ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیلسٹک میزائلوں کی پرواز کی حد 2 ہزار کلومیٹر تک محدود رکھنے کی خودساختہ پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی اور ممکنہ نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران کے لیے میزائلوں کی رینج سے متعلق عائد پابندی اب ختم کردی گئی ہے۔
جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران محض بیانات دینے کے بجائے عملی طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا۔
تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران کے پاس اس وقت 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں یا نہیں۔
یہ اعلان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کو دی گئی حالیہ وارننگ کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نوعیت اور سطح کے خطرے کا جواب جغرافیائی حدود کی پروا کیے بغیر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران کے موجودہ بیلسٹک میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 2 ہزار کلومیٹر سمجھی جاتی رہی ہے، جس کے دائرے میں جزیرہ نما عرب، مشرق وسطیٰ، مصر کے بیشتر علاقے اور یورپ کے بعض حصے آتے ہیں۔
امریکی حکام ماضی میں خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ایران کے خلائی پروگرام میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران کے پاس اس وقت 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ رینج کے میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ لگنے کا شکار ہوگیا۔ ایرانی فوج کے مطابق مذکورہ جہاز نے اپنا نیوی گیشن سگنل بند کر رکھا تھا اور ممنوعہ سمندری علاقے میں سفر کر رہا تھا۔
ایرانی حکام نے تاحال ٹینکر کی قومیت یا اس کی منزل کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔