غصہ اور فرعونیت

سوال ، سوال اور بہت سارے سوال اور اس سب کا جواب تو ہمارے اپنے دلوں میں ہی چھپا ہے


شہلا اعجاز November 08, 2026

ایک مرید نے اپنے بزرگ سے دریافت کیا کہ کون سی چیز سخت تر ہے؟ فرمایا’’ تمہارا غصہ،‘‘پوچھا ’’ غصہ کس لیے آتا ہے اور وہ کون سے اسباب ہوتے ہیں جن سے یہ نشوونما پاتا ہے؟‘‘ فرمایا’’ تکبر، عزت پسندی اور حمیت اور وہ اسباب جو غصے میں شدت پیدا کرتے ہیں ۔‘‘ کبرا مزاج، لغو گوئی ، عار دلانا، بات کاٹنا، ضد کرنا، مال و جاہ کی حرص وغیرہ یہ سب حاسد اخلاق کے دائرے میں آتے ہیں۔

جاہلوں کو غصہ ایک اور سبب سے بھی آتا ہے وہ بے چارے اپنی جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ غصہ کرنا مردانگی اور بہادری ہے اور جو لوگ غصہ نہیں کرتے وہ حقیقت میں مرد کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے وہ لوگ عزت نفس ، بلند ہمتی اور خوداری سے تعبیر کرتے ہیں۔ غصہ کو عزت نفس اور بہادری کا نام دینا جہل ہے۔ یہ دل کے مرض اور عقل کے نقص کی علامت ہے۔ اس کے لیے وہ غیروں سے کیا اپنوں سے بھی ناروا سلوک کرتے ہیں۔

حدیث نبوی کا مفہوم ہے۔’’ پچھاڑنے سے آدمی طاقتور نہیں ہوتا بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔‘‘

ابھی حال ہی میں ایک واقعے نے دل دہلادیا کہ ہماری اس مملکت میں جسے اقبال کا خواب، قائد اعظم کی انتھک محنت کا ثمر اور اسلام کا قلعہ بنانے اور سمجھانے کی کوشش گزشتہ انہتر سالوں سے کی جارہی تھی آج ہم اپنے غصے اور غیض و غضب میں اتنے دیوانے کیسے ہوتے جارہے ہیں کہ سب کچھ بھلاکر اپنے دل کی دہکتی آگ جسے ہمارے اندر کے احساس کمتری ، برتری اور نجانے کتنے احساسات نے اتنا بڑھا دیا کہ نہ کچھ دیکھا نہ جانا اور لگے اپنے مردانگی کا اظہار کرنے۔

گلستان جوہر کراچی میں ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر کی گاڑی سے ایک معمولی نوعیت کا حادثہ پیش آیا۔ رکشہ والا یقینا اثر انداز ہوا لیکن خاتون نے ایسا نہ کیا کہ ادھر ادھر سے گاڑی دوڑا کر نکلنے کی کوشش کی ۔ انھوں نے ہمت مردانگی دکھائی اور اپنی گاڑی سے نکل کر اس جانب بڑھی، بہت ساری باتیں، بہت سے فسانے، لیکن ساری کہانی اس ایک خوفناک نقطے پر آکر ٹھہرگئی جب اس خاتون کو ایک مونچھوں والے نوجوان کے ہاتھوں بے عزت ہوتے دیکھا۔

ایک شریف خاتون کی اس سے زیادہ اور کیا تذلیل ہوگی جو وہ سڑک پر اجنبی اور غیظ و غضب میں بھرے کسی مرد کی نام نہاد مردانگی کا شکار بنی۔ ایک شریف انسان کے لیے تو ایک برا لفظ، تحقیر ، اشارے، کنایے ہی ناقابل تذلیل ہوتے ہیں کہاں کہ یہ جرات جو کم از کم ہمارے اسلامی اور پاکستانی معاشرے نے ہرگز بھی کسی مرد کو نہیں دی تھی۔

اس حادثے سے پہلے ہم بڑے اکڑ کر کہتے تھے کہ بھئی ہمارے پاکستان میں تو عورتوں کی بہت عزت کی جاتی ہے لیکن یہ دیکھ کر تو روح ہی لرز اٹھی۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ شخص یا اشخاص کو اپنی دلی خواہشات کا اظہار مل گیا کسی شریف زادی کو یوں رسوا کرتے ۔

حادثے کہاں نہیں ہوتے۔ پاکستان میں تو آئے دن اس طرح کے حادثات اخبارات و رسائل پر چھپتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی پھرتیاں تو منٹوں میں عیاں کردیتے ہیں۔ ٹرالرز اور بڑے مال بردار ٹرکوں سے کتنی ہی جانیں ایک ساتھ دنیا سے رخصت ہوئیں۔

لوگ چلائے، روئے، احتجاج کیے پر کیا ہوا ڈرائیور فرار اور کبھی ٹرک نذر آتش تو کبھی ایسے ہی عبرت کا نشان بنا اپنی جگہ پر ہنوز ایستادہ ۔ یہاں تک کہ ٹینکرز کے مالکان نے احتجاج شروع کردیا کہ اگر ہمارے ٹینکرز کو جلایا تو ہم اپنا کام بند کردیں گے، لیکن کیا ہوا؟

سوال ، سوال اور بہت سارے سوال اور اس سب کا جواب تو ہمارے اپنے دلوں میں ہی چھپا ہے۔ ہم باہر لوگوں سے لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، خاموش کرانے کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں، پلان بنے جاتے ہیں پر دلوں کے بھید جاننے والا سب واقف ہے۔ دوسروں پر حکم چلانا آسان ہے۔ کیا ہم اپنے دلوں پر حکم چلاسکتے ہیں۔

اس بے قابو ہوتے نفس کو تھپک کے سلا سکتے ہیں کہ ’’اے بے عقل نہ تجھے سمجھ ہے نہ علم، کہاں بہتا جارہا ہے ذرا رک ، میرا یہ عمل تو مجھے ہی آگ میں دھکیل دے گا‘‘ لیکن نہیں، رکنا، سنبھلنا اور پھر عقل و شعور سے سوچنا کہ کیا جو ہم کرنے جارہے ہیں ہمارا مذہب، ہمارا معاشرہ ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے۔

ایک اور مثال پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی ہے جہاں شادی سے انکار کرنے پر ولیمے کے روز قتل کردیا گیا۔ کہا جارہا ہے کہ لڑکا کسی لڑکی کو پسند کرتا تھا، اب یہ اس کی اپنی پسند تھی، لڑکی کی پسند کا کوئی ذکر ہی نہیں۔

اس نے لڑکی کے گھر رشتہ بھجوایا لیکن لڑکی کے والدین نے انکار کردیا۔ لڑکا پاکستان سے باہر چلاگیا جب دو تین سالوں بعد لوٹا تو پتا چلا کہ لڑکی کی شادی ہورہی ہے، موصوف کے خون نے جوش مارا اور لڑکی جب اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں جارہی تھی، فائرنگ کرکے اسے ختم کردیا۔

سوال پھر عزت کا اٹھایا گیا جواب پھر ایک ہی ہے کہ کیا اس کی عزت کسی کے خون سے اسے واپس مل گئی۔

یہ دو حادثات مختلف نوعیت کے ہیں لیکن یہاں پر اہم بات جہالت اور نام نہاد مردانگی کی ہے۔

پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں کم از کم چار سو ستر خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئی ہیں۔

حالاں کہ 2016ء میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قوانین منظور کیے گئے تھے۔ ان سخت قوانین میں واضح درج ہے کہ یہ ناقابل تصفیہ یعنی مقتول کے ورثاء قاتل کو معاف نہیں کرسکتے، نہ ہی دیت یا صلح کے ذریعے کیس ختم ہوسکتا ہے۔

جرم ثابت ہونے پر مجرم کو کم از کم عمر قید کی سزا سنائی جائے۔ اس تمام سے مراد یہ ہے کہ اس قسم کے قتل مزید نہ بڑھیں لیکن ان تمام قوانین کے باوجود کرنے والے اپنا کام یا اپنی غیرت کو جوش دلاکر ٹھنڈا کرنے کا کام کر چکتے ہیں ۔اس سے ظاہر یہ ہی ہوا کہ دراصل خامی قوانین میں نہیں، ہمارے معاشرے کے اس تیزی سے بدلتے خطرناک رحجان کی ہے جو سرراہ، سربازار، چھپے کھلے بندوں اپنی انا غصے اور جہالت کی تسکین کے لیے کرگزرنے کو بہتر سمجھتا ہے۔

یہ سوچے بنا کہ اس کا یہ عمل اسے ہرگز معافی نہیں دلاسکتا۔ قانون کی حد میں بھی اور رب العزت کی پکڑ سے بھی کیا ہم حالیہ ان تمام واقعات کو نظر انداز کرسکتے ہیں۔ جب بارش کے موسم میں گلی کوچوں میں فضول حرکات کو سوشل میڈیا نے اپنے کیمرے میں قید کرلیا تھا اور پولیس کی چھترول سے بچ نہ پائے تھے ۔

صرف اتنا ہی نہیں اسی سوشل میڈیا کے ذریعے سب کے سامنے اپنا جرم قبول کرتے اور سب سے معافی مانگنے کی وڈیوز بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ کیا اتنا سب ایک عام انسان کے لیے کم ہے لیکن اس غصے اور جہالت سے بھرپور سوچ کا کیا کریں جو وقت پڑنے پر ایک عام سے کمزور مزدور کو وحشی درندہ، فرعون بنا دیتی ہے جو اپنے اندر کے نفس کی آگ میں جھلس کر بھول جاتا ہے کہ اسے نہ صرف حکومت کے قانون بلکہ اوپر والے کے قانون کا بھی سامنا کرنا ہے۔