چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عدالتوں سے جعلسازی اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے پر سخت ایکشن لے لیا جب کہ لاہور سمیت پنجاب کی عدالتوں میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کا ڈیڑھ ارب روپے کا میگا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ عدالتی نظام کے ساتھ فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کی تیاری اور فروخت کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا۔
جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کے ذریعے قومی خزانے کو مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا، اینٹی کرپشن کے ضلع کچہری کے مختلف دفاتر پر چھاپے، جعلسازی میں استعمال ہونے والا سامان قبضے میں لے لیا گیا۔
مبینہ اسکینڈل میں متعدد ملزمان گرفتار، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں، سول کورٹ کی کاپی برانچ کا انچارج اور ماڈل ٹاؤن کچہری کا ریکارڈ کیپر بھی مبینہ جعلسازی کے مقدمے میں نامزد ہیں،
اینٹی کرپشن نے کاپی برانچ انچارج زمان اللہ اور ریکارڈ کیپر اعجاز احمد سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ملزمان سے جعلی کورٹ فیس ٹکٹس بنانے والی مشینیں پکڑی گئیں، لاکھوں جعلی ٹکٹس برآمد کرلیے گئے۔
عدالتی دستاویزات کی مصدقہ نقول کے لیے بھی جعلی کورٹ فیس ٹکٹس استعمال ہونے کا انکشاف ہوا، سرکاری خزانے میں کروڑوں روپے جمع ہونے کے بجائے جعلی ٹکٹس کے ذریعے رقم ہڑپ کیے جانے کا انکشاف ہوا، صرف لاہور میں روزانہ 15 لاکھ روپے کی کورٹ فیس آمدن متوقع، سرکاری ریکارڈ میں بھاری فرق سامنے آگیا۔
سال 2025 اور 2026 کے دوران عدالتی کام کے حجم اور سرکاری خزانے میں جمع رقم میں واضح فرق کا انکشاف ہوا، عدالتوں میں جعلی ٹکٹس کے ذریعے سرکاری محصولات کی چوری کا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔
جعلی کورٹ فیس ٹکٹس اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا جب کہ سرکاری اہلکاروں اور دیگر کرداروں کی نشاندہی شروع کی گئی۔