سندھ ہائیکورٹ؛ نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کا تنازع، سیکریٹری طلب

وفاق نے 1962 میں حکومت سندھ سے 80 ایکڑ زمین خریدی، پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل کا مؤقف


ناصر بٹ November 05, 2026
(فوٹو: فائل)

سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کی ملکیت کے تنازع سے متعلق درخواست پر آئندہ سماعت پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن کو طلب کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کی ملکیت کے تنازع سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جہاں پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ وفاق نے 1962 میں حکومت سندھ سے 80 ایکڑ زمین خریدی اور وہ زمین پی آئی اے اور کینیڈین کمپنی کو پولٹری پراجیکٹ کے لیے حوالے کی۔

انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کا مقصد ملک میں گوشت کی پیداوار کی کمی کو پورا کرنا تھا، بعد ازان جب پولٹری منصوبہ ختم ہوگیا تو یہ زمین 1999 میں اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف نے لوگوں کے لیے گھر اسکیم کے تحت مختص کردی گئی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ یہ زمین وفاق نے سندھ سے خریدی اور وفاق کی ہی ملکیت تھی اس لیے وزیراعظم اسکیم کے تحت زیر استعمال لائی گئی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار 10 جنوری 1996 کو حکومت سندھ کو 12 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دیتا ہے اور حکومت سندھ 14 جنوری کو 12 ایکڑ زمین درخواست گزار کو الاٹ کردیتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ زمین الاٹ ہونے کے بعد درخواست گزار محمد اقبال نے اسی زمین پر 15 کروڑ قرض کے عوض بینک میں گروی رکھوا دی جبکہ درخواست گزار 1996 سے 2024 تک غائب تھا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ زمین وفاق کی ملکیت ہے لہٰذا یہ درخواست ناقابل سماعت ہے جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن کو طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ مذکورہ زمین کے دعویدار محمد اقبال نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔