چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب اور سبکدوش ہونے والی کابینہ نے ملاقات کی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب کابینہ کی قیادت سید امجد شاہ اور سبکدوش ہونے والی کابینہ کی قیادت ہارون الرشید نے کی۔
چیف جسٹس نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور سبکدوش ہونے والی کابینہ کے تعاون کو سراہا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہ اکہ بینچ اور بار نظامِ انصاف کے اہم ستون ہیں، نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے کے لیے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل رابطہ اور باہمی احترام ضروری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے بار نمائندگان کو عدالتی اصلاحات، کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل تبدیلی اور عوامی سہولیات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے اور جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے جامع معیاری طریقۂ کار نافذ کر دیا گیا، نئے طریقۂ کار کے تحت مقدمات مقرر کرنے کے شفاف معیارات متعین اور صوابدیدی اختیارات کو منظم کیا گیا ہے، پرانے اور نئے مقدمات مقررہ تناسب کے مطابق کاز لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جلد سماعت کی درخواستوں پر ٹھوس شواہد اور فوری نوعیت کی وجوہات کی بنیاد پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے ہر بینچ کے سامنے روزانہ تقریباً 20 سے 30 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، فوجداری اور سروس مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی بینچز تشکیل دیے گئے ہیں، سال 2025 تک دائر ہونے والی سزائے موت کی اپیلوں کے فیصلے کر دیے گئے، سال 2026 میں دائر ہونے والی سزائے موت کی اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔
خواتین کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق زیرِ التوا مقدمات 30 اگست 2027 تک نمٹانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مقدمات کا ریکارڈ او سی آر ٹیکنالوجی اور بارکوڈنگ کے ذریعے ڈیجیٹل کر دیا گیا، ڈیجیٹل ریکارڈ سے مقدمات کی فائلوں کی تلاش اور نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں کاغذ کے بغیر دفتری امور کی انجام دہی کے لیے ای آفس نظام فعال کر دیا گیا، سپریم کورٹ کے ڈیجیٹل ریکارڈ کے لیے خصوصی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ، ای فائلنگ اور الیکٹرانک مصدقہ نقول کی سہولیات عدالتی ڈیجیٹل اصلاحات کا حصہ ہیں، سپریم کورٹ میں معیارِ خدمات بہتر بنانے کے لیے آئی ایس او سرٹیفکیشن پر بھی کام جاری ہے۔
سپریم کورٹ بار کی نومنتخب کابینہ نے کمرۂ عدالت کے ساؤنڈ سسٹم اور ویڈیو لنک سہولیات میں خامیوں کی نشاندہی کی، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے ساؤنڈ سسٹم اور ویڈیو لنک سہولیات کی بہتری کا کام جاری ہے۔
ساؤنڈ سسٹم اور ویڈیو لنک سہولیات کی اپ گریڈیشن 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، سپریم کورٹ بار کے وفد نے صوبائی دارالحکومتوں میں مستقل بینچز قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ لاہور برانچ رجسٹری میں مستقل بینچ پہلے ہی کام کر رہا ہے،دیگر برانچ رجسٹریوں میں بینچز معزز ججز کی دستیابی کے مطابق تشکیل دیے جائیں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے بار نمائندگان کو عوامی سہولت مراکز اور 1818 لیگل کال سینٹر کی خدمات سے آگاہ کیا، 1818 لیگل کال سینٹر کے ذریعے شہریوں کو مفت قانونی رہنمائی اور قانونی معاونت کے حصول میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے، سپریم کورٹ میں قائم کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر تنازعات کے باہمی رضامندی سے حل کو فروغ دے رہا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے چین، ترکیہ اور جنوبی کوریا کے اعلیٰ عدالتی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، ترکیہ کی کورٹ آف کیسیشن اور آذربائیجان کی سپریم کورٹ کے ساتھ بھی عدالتی تعاون کے معاہدوں پر کام جاری ہے۔
بین الاقوامی عدالتی تعاون کے تحت پاکستانی جوڈیشل افسران اور پیشہ ور ماہرین کے وفود نے چین کے مطالعاتی دورے کیے، وفود نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ای فائلنگ اور جدید عدالتی ٹیکنالوجی سے متعلق عملی تجربات حاصل کیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتی تعاون سے ادارہ جاتی استعداد، تجربات کے تبادلے اور بہترین عالمی طریقۂ کار سے استفادے کے مواقع بڑھ رہے ہیں، قانونی برادری کو لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان میں نمائندگی دی گئی ہے۔
عدالتی اصلاحات اور پالیسی سازی میں بار کونسلز کی مشاورت اور شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ بار کی نومنتخب کابینہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتوں کی تجویز پیش کی۔
چیف جسٹس نے باقاعدہ ملاقاتوں کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور بار سے متعلق معاملات پر مسلسل مشاورت کی یقین دہانی کرائی، سبکدوش ہونے والی کابینہ نے ملک بھر، بالخصوص دور دراز علاقوں میں بار نمائندگان کے ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان کے روابط اور تعاون کو سراہا۔
نومنتخب کابینہ کا پیشہ ورانہ معیار، ادارہ جاتی تعاون اور انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، چیف جسٹس نے سبکدوش ہونے والی کابینہ کے اراکین کو خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں، سبکدوش ہونے والی کابینہ نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو یادگاری تحفہ پیش کیا۔