ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا شکست خوردہ جواری کی طرح جنگ کا میدان چھوڑنے کو تیار نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باقر قالیباف نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایک پوسٹ کے جواب میں یہ کہی۔
محمد باقر قالیباف نے لکھا کہ ہارنے والے جواری جیسی ذہنیت ہے جو میز چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں۔ باس جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اس وقت بھی اسرائیل کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی کی کھائی کے کنارے کھڑا ہے۔ طویل تقریر چھوڑیں، یہ بات اپنے باس (صدر ٹرمپ) سے کیوں نہیں کہتے؟‘‘
یہ طنز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ بنی۔
جے ڈی وینس کے بقول جنگ کے خاتمے، مہنگائی میں کمی، امریکی مفادات کو ترجیح دینے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی جیسے معاملات نے صدر ٹرمپ کے سابق حامیوں کو اپوزیشن جماعت کے امیدوار ڈیموکریٹس کی طرف مائل کیا۔
رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ بھی یہی فیصلہ کرتے جبکہ ان کے نائب جے ڈی وینس نے جنگ ختم کرنے کے اپنے سابقہ مشورے کو درست قرار دیا تھا۔
جنگ کا پس منظر اور مذاکرات کی صورتحال
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اپریل میں عارضی جنگ بندی بھی ہوئی تاہم مستقل امن معاہدہ طے نہیں پا سکا اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی فوجی حکام نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے ممکنہ منصوبوں پر بریفنگ دی ہے۔
امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ نئے حملے بھی ایران کے مذاکراتی مؤقف یا اس کے نظام حکومت کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کر سکیں گے۔
دوسری جانب ایران نے قطر سمیت ثالثوں کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کی مجوزہ سات نکاتی سفارتی تجویز پر عمل درآمد ممکن ہے تاہم امریکا کو بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات میں جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اہم معاملات ہیں۔