نیتن یاہو مشکل میں؟

ان انتخابات کے نتائج سے صاف پتا چلتا ہے کہ عوام نے نیتن یاہو کی کارکردگی کو قومی مفاد میں نہیں سمجھا


عثمان دموہی November 08, 2026

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات منعقد ہوئے۔ نیتن یاہو اسرائیل دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے بے چین تھا۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر جارحیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں ، غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھا ہے، چنانچہ اسرائیلی عوام اس کی اس جارحیت سے خوش ہوکر اسے پہلے سے زیادہ ووٹوں سے نوازیں گے مگر اسرائیلی عوام کو اس کی سفاکیت پسند نہیں آئی۔

حالاں کہ ایک سال قبل غزہ میں جنگ بندی ہوچکی ہے مگر نیتن یاہو اس دوران بھی اپنے ظلم و ستم سے باز نہیں آیا ہے۔ وہ شاید یہ سوچ رہا تھا کہ فلسطینیوںکا جو قتل عام کررہا ہے،اسے اس کی قوم سراہے گی ۔ اب وہ الیکشن ہار چکا ہے کیوں کہ 120کے ایوان میں اس کا اتحاد کل 53 سیٹیں حاصل کرسکا ہے، جب کہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہے۔

ان انتخابات کے نتائج سے صاف پتا چلتا ہے کہ عوام نے نیتن یاہو کی کارکردگی کو قومی مفاد میں نہیں سمجھا۔ اس کی تمام توجہ جنگ و جدل پر رہی اور عوامی حالت زار کی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس دفعہ عرب پارٹیوں نے 19نشستیں حاصل کی ہیں جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ان کی شاندار کامیابی ہے۔

اس دفعہ عربوں نے نیتن یاہو کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے آپس میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیتن یاہو کی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، اس نے غصے میں عرب پارٹیوں پر ووٹ چوری کا الزام لگایا ہے جسے اسرائیلی الیکشن کمشنر نے سرے سے خارج کردیا ہے۔

اب حالات ایسے بنتے نظر آرہے ہیں کہ نیتن یاہو کا اقتدار میں واپس آنا ناممکن ہی نظر آتا ہے کیونکہ حزب اختلاف کی تمام ہی پارٹیوں نے نیتن یاہو کو حکومت سے باہر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ حزب اختلاف پارٹیوں کے اتحاد کے رہنما آئزن کوٹ نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے عرب جماعتوںسے اتحاد کرنے کے لیے تیار ہیں مگر شرط یہ ہے کہ اب نیتن یاہو حکومت میں شامل نہیں ہوگا۔ اس طرح نیتن یاہو جو الیکشن سے پہلے پرامید تھا اب اس کی بہت بے عزتی ہورہی ہے۔

اس وقت اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے، ایسے میں عرب نشستوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ آئزن کوٹ ہوں یایتن یاہو کا اتحاد، عربوں سے اتحاد کیے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئزن کوٹ آگے بڑھیں گے اور عربوں کو ساتھ ملاکر حکومت بنالیں گے مگر وہ بھی نیتن یاہو سے کم مسلم مخالف نہیں ہیں مگر وہ اقتدار حاصل کرنے اور نیتن یاہو سے نجات پانے کے لیے ایسا کرسکتے ہیں تاہم آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل کچھ انتہا پسند جماعتیں ان کا ساتھ نہ دے سکیں اور وہ اگر نیتن یاہو کے ساتھ مل جائیں تو پھر نیتن یاہوکے پھر سے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ اس وقت نیتن یاہو آئزن کوٹ کے اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے پورا زور لگا رہا ہے مگر لگتا ہے نیتن یاہو پھر بھی کامیاب نہ ہوسکے گا ، شاید اب نیتن یاہو اپنے ظلم و ستم پر شرمندہ ہورہا ہوگا، اس سے تو قدامت پسند یہودی بھی سخت ناراض ہیں کیوںکہ وہ انھیں فوج میں بھرتی ہونے کے لیے مجبور کررہا ہے۔

اس زبردستی پر قدامت پسند یہودی نیتن یاہو کو ہٹلر کے ظلم سے جوڑ رہے ہیں، وہ تو اسرائیلی فوج کو بھی نازی ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ اسرائیلی معاشرے میں ان قدامت پسند یہودی کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے مگر یہ بہت بااثر ہیں ۔

انھیں شروع سے اسرائیلی فوج میں لازمی خدمت سے استثنٰی حاصل تھا مگر اب نیتن یاہو نے انھیں بھی فوجی خدمات انجام دینے پر مجبور کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہٹلر کے ہولو کاسٹ کے باوجود زندہ بچ گئے تھے، ان کے ایک سینئر رہنما ربی ڈوف لاندو کا کہنا ہے کہ ہم مذہبی لوگ ہیں، ہمیں فوج میں خدمت انجام دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ ہمیں زخمی فوجیوں کی عیادت کے لیے بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا۔کچھ یہودیوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مذہب کی آڑ میں اسرائیل کے دفاع کی ذمے داری سے پہلوتہی کررہے ہیں۔

ادھر نیتن یاہو عرب ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک کے خلاف بھی بیان دے رہا ہے اور انھیں اسرائیل کا دشمن قرار دے رہا ہے، اس کے جواب میں فرانس ، اٹلی اور جرمنی کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں نیتن یاہو کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور اسے عربوں کا ہی نہیں بلکہ عالمی امن کا دشمن قرار دیا ہے۔

اس وقت نیتن یاہو سخت مشکل میں پھنسا ہوا ہے مگر حکومت حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کررہا ہے۔ لگتا ہے اب اس کا ظلم اسے لے ڈوبے گا۔ ایسے میں اس کا یار غار مودی بھی اس کی کوئی مدد نہیں کر پارہا ہے، لگتا ہے اگلے الیکشن میں مودی خود اپنا اقتدار کھو سکتا ہے۔ ادھر ٹرمپ بھی اس کی کوئی مدد کرتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے جو عرب ممالک کے درمیان واقع ہے۔ عرب ممالک اکٹھے ہوکر اسے یقیناً نیست و نابود کرسکتے ہیں مگر انھیں ڈر ہے کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا ناراض ہوجائے گا۔

پورے مشرقی وسطیٰ میں ترکیہ، سعودی عرب اور ایران ہی وہ ممالک ہیں جو اسرائیل کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہوئے ہیں۔ فی الحال ٹرمپ نے ایران کو مشکل میں ڈال دیا ہے ،اب تو ایران پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ ٹرمپ آخر اسرائیل پر سابقہ امریکی صدور سے زیادہ کیوں مہربان ہورہے ہیں تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا داماد جیرڈکشنر یہودی ہے۔