مرزا اسد اﷲغالبؔ نے کیا خوب کہا ؎
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں
غموں کے اپنے اپنے انداز ہوتے ہیں، اور بڑے بے باک ہوتے ہیں۔بے شک!جب تک جان ہے، جہان ہے۔لیکن اس سے پہلے غموں کی کوئی بارات بھی اُمڈ آتی ہے۔رنج ہو یا غم،ان سے سمجھوتے کرنے میں اُمید کی کوئی کرن بھی سورج بن سکتی ہے۔یہ بھی عرض کرتے رہیںکہ سسک سسک کے مرنے سے بڑی سزا اور کیا ہوسکتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی اُن کی یادیںاور باتیں آنسو بہا سکتی ہیں۔یہ بھی درست کہ مشکل میں مشکل اور مشکل۔معاف کیجئے گا!رنج ہو یا غم،ان سے سمجھوتے کرنے میں اُمید کی کوئی کرن بھی سورج بن سکتی ہے۔’’ سمجھوتہ غموں سے کر لو‘‘۔محمد علی جوہرؔ کا بھی ایک شعر نذرِ قارئین ہے۔
دورِحیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
جس معاشرے میں قاتل اور مقتول ایک ہی صف میں نظر آئیں، آنکھوں پر کیا نہیں گزری گی؟ آنسو بھی روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کاش! دُنیا بھر کے آنسو ایک ہوجاتے تو کئی سمندر ان میں غرق نظر آتے ۔اس میں کئی شک نہیں کہ ظالم کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اور ظالم کا انجام بہت ہی درد ناک ہوتا ہے۔ہماری اور دُنیا کی تاریخ اس کی چشم دید رہی ہے۔ہم پہلے ہی سمندر کے بارے میں عرض کر چکے ہیں۔یہ بھی کہیں گے کہ اس کی موجوںکی روانی میں خاموشی کی لہریں بھی کہیں نہ کہیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ناطق ؔ لکھنوی کا بھی ایک شعر نذرِ قارئین ہے۔
کہہ رہا ہے شورِدریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
مجھے کہنے دیجئے کہ کبھی کبھی خاموشی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔عدل ِ خاموشی سے بھی انصاف کی راہیں نکل آتی ہیں۔مجھے کہنے دیجئے! اس کے لیے صبر کرنا ہوتا ہے۔ شاہد احمد دہلوی کے شاہکار خاکے ‘‘ میں وہ علامہ راشدالخیری دہلوی کے بارے میں لکھتے ہیں۔’’یہ جو ایک بڑی نورانی شکل کے بڑے میاں شپڑشپڑکرتے چلے آرہے ہیں، علامہ راشد الخیری ہیں۔اُنھوں نے اپنی ساری عمر اس قلندرانہ وضع میں گزاردی، کبھی اپنا حلیہ درست کرنے کا انہیں خیال نہیں آیا۔دراصل اُنھوں نے اپنی زندگی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
سادگی ان کا خاصہ طبعی ہے۔بڑے آدمی ہیں مگر چھوٹے آدمیوںکی خدمت کر کے انھیں خوشی حاصل ہوتی ہے۔پاس پڑوس ،رشتے کنبے ،دوست احباب میںگھوم پھر کر سب کی خیریت معلوم کرتے ہیں۔کسی کی تکلیف ان سے دیکھی نہیں جاتی۔دامے، درمے،سخنے ،ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔رانڈ، بیوائیں کا ان کے گھر میں تانتابندھا رہتا ہے۔ان کی بیگم بھی انہیں کی مزاج کی آدمی ہیں۔کسی کو کچھ دیتے ہیں تو سیدھے ہاتھ کی خبر اُلٹے ہاتھ کو نہیںہوتی۔رات کا وقت…پڑوس میں سے کسی عورت کے رونے کی آواز آئی۔مولانا بے قرار ہو کر اُٹھے۔جا کر پوچھا تو معلوم ہوا کہ شام تک پھلروا لال کھیلتا مالتا رہا۔گلے میںکچھ یونہی سی تکلیف تھی۔اب لحظہ لحظہ اس کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں میںآگیا،مولانا نے دلاسا دیا۔فوراّ تانگہ کر کے نیودلی پہنچے اور اپنے ساتھ ڈاکٹر چاؤلہ کو لے آئے۔ڈاکٹر نے انجکشن دیا،مولانا نے اُسے فیس دی اور ابھی ڈاکٹرڈیوڑھی تک ہی پہنچا تھاکہ ماں کی دل دوز چیخ نے بچے کی موت کا اعلان کردیا۔گھر والے اتنے نادار تھے کہ کفن دفن کا انتظام بھی مولانا ہی کو کرنا پڑا۔مولانا نہایت دردمند انسان تھے۔
اس لیے اُن کی طبیعت غم پسند ہو گئی تھی۔زندگی کے غم کے پہلوؤں ہی کو اُنھوں نے اپنے افسانوں اور ناولوںکا موضع بنایا۔سب سے زیادہ مظلوم مخلوق انہیں مسلمان عورت دکھائی دیتی تھی۔اُسی کی حمایت میں وہ عمر بھر لکھتے رہے۔اپنی موثر غم انگیز تحریر کے باعث وہ ’’ مصورِ غم‘‘ کہلائے۔جو لوگ حزن پسند ہوتے ہیں، عموماً جھلے مزاج ہوتے ہیں مگر مولانا اپنی نجی زندگی میں بڑے خوش مزاج اور بزلہ سنج تھے۔خوب ہنستے ہنساتے تھے۔بڑے آدمیوںسے ملنے میں انہیں پس وپیش ہوتا تھا مگر برابر والوں اور چھوٹوں سے جی کھول کر باتیں کرتے تھے۔ایک بزرگ نے فرمایا، ’’ میں اُن سے بھینچ بھینچ کر گلے ملا‘‘۔مولانا پھڑک گئے،پوچھا’’ کیسے ملے؟‘‘وہ بولے ’ بھینچ بھینچ کر‘‘بار بار پوچھتے تھے۔بار بار اُن سے پوچھتے تھے اور ہنستے تھے۔ مولانا کی خوش مزاجی بسترمرگ پر بھی قائم رہی جو کوئی بیمار پُرسی کو آتا،اُس سے ہنسی کی باتیں کرتے۔اُن کے بھانجے محمد میاںنے پوچھا،’’کیوں ماموں جان ،جارج پنجم کے بعد تو اُس کا بیٹا ہی بادشاہ بنے گا‘‘۔مولانا نے فرمایا، ’’نہیں آپ کے حق میں وصیت کیے جارہے ہیں‘‘۔ حسرتؔموہانی نے کیا خوب کہا۔
آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہارِحسن
آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے
دوستو! سرِ آئینہ کوئی اور ہوتا ہے، اور پسِ آئینہ کوئی اور ہوتا ہے۔دونوں صورتوںمیں کوئی بھی ہو سکتا ہے۔آج کے ریفرنس میں غزل کی نامور گلوکارہ اقبال بانو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔’’وہ 1927 کے لگ بھگ ،روہتک ، حصار کے ایک موسیقی نواز گھرانے میں پیدا ہوئیں۔سات برس کی عمر میں وہ والدین کے ساتھ دہلی منتقل ہوئیں،جہاں اُن کے والد نے انھیں دلی گھرانے کے نامور کلاسیکی موسیقار اُستاد چاند خان کی شاگردی میں دیا۔اُستاد چاند خان نے انھیںگلو کاری اور لے کاری سے آشنا کروایا اور ہلکی پھلکی موسیقی کی تربیت دی۔1945 میں اقبال بانو نے آل انڈیا میوزک کانفرنس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا،جہاں سامعین نے ان کی سُریلی اور منفرد آواز کو بے حد پسند کیا۔کم و بیش اسی زمانے میں اقبال بانو کے فلمی سفر کا بھی آغاز ہوا۔وہ فارسی غزلوں کی گائیکی میں بھی بڑی شہرت رکھتی تھیں۔ وہ 21اپریل 2009 کو اس دُنیا سے چلی گئیں۔وہ لاہور کے احمد بلاک، گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں‘‘۔