پاکستان کی معاشی صورت حال کے حوالے سے عمومی تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ معیشت کے سارے سیکٹرز پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی سال کے دوران ملک میں معاشی استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ڈالر کی قیمت گو زیادہ ہے تاہم خاصے عرصے سے ایک سطح پر مستحکم چلی آ رہی ہے۔اشیا خورونوش کے حوالے سے دیکھا جائے تو مارکیٹ میں اجناس کی کمی نظر نہیں آتی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور کچھ اشیا کی قیمتیں خاصی بڑھ چکی ہیں۔
روز گار کے حوالے سے دیکھا جائے تو بیروز گاری کی شرح میں اضافہ ہوا۔ خصوصاً پڑھے لکھے طبقے میں بیروز گاری بڑھی ہے جب کہ ہنرمند طبقہ بھی اپنے ہنر کے مطابق روز گار حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب نظر نہیں آتا۔
ملک میں پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں میں بھی بیروز گاری کی شرح زیادہ ہے خصوصاً انجینئرز اور ڈاکٹرز میں بیروز گاری زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اگر انجینئرز اورڈاکٹرز کو کوئی نجی سیکٹرز میں نوکری ملتی ہے تو ان کی تنخواہیں خاصی کم ہیں۔
ادویات کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے کی طرف نظر ڈالیں تو وہاں بھی صورت حال زیادہ بہتر نہیں ہے۔ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن زراعت پر اتنی ہی توجہ کم ہے۔
درآمدات اور برآمدات کا تواز دیکھا جائے تو وہاں بھی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے۔ درآمدی بجٹ اب بھی بہت زیادہ ہے۔ توانائی کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت بہت بڑھ چکی ہے۔
جس کی وجہ سے مقامی صنعت جو مال تیار کر کے مارکیٹ میں لاتی ہیں اس کی قیمت درآمدی اشیا کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اخباری اطلاع کے مطابق پاکستان کاتجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 16 فیصداضافے کے ساتھ 14 ارب 60 کروڑڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیزرفتار اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار ترقی ہے۔
بڑھتاہواتجارتی خسارہ ملک کے بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار میں مزید اضافے کاسبب بن سکتا ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 2 ارب ڈالرکااضافہ ریکارڈکیاگیا۔
رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں درآمدات 26 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جوگزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ارب 90 کروڑڈالر یا 12۔5 فیصد زیادہ ہیں۔اس کے برعکس برآمدات میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور جولائی تا اکتوبرکے دوران مجموعی برآمدات 11 ارب 40 کروڑ ڈالررہیں،جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صرف 89کروڑڈالر زیادہ ہیں۔
اس دوران ماہانہ اوسط درآمدات 6.5 ارب ڈالر جب کہ برآمدات 2.8 ارب ڈالررہیں۔تجارتی خسارے میں اضافے کے اعدادوشمارایسے وقت سامنے آئے ہیں،جب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکشاف کیاتھاکہ پاکستان کو گزشتہ ماہ سعودی عرب سے مزید 3 ارب ڈالرکے قرض کی مدت میں توسیع مل گئی ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایاکہ ملک کو بیرونی قرضوں کی مدمیں ادائیگیاں کرناہیں، تاہم حکومت دوطرفہ اورکمرشل قرضوں کی مدت میں توسیع حاصل کرنے کی کوشش کریگی،حکومت زرمبادلہ ذخائر برقراررکھنے کیلیے مسلسل نئے غیرملکی قرضوں کی تلاش میں بھی ہے۔
خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے وعدہ کیاہے کہ آئی ایم ایف کا 25واں پروگرام پاکستان کی تاریخ کاآخری پروگرام ہوگا،جوآیندہ ستمبر میں مکمل ہوناہے، تاہم اس دعوے کی عملی آزمائش آنے والے برسوں میں ہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے دوران درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کاتخمینہ لگایا، جس کی بڑی وجہ توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافے کاامکان ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کیلیے اشیاکی برآمدات کا ہدف 34 ارب ڈالر مقررکیاہے،حکومت نے برآمدات میں اضافے کیلیے بڑے برآمدکنندگان کوسستے قرضوں کی فراہمی کی خاطر بجٹ میں 88 ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی ہے،تاہم ماضی میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی بھی برآمدات کوخاطر خواہ فروغ دینے میں ناکام رہی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جاناضروری ہے،حکومت کی تجارتی آزادکاری کی پالیسی بھی تاحال برآمدات میں متوقع اضافہ لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تو ملکی معیشت کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔ پاکستان ایف ٹی اے ایف کی گرے لسٹ میں شامل تھا۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی رفتار بہت زیادہ تیز تھی بلکہ ڈالر مسلسل اوپر جا رہا تھا جس کی وجہ سے ملک میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی تھیں۔
اجناس کی قیمتوں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا اور کئی اجناس کی قلت پیدا ہو گئی تھی ۔موجودہ حکومت نے برسراقتدار آ کر معاشی محاذ پر خاصا بہتر کام کیا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تعلقات درست نہیں تھے۔
آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا ‘اس وجہ سے ملکی معیشت کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر صورت حال کو سنبھالا نہ گیا تھا خدانخواستہ پاکستان دیوالیہ ہو سکتا ہے۔اس صورتحال میں موجودہ حکومت نے بہتر پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔سب سے بڑا اور اہم کام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے ملک کو نکالنا تھا ‘موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ایف اے ٹی ایف کیگرے لسٹ سے پاکستان نکل گیا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہو گئے۔سعودی عرب اور دیگر دوست ملکوں نے پاکستان کی مدد پر رضامندی ظاہر کی جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت بحالی کے دور میں داخل ہو گئی۔ آج پاکستان میں غیرملکی زرمبادلہ خاصی بلند سطح پر موجود ہے۔
گو پاکستان کو ابھی بھاری قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک نے کہا ہے کہ 2025 کو ختم عشرہ تک پاکستان کا بیرونی قرضہ دوگنا ہو کر 135.1ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے۔
عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ2026 کے مطابق 2015ء میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 68.673 ارب ڈالر،2025میں بڑھ کر 135.107ارب ڈالر ہو گیا، اس میں107.076ارب ڈالر ضمانت یافتہ،17.58 ارب ڈالر نجی غیر ضمانت یافتہ،10.45ارب ڈالر قلیل مدتی قرض شامل ہے، ضمانت یافتہ قرض میں 56.83 ارب ڈالر کثیر الجہتی اداروں،42.43 ارب ڈالر دوطرفہ قرض دہندگان، 7.8ارب ڈالر نجی قرض دہندگان کا ہے۔
پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بہر حال بڑھ گیا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پاکستان میں پچھلے دو برس کے دوران جو سیاسی کھیچا تانی رہی ہے ‘اس کی وجہ سے بھی معیشت پوری رفتار سے چل نہیں پائی لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے اصلاحات کا عمل جاری رکھا۔
اس اصلاحاتی عمل کے باعث پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تعاون جاری ہے بلکہ ماضی کے مقابلے میں خاصا بڑا ہے۔ عالمی بینک ‘ایشیائی ترقی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کا اعتماد بھی پاکستان پر بڑھا ہے۔حالیہ خلیجی جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں معاشی مسائل جنم لیے ہیں ‘دنیا کی ترقی یافتہ معیشت بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئی ہے۔
امریکا جیسی ترقی یافتہ اور بڑی معیشت کو بھی مسائل کا سامنا ہے اور وہاں بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ مغربی یورپی ملکوں میں بھی توانائی مہنگی ہوئی ہے۔پاکستان میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور توانائی کے دیگر ذرائع میں جو اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس کی بنیادی وجہ بھی خلیج کا بحران ہے۔ اس خطرناک بحران کے باوجود دیگر ترقی پذیر ملکوں کی معیشت کی نسبت پاکستان کی معیشت نے بہتر پرفارمنس دی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں ترقی کا پوٹینشل موجود ہے۔وفاقی اور ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو زراعت پر خصوصی فوکس کرنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کی بقا اور سلامتی کی ضمانت فوڈسیکیورٹی ہوتی ہے۔زراعت وہ شعبہ ہے جو ملکوں کو فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان میں روز گار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں ‘اجناس کی فراوانی بھی ہو سکتی ہے اور روز گار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے معیشت دانوں اور پالیسی سازوں کو چاروں صوبوں کی گہری اسٹڈی کر کے ‘ان کی صورتحال اور محل وقوع کو سامنے رکھ کر زرعی اور صنعتی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔خیبرپختونخوا میں مینرلزاور مائننگ کے حوالے سے کاروباری فریم ورک تیار کرنا چاہیے۔
یہاں ٹور ازم کے حوالے سے بھی کاروباری مواقع کو سامنے رکھ کر فریم ورک تیار ہونا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں وہاں کے وسائل کو سامنے رکھ کر معاشی حکمت عملی بنانی چاہیے۔ زرعی شعبے کو اجناس کی پیداوار تک محدود رکھنے کی بجائے ‘ایگری بزنس پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اگر ان خطوط پر کام کیا جائے تو آنے والے چند برسوں میں پاکستان ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔