کراچی میں پاکستان کا پہلا ماربل سٹی قائم کیا جا رہا ہے، شرجیل انعام میمن

منصوبے سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا، سینیئر صوبائی وزیر


اسٹاف رپورٹر November 05, 2026

کراچی:

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں پاکستان کا پہلا ماربل سٹی قائم کیا جا رہا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

ماربل سٹی کراچی کی پری لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر وزیر نے کہا کہ منصوبے کے ذریعے سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موجود سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے قدرتی ذخائر کو جدید صنعتی طریقوں سے پراسیس کرکے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کی جائیں گی، جنہیں عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جا سکے گا۔

تقریب میں خصوصی معاون برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر، معروف صنعت کار عارف حبیب، سرکاری حکام، صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں کراچی ماربل سٹی انڈسٹریل پارک کی پری لانچ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے لیے آج کا دن اہم ہے اور ایک جدید صنعتی منصوبے کی پری لانچنگ خوش آئند پیش رفت ہے۔ محکمہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور محکمہ سرمایہ کاری اس منصوبے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ قاسم نوید قمر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ اس کے پیچھے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترقی پسند وژن کارفرما ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ ترقی کے میدان میں پہل کی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر آگے لے جایا جائے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کو بھی دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح آبادی میں اضافے، بے روزگاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کا مؤثر ذریعہ صنعتی ترقی اور نئی صنعتوں کا قیام ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ماربل سٹی اسی سلسلے کی ایک اہم کوشش ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو صنعتیں قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے قدرتی وسائل کو خام مال کی صورت میں فروخت کرنے کے بجائے ان کی مقامی سطح پر پراسیسنگ اور تیار مصنوعات کی تیاری کو فروغ ملے گا، جس سے ملک کو معاشی فائدہ بھی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قاسم نوید قمر اور متعلقہ حکام نے انہیں ماربل سٹی منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سرمایہ کاروں کو جدید صنعتی سہولیات فراہم کرنا اور انہیں مناسب شرائط پر کاروبار شروع کرنے کے مواقع دینا ہے۔ یہ تقریب پری لانچنگ ہے، جبکہ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کریں گے۔ پری لانچنگ کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو منصوبے کی تفصیلات اور دستیاب مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماربل سٹی میں فی ایکڑ زمین کی اوسط قیمت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مقرر کی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری نہیں ہوگا کہ وہ زمین کی مکمل قیمت یکمشت ادا کریں، بلکہ جو افراد یکمشت ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں اقساط میں ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سنگِ مرمر اور گرینائٹ کے وسیع ذخائر موجود ہیں، لیکن اب تک ان وسائل سے وہ فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا جس کی گنجائش موجود ہے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروباری برادری کو ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کریں، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں اور صنعتوں کے قیام میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔ سندھ حکومت اسی مقصد کے تحت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

انہوں نے زرعی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ملک کی بڑی آبادی کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ پاکستان کو زرعی برآمدات بڑھانے اور زرعی پیداوار کو جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی دوروں کے دوران بھی زرعی بنیادوں پر صنعتیں قائم کرنے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر توجہ دی گئی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زرعی صنعتیں قائم کرنے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دورۂ چین میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سربراہی میں سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وہاں سندھ کے نمائندے کی حیثیت سے صوبے میں موجود مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں توانائی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور بین الاقوامی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ چین میں سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران توانائی کے ساتھ زرعی بنیادوں پر صنعتوں کے قیام اور فروغ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے تقریباً بیس سال قبل جدید طرز کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ سندھ حکومت کے شروع کردہ ایس باس منصوبے کو عالمی بینک اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ دوسرے صوبے بھی سندھ کے کامیاب تجربات اور ترقیاتی ماڈلز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اگر پنجاب سمیت دیگر صوبے سندھ کے شروع کردہ اچھے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح اگر پنجاب کی کوئی اچھی پالیسی یا منصوبہ ہمیں بہتر محسوس ہوگا تو سندھ حکومت بھی اسے اپنانے میں خوشی محسوس کرے گی۔ ہم سب ایک ہی ملک کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے کے اچھے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ 2011 سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس فنڈ کے تحت کاروبار شروع کرنے یا پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے کے خواہش مند افراد کو بینکوں سے قرضوں کے حصول میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں پر شرحِ منافع کا بڑا حصہ حکومت سندھ برداشت کرتی ہے، جبکہ کاروباری افراد کو صرف ایک فیصد شرحِ منافع ادا کرنا ہوتی ہے، جو کائبور کے علاوہ ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں متعلقہ سہولت کے تحت کاروباری افراد کو پانچ فیصد شرحِ منافع ادا کرنا پڑتی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینا، لوگوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی کاروباری شعبے میں ایسی سہولیات متعارف کرانا خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کاروباری افراد کے لیے ون ونڈو آپریشن کی سہولت بھی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار معلومات اور ضروری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ اب کاروباری افراد کو تجارتی لائسنس اور دیگر ضروری تقاضے پورے کرنے کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں۔ شہری حکومت سندھ کے آن لائن نظام کے ذریعے گھر بیٹھے اپنے کاروبار کے آغاز کے لیے درکار کارروائی مکمل کر سکتے ہیں۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ کاروبار شروع کرنے سے متعلق معلومات، دستاویزات اور سہولیات حکومت سندھ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، جبکہ متعارف کرائی گئی اصلاحات اور سہولیات کا ریکارڈ بھی عوام کے لیے موجود ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان میں نئی صنعت قائم کرنے کے لیے سندھ اور بالخصوص کراچی موزوں ترین مقامات میں شامل ہیں۔ کراچی کی جغرافیائی اہمیت، موجودہ صنعتی ڈھانچے اور بندرگاہوں کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں میں صنعتیں قائم کرنے والے کئی صنعت کار بھی اب کراچی میں اپنے کاروبار منتقل کرنے اور نئی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے صنعتی سامان کراچی کی بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے اسے عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ماضی میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کا ماحول خراب کیا گیا تاکہ صنعت کار شہر چھوڑ کر چلے جائیں، لیکن اب حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں دوبارہ فروغ پائیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں شاہراہِ بھٹو کی تعمیر شہر کے شہریوں اور پورے پاکستان کے لیے ایک اہم منصوبہ ثابت ہوگی۔ اس سڑک سے کراچی کی بندرگاہ اور صنعتی علاقوں تک رسائی آسان ہوگی۔ کراچی پورٹ سے شاہراہِ بھٹو تک ایک مکمل ایلیویٹڈ روڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے، جس سے سفر کا دورانیہ 45 منٹ سے کم ہو کر تقریباً 12 منٹ رہ جائے گا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی کو دوبارہ ایک عالمی معیار کا بین الاقوامی شہر بنایا جائے۔

انہوں نے کراچی کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ شہر بین الاقوامی شناخت رکھتا تھا، یہاں ٹرام چلتی تھی اور شہر کی رونقیں دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی تھیں۔ خلیجی ممالک سمیت دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ تعلیم حاصل کرنے اور تعطیلات گزارنے کراچی آیا کرتے تھے۔ شہر کی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کے لیے انٹرنیشنل ہاسٹلز بھی موجود تھے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کراچی کے حالات متاثر ہوئے، لیکن اب شہر میں بہتری اور ترقی کا عمل دوبارہ آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحمدللہ پاکستان کے حالات بھی بہتر ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر ملک کی شناخت میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے دفاعی محاذ پر ملک کا وقار بلند کیا ہے۔ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ نے متحد ہو کر ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ دفاعی محاذ پر کامیابیوں کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار قوم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، اسی طرح حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشی محاذ پر پاکستان کو آگے لے کر جائیں۔ ہمیں دفاع کے ساتھ معیشت کو بھی مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے امن، استحکام اور اتحاد کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ عوام نے نفرت، انتشار اور جنگ کے بجائے امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں اپنی انا اور باہمی اختلافات ایک طرف رکھ کر معافی، درگزر اور مفاہمت کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ پاکستان جیسی سرزمین اور پاکستانی قوم جیسی صلاحیتوں کی حامل قوم کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ سندھ پاکستان کا دل ہے اور ہمیں محبت، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ صوبے اور ملک کو آگے لے کر چلنا ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن ماضی کے کئی قیمتی سال باہمی اختلافات اور غیر ضروری تنازعات میں ضائع کیے گئے۔ اب وقت ہے کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ پاکستان میں ہر قسم کے موسم، قدرتی مناظر اور سیاحتی مقامات موجود ہیں، لیکن ہم ابھی تک ان صلاحیتوں کو پوری طرح دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ الحمدللہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور ملکی دفاع و سلامتی کے حوالے سے مضبوط صلاحیتیں رکھتا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے اور دفاعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ہمیں داخلی اختلافات اور انتشار ختم کرکے قومی یکجہتی اور معاشی استحکام پر توجہ دینی ہوگی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کاروباری برادری اور ٹیکس ادا کرنے والے شہری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ ملک میں موجود سرمایہ کاری اور کاروبار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ زرعی بنیادوں پر صنعتوں کا فروغ بھی معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں زرعی شعبے کو جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ چین میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنسوں میں بھی سندھ میں زرعی صنعتوں کے قیام اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی اور سرمایہ کاری کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں، ان سے فائدہ اٹھائیں اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کرکے باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں، حکومتوں، صنعت کاروں اور کاروباری افراد کو ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر نے کہا کہ سندھ حکومت صرف ماربل سٹی ہی نہیں بلکہ ہر شعبے کو ترقی دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ سندھ حکومت کے چار منصوبوں کو عالمی بینک کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا ہے، جن میں شاہراہِ بھٹو منصوبہ بھی شامل ہے۔ سندھ حکومت مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور قرضے بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر قائم کرکے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو لائسنس سمیت مختلف معاملات میں سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تمام اکنامک زونز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی کام جاری ہے۔ سندھ ملک کا پاور ہاؤس ہے، جہاں بجلی پیدا کرنے کے لیے سولر اور ہائیڈرو سمیت توانائی کے مختلف ذرائع موجود ہیں۔