آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے قطر کا نیا فارمولا، ایران کو جوہری معائنے پر آمادہ کرنے کی کوشش

منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کی رضامندی اور آئندہ سفارتی مذاکرات پر ہوگا


ویب ڈیسک November 07, 2026

دوحہ: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کرنے والا قطر ایک نئی سفارتی تجویز پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت ایران کو اپنے بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق قطر تہران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ان جوہری مقامات کے معائنے کی اجازت دے جہاں ایران کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ ان تنصیبات میں وہ مقامات بھی شامل ہیں جو حالیہ بمباری سے متاثر ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق قطری منصوبے میں ایران سے یہ مطالبہ شامل نہیں کہ وہ اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ لازماً ملک سے باہر منتقل کرے۔ اس کے بجائے دیگر تجاویز بھی زیرِ غور ہیں، جن میں یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنے کا طریقہ شامل ہے۔

اس عمل کو ’ڈاؤن بلینڈنگ‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم افزودہ سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایران کے جوہری ذخیرے سے متعلق خدشات کم کرنے اور سفارتی سمجھوتے کی راہ نکالنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

قطر کی کوششوں کا ایک اہم مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرکے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرانا بھی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایران نے اس تجویز کو قبول کرلیا ہے یا اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر کوئی حتمی اتفاق ہوگیا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار فریقین کی رضامندی اور آئندہ سفارتی مذاکرات پر ہوگا۔