امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے سابق سعودی انجینئر عبدالرحمٰن الفوزان نے اپنے خلاف جاسوسی اور خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
35 سالہ الفوزان نے سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں پیش ہو کر خود کو بے گناہ قرار دے دیا۔
استغاثہ کے مطابق کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں ایک خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی گئی تھی۔ یہ ڈیوائس دفتر کے ایک ایگزیکٹو کانفرنس روم میں ٹی وی کے پچھلے حصے میں موجود یو ایس بی پورٹ سے برآمد ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیوائس کو ٹوائلٹ پیپر میں لپیٹ کر انتہائی خفیہ انداز میں چھپایا گیا تھا۔
مذکورہ کانفرنس روم میں کمپنی کے حساس تکنیکی، کاروباری اور تزویراتی معاملات پر گفتگو ہوتی تھی۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ملزم کا مبینہ مقصد کمپنی کی خفیہ معلومات اور مصنوعات سے متعلق اہم تفصیلات حاصل کرنا تھا۔
الفوزان جولائی 2025 میں اوپن اے آئی سے وابستہ ہوا تھا۔ ملازمت سے برطرفی کے بعد اسے 9 اکتوبر کو ایف بی آئی نے گرفتار کر لیا تھا۔
عدالت میں ملزم نے اپنے خلاف خفیہ گفتگو ریکارڈ کرنے کا الزام قبول کرنے سے انکار کیا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے پانچ سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم کو ممکنہ طور پر ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، مقدمے کا حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔