’’خوابستان‘‘ کی حقیقی دنیا

جب پروین شاکر کا ذکر آجائے تو قلم خود بخود متحرک ہوجاتا ہے


نسیم انجم November 08, 2026

میں اس وقت دو کتابوں پر کالم لکھنے کی کوشش میں مصروف ہوں لیکن کامیابی ناممکن ہے، اس ہی وجہ سے ایک کتاب کا انتخاب کرلیا ہے۔فرحت پروین ملک کی چوتھی کتاب ’’خوابستان‘‘ ۔ نہ جانے محترمہ فرحت ملک کی طویل عمر میں کتنے مواقع میسر آئیں کہ وہ ایک بار اپنے آپ کو قلم و قرطاس کے سپرد کردیں۔انھوں نے کتاب کے آخری صفحہ 264 پر حالی کا شعر درج کرکے اپنی ہی بات کی نفی کردی ہے۔

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

ساماں سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

بے شک کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کسی بھی شوق کے تحت کتنا کام کرسکے گا، بس شرطیکہ ، صحت اور حالات سازگار ہوں۔فرحت پروین ملک صاحبہ کی میں نے تینوں کتابیں توجہ، دلچسپی اور حیران ہوکر پڑھی ہیں کہ وہ اتنی اچھی ادیبہ اب تک کہاں تھیں؟ لیکن ’’یادوں کا سندر بن‘‘ اور ’’دربار ادب‘‘ میں اس سوال کی وضاحت انھوں نے خود ہی کردی ہے کہ وہ کوچہ ادب کی مسافر ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو نمایاں نہ کرسکیں۔ اس کی وجہ نظیر صدیقی کو گھر بار سنبھالنے اور مزے دار کھانے پکانے والی لڑکی کی ضرورت تھی۔

علم و ادب فرحت ملک کی گھٹی میں شامل تھا۔ ان کے والد اردو کے ایک معروف پروفیسر تھے اور چچا کلام حیدری اپنے زمانے کے ایک ممتاز افسانہ نگار اور صحافی تھے۔ انھیں شعرو سخن اور نثر ورثے میں ملی تھی وہ لوگوں کے سوال کا جواب اس طرح دیتی ہیں کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فرحت پروین میں ادب کا ذوق نظیر صدیقی کی صحبت میں رہنے سے ہوا چوں کہ پروفیسر نظیر صدیقی ایک ناقد اور ترقی پسند ادیب تھے۔ لیکن بقول مصنفہ کے وہ اپنے جہیز میں ادب لے کر آئی تھیں۔

فرحت پروین ملک کی کتاب ’’خوابستان‘‘ خاکے، تبصرے، افسانے، مضامین، اہل قلم کی آرا اور خطوط سے مزین ہے باب اول ( باقیات فرحت پروین ملک) کے ضمن میں فرحت پروین نے آٹھ خاکے تحریر کیے ہیں ان تحریروں کو ہم خاکے اور خاکے نما بھی کہہ سکتے ہیں۔ فرحت پروین کی تحریریں جرات اظہار اور حقیقت کی روشنی میں پروان چڑھی ہیں انھیں جن باتوں کا علم ہوتا ہے تو وہ نہایت سچائی کے ساتھ من و عن واقعات کے پیکر میں ڈھال دیتی ہیں۔

ڈاکٹر عندلیب شادانی اور نظیر صدیقی سی نوری تا (شانی) کے عنوان سے جو خاکہ قلمبند کیا ہے خاکہ نگار کی بصیرت افروزی اور صداقت داد کی طالب ہے وہ باتیں یا سچائی بھی بیان کردی گئی ہے جس سے اہل علم واقف نہیں تھے۔ لکھتی ہیں ’’ نظیر صاحب‘‘ نے شادانی صاحب کی زندگی کے ہر لمحے کو تحریر کیا ہے ۔‘‘

’’تحقیق کی روشنی میں ‘‘ کا دیباچہ نظیرصدیقی سے لکھوایا اور یہ تاریخی جملہ کہا کہ ’’ بغیر تمہارے جوتے کا فیتا بھی باندھنے کے قابل نہیں ہے۔‘‘ اس جملے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے۔ نظیرصدیقی نے شانی صاحب پر اتنا کام کیا ہے کہ وہ آسانی سے شادانی صاحب پر پی ایچ ڈی کرسکتے تھے ڈھاکہ یونیورسٹی میں انھیں ملازمت نہ ملنے کا دکھ تھا بلکہ بڑا صدمہ تھا۔ جب وہ I.C.U میں داخل تھے تو غنودگی کے عالم میں شانی صاحب کا یہ جملہ کہتے۔

’’ ڈاکٹر معیز الدین تمہارے جوتے کا فیتا بھی باندھنے کے قابل نہیں‘‘ فرحت صاحبہ کا ایک اور خاکہ ’’ روشنی قید ہے‘‘ اس خاکے کا کردار ام عمارہ فرحت پروین کی استاد تھیں۔ مصنفہ نے ام عمارہ کی تعلیم، پیشہ، افسانہ، ناول نگاری اور شخصیت پر بہت موثر نقشہ کھینچا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی وہاں موجود تھے گویا پروجیکٹر پر فلم چل رہی ہو۔

جب پروین شاکر کا ذکر آجائے تو قلم خود بخود متحرک ہوجاتا ہے کہ بس کچھ نہ کچھ اس خوب صورت شاعرہ کے حوالے سے کہ وہ نہایت معتبر اور مشہور ہونے کے ساتھ مرحوم بھی ہوچکی ہیں وہ اور ان کا کلام ان کے چاہنے والوں کے لیے تبرک سے کم نہیں ساتھ میں خوابستان کی مصنفہ بھی باکمال ہیں اپنے مضامین کے ایسے ایسے عنوانات تجویز کرتی ہیں کہ بے اختیار پڑھنے کی طرف دل مائل ہوجاتا ہے۔ انگریزی میں سنا تھا ’’ لڑکی تم معجزہ ہو‘‘ قرۃ العین حیدر نے یہ جملہ اس وقت کہا جب پروین شاکر ان کی مہمان بن کر ان کے گھر گئیں، واپسی پر پروین شاکر نے اپنی آئیڈیل شخصیت قرۃ العین پر نظم تخلیق کی قرۃ العین حیدر کے عنوان سے۔

جیون زہر کو متھ پر امرت نکالنے والی موہنی

بھرا پیالہ ہاتھوں میں لیے پیاسی بیٹھی ہے

وقت کا راہو گھونٹ پہ گھونٹ بھرے جاتا ہے

دیوی بے بس دیکھ رہی ہے

ایک اور نظم سے چند اشعار یہ نظم بھی پروین شاکر نے سلمیٰ کرشن کے لیے لکھے تھے، واضح رہے کہ سلمیٰ صدیقی نے کرشن چندر کی محبت میں ڈوب کرکرشن چندر سے شادی کی تھی۔ کرشن چندر کی بھی شدید خواہش تھی ۔

تو ہے رادھا اپنے کرشن کی

ترا کوئی بھی ہوتا نام

مرلی تیرے بہتر با جیتی

کس بن کر تی بسرام

یا کوئی سنگھاسن براجتی

تجھے کھوج ہی لیتے شیام

خوابستان میں فرحت پروین ملک کے تخلیق کردہ افسانے بھی شامل ہیں جن کی تعداد 9ہے میں نے کئی افسانے پڑھے انھوں نے معاشرتی تلخ حقائق کو افسانوں کے سانچے میں ہنرمندی سے ڈھالا ہے۔ ان کے افسانوں میں روانی اور اسلوب کی سادگی بیان قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ابلاغ کا مسئلہ بھی نہیں ہے حلالہ، رات کی رانی دن کا راجا، خوابستان اور دوسرے کئی افسانے ہمارے روزمرہ کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

’’دربار ادب‘‘ اور ’’ یادوں کا سندربن‘‘ پر جن ناقدین و مبصرین نے اپنی ناقدانہ صلاحیتوں کی بناء پر مضامین لکھے تھے وہ بھی شامل کتاب ہیں۔ پروفیسر ہارون الرشید نے فرحت پروین ملک منفرد خاکہ نگار کے عنوان سے ایک ایسا مضمون تحریر کیا ہے جس کی رو سے بہت سی معلومات کے در وا ہوتے ہیں اس ہی مضمون سے چند باتیں۔

ان کا پہلا خاکہ آدھا مسلمان روشنائی میں شائع ہوا، آدھا مسلمان کے بعد فرحت صاحبہ نے متعدد خاکے لکھے اور ہر خاکے پر تحسین و آفرین کی صدا بلند ہوئی، باب سوم خطوط کے لیے مختص کیاگیا ہے۔ یہ خطوط اہم لکھنے والوں کے ہیں اور خطوط کے قارئین کو بہت سی اہم باتوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ کتاب کے ناشر پروفیسر زاہد رشید ہیں جو خود بھی کئی علمی و ادبی کتب کے مصنف ہیں، دونوں کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں۔