکھنا چاہتے تھے، اگرچہ طبیعت کی خرابی آڑے آ گئی مگر وہ کہاں رکنے والے تھے۔ جب انگلیوں نے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر چلنے سے انکار کر دیا تو بولنے پر اکتفا کیا۔ وہ بولتے رہتے اور ایک معاون اسے ٹائپ کرتی رہتی۔ بالآخر قوت گویائی بھی جاتی رہی اور اپنا کام ادھورا چھوڑ کر خود بھی ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔