سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی۔
ہائیکورٹ میں اسد چیمبرز غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف وکلا کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ کے الیکٹرک ہے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل کے الیکٹرک نے موقف دیا کہ اسد چیمبر کی بجلی دوسرے فیڈر پر منتقل کردی ہے۔ کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کروادی۔
عدالت نے 13 نومبر کو کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ دوپہر 12 سے 2 اور شام 5 سے 6:35 تک بجلی بند رہنے سے کام شدید متاثر ہو رہا ہے۔
کے الیکٹرک کے کوئی واجبات باقی نہیں، اس کے باوجود ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کے الیکٹرک انتظامیہ سے رابطے کیے، مطلوبہ معلومات بھی فراہم کیں، کوئی فرق نہیں پڑا۔ نیپرا کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، داد رسی نہیں ہوسکی۔