شام حوثیوں کیخلاف جنگ میں مدد کیلیے اپنے 3 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجے گا؛ رپورٹ

فوجی ذرائع کے مطابق سیکڑوں شامی فوجی پہلے ہی سعودی عرب اور یمن میں تعینات ہیں جبکہ مزید فوجیوں کی آمد متوقع ہے۔


ویب ڈیسک November 07, 2026
شامی صدر احمد الشرح سعودی عرب کا دورہ کریں گے؛ (فوٹو: فائل)

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں سعودی عرب کی مدد کے لیے شام کے تقریباً 3 ہزار فوجی تعینات کیے جانے کا منصوبہ سامنے آیا ہے جبکہ سیکڑوں شامی فوجی پہلے ہی دونوں ممالک میں پہنچ چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متعدد یمنی فوجی اور دفاعی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور عدن میں قائم یمنی حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی سطح پر فوجی تعاون حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

تین یمنی فوجی ذرائع اور ایک دفاعی عہدیدار کے مطابق سیکڑوں شامی فوجی پہلے ہی سعودی عرب اور یمن میں تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید فوجیوں کی آمد متوقع ہے۔

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ شام اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تقریباً 3 ہزار فوجی بھیجنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ذریعے نے بتایا اس منصوبے کی منظوری شامی صدر احمد الشرع کے حالیہ دورہ ریاض کے دوران دی گئی جہاں دونوں ممالک نے دفاعی معاہدے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

یمنی فوجی حکام کے بقول یمن کی سرحد کے قریب پہلے سے موجود شامی اہلکار حوثی باغیوں کے خلاف ڈرون آپریشنز کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔

یمن کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 3 ہزار شامی جنگجو، فوجی افسران اور ماہرین تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے جن میں سے کچھ پہلے ہی میدان میں موجود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان دوبارہ شدید لڑائی جاری ہے۔

حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے بعد ریاض نے اپنے علاقائی اتحادیوں سے فوجی تعاون حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

شام اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو بھی دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم شامی حکومت کی تردید اور یمنی حکام کے دعوؤں کے درمیان واضح تضاد موجود ہے جبکہ شامی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق ان اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔