عباسی شہید اسپتال کے نئے بلاک کی او پی ڈی کا افتتاح

اس موقع پر سٹی کونسل اراکین، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر موجود تھے


ویب ڈیسک November 06, 2026

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال میں نئے تعمیر ہونے والے بلاک کی او پی ڈی کا افتتاح کر دیا۔

اس موقع پر سٹی کونسل اراکین، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر موجود تھے۔میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا گیا ہے، نئے بلاک کی او پی ڈی فعال ہونے سے مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی.

 سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلاک میں خصوصی بچوں کے لیے علیحدہ انتظام کیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ کی مدد سے اسپتال میں خصوصی بچوں کے لیے علیحدہ بلاک بنایا جائے گا.

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کا وعدہ بلاول بھٹو نے کیا تھا جسے پورا کیا جا رہا ہے۔ادویات کی فراہمی سے متعلق میئر نے کہا کہ جب عام مریض کو اسپتال سے ادویات نہیں ملتی تو پھر پروکیورمنٹ کرنے کا کیا فائدہ؟ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ادویات کی فراہمی کا مؤثر نظام نہیں بنتا، تب تک کوئی بھی پروکیورمنٹ نہیں کروں گا، اس معاملے کو مؤثر نظام کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کروں گا۔

ایک مبینہ معاملے کی انکوائری پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نشاندہی سب سے پہلے میڈیا نے کی، جس کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے چھاپہ مارا گیا، کارروائی کے دوران اہم شواہد سامنے آئے ہیں، گریڈ 18 کے سول افسر حنان بھٹو معاملے کی انکوائری کر رہے ہیں، رپورٹ مکمل ہوتے ہی تفصیلات میڈیا سے شیئر کی جائیں گی، اگر اس معاملے میں میری بھی شمولیت ثابت ہوئی تو میرے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، فوری طور پر سامنے آنے والی ذمہ داری کے باعث ایک شخص کو میرے حکم پر معطل کیا گیا، رپورٹ آنے کے بعد ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہوگی.

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت اور میڈیکل کے حوالے سے مزید انکوائریز بھی جاری ہیں۔سابق میئر مصطفیٰ کمال سے متعلق انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال میرے لیے قابل احترام ہیں، الزامات کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، مجھے بھی کام کرتے ہوئے انکوائری کا ڈر لگا رہتا تھا، جب کوئی کام نہیں کرے گا تو انکوائری کا ڈر بھی نہیں ہوگا، اگر انکوائری کے ڈر سے فیصلہ نہیں کیا جائے گا تو کام رک جائیں گے

ساڑھے تین سال تک اختیارات اور وسائل نہ ہونے کے جواز پر بات کرتے ہوئے میئر نے کہا کہ آج وسائل کہاں سے آ رہے ہیں؟ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز اپنے اکاؤنٹس میں رکھے گئے، گیس کٹنگ کی مد میں ملنے والے اربوں روپے بھی اکاؤنٹس میں رکھے گئے، بعض اکاؤنٹس میں منافع بخش سرٹیفکیٹس میں بھی رقم رکھی گئی، ان کی جانچ ہونی چاہیےحافظ نعیم الرحمٰن سے متعلق انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن پینٹ شرٹ میں اچھے لگ رہے تھے.