کراچی: ایک عظیم شہر کا انتظامی زوال

محض افتتاحی تختیاں نصب کرنے اور ترقی کے خوش نما دعوے کرنے سے شہروں کی تقدیر نہیں بدلتی



کراچی کی تاریخ پاکستان کے معاشی ارتقا، تہذیبی تشخص اور شہری تمدن کی ایک ایسی داستان ہے جس میں ترقی و خوش حالی کے روشن ابواب بھی ہیں اور انتظامی زوال کے تلخ حقائق بھی۔ یہ شہر محض ایک بندرگاہ، صنعتی مرکز یا تجارتی منڈی نہیں بلکہ اپنے وسیع معاشی امکانات، ثقافتی تنوع، سماجی کشادگی اور شہری زندگی کے متحرک نظام کے باعث پورے خطے میں منفرد شناخت رکھتا تھا۔

اس کی شاہراہیں، ساحلی پٹیاں، تعلیمی مراکز، تجارتی منڈیاں اور رہائشی بستیاں ایک ایسے منظم شہری تمدن کی عکاس تھیں جہاں معاشی سرگرمیاں اور اجتماعی زندگی ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتی تھیں۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس شہر کی پہچان ترقی کے امکانات کے بجائے انتظامی انتشار، بنیادی سہولتوں کی قلت اور شہری بے بسی سے وابستہ ہوتی جا رہی ہے۔

کراچی کا موجودہ بحران کسی ایک عہد، ادارے یا سیاسی جماعت کی انفرادی کوتاہی کا نتیجہ نہیں، تاہم سندھ میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی حکومتوں کی انتظامی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ محاسبہ کیے بغیر اس صورت حال کا جامع تجزیہ ممکن نہیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ قومی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کرنے والے شہری پانی، سڑکوں، نکاسیِ آب اور معیاری طبی سہولتوں کے حصول کے لیے مسلسل پریشان کیوں ہیں؟ اگر خطیر ترقیاتی بجٹ، حکومتی اعلانات اور متعدد منصوبوں کے باوجود شہری زندگی میں نمایاں بہتری نہیں آ رہی تو منصوبہ بندی، مالیاتی شفافیت، انتظامی نگرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی کے پورے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔

محض افتتاحی تختیاں نصب کرنے اور ترقی کے خوش نما دعوے کرنے سے شہروں کی تقدیر نہیں بدلتی، اس کے لیے مستحکم ادارے، موثر حکمت عملی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔شہر کی شکستہ شاہراہیں اور نامکمل ترقیاتی منصوبے انتظامی زبوں حالی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ کہیں تعمیر و مرمت کے کام برسوں سے التوا کا شکار ہیں، کہیں سڑکیں مکمل ہونے کے چند روز بعد دوبارہ کھدائی کی نذر ہو جاتی ہیں اور کہیں منصوبوں کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت محض کاغذی وعدہ بن کر رہ جاتی ہے۔

ایک ہی شاہراہ پر پانی، گیس، بجلی، مواصلات اور نکاسیِ آب کے ادارے باہمی رابطے کے فقدان کے باعث یکے بعد دیگرے کھدائی کرتے رہتے ہیں، جس سے شہریوں کا قیمتی وقت، ایندھن اور قومی سرمایہ ضایع ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ اداروں کے درمیان مشترکہ نظام الاوقات مرتب نہیں کیا جا سکتا؟ کیا کسی سڑک کی تعمیر سے پہلے زیر ِ زمین تنصیبات کی جامع نقشہ بندی ممکن نہیں؟ کراچی کو نمائشی تعمیراتی منصوبوں کے بجائے معیاری، پائیدار اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والے ترقیاتی اقدامات درکار ہیں۔ صاف پانی محض ایک سہولت نہیں بلکہ صحت عامہ، انسانی وقار اور مہذب معاشرت کی بنیادی ضرورت ہے۔

اس کے باوجود کراچی کے متعدد علاقوں کے مکین روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس صورت حال نے پانی کی ترسیل، منصفانہ تقسیم اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

ٹینکر مافیا سے متعلق شہری شکایات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ قلت آب کے حقیقی اسباب، غیر قانونی کنکشنز اور تقسیم کے نظام میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا تعین کیا جا سکے۔ دوسری جانب نکاسی آب کا فرسودہ نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور تعمیراتی دباؤ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔

بارشوں کے دوران سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا بھی اسی کمزور شہری ڈھانچے کی نشاندہی کرتا ہے۔شہری منصوبہ بندی کا بنیادی اصول ہے کہ بلند و بالا عمارتوں اور تجارتی توسیع سے پہلے پانی، سیوریج، بجلی، پارکنگ اور شاہراہوں کی استعداد کا سائنسی جائزہ لیا جائے، اگر کسی علاقے کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی اپنی گنجائش سے تجاوز کر چکا ہو تو وہاں کثیر المنزلہ عمارتوں کی منظوری مستقبل کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

متعلقہ ترقیاتی اداروں کو ہر تعمیراتی منصوبے کے لیے بنیادی سہولتوں کی دستیابی، ماحولیاتی اثرات اور شہری ضروریات کا جامع جائزہ لازمی قرار دینا چاہیے۔ اسی طرح ساحلی علاقوں میں بے ہنگم تجارتی تعمیرات بھی تشویش ناک ہیں۔

سمندر اور ساحلی پٹی کسی مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے شہر کا مشترکہ قدرتی اور تمدنی ورثہ ہیں۔ چنانچہ ساحل تک عوام کی آزادانہ رسائی اور قدرتی ماحول کا تحفظ ہر تجارتی مفاد پر مقدم ہونا چاہیے۔کراچی کی آبادی کا غیر معمولی دباؤ بھی شہری مسائل میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔

شہر کی حقیقی آبادی، مردم شماری اور انتظامی تعین کے حوالے سے مختلف تحفظات اور اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان سوالات کا فیصلہ سیاسی بیانات یا قیاس آرائیوں کے بجائے شفاف مردم شماری اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

آبادی کا درست تعین محض شماریاتی کارروائی نہیں بلکہ قومی و صوبائی وسائل کی منصفانہ تقسیم، تعلیمی ضروریات، طبی سہولتوں اور شہری منصوبہ بندی کی بنیادی اساس ہے۔ کچی آبادیوں کا مسئلہ بھی محض انہدامی کارروائیوں سے حل نہیں ہو سکتا۔

غیر قانونی قبضوں اور تعمیرات کے خلاف قانون کا یکساں نفاذ ضروری ہے، تاہم مستحق شہریوں کی آبادکاری میں انسانی ضروریات، قانونی تقاضوں اور سماجی انصاف کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔صحت عامہ کا شعبہ بھی فوری اصلاحات کا متقاضی ہے۔ بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی دباؤ، طبی عملے کی قلت، تشخیصی سہولتوں کی محدود دستیابی اور انتظامی مشکلات سرکاری نظام صحت کی استعداد پر سوالیہ نشان ہیں۔