انقلاب

کسی بھی ملک کی مضبوطی اس کے مضبوط دفاع اور معیشت پر منحصر کرتی ہے



انقلاب کے لغوی معنی الٹنا، پلٹنا، تبدیل اور تغیر کے ہیں سیاسی معنی کسی بھی معاشرے، ریاست یا نظام کے پرانے ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ نیا سیاسی، سماجی یا معاشی نظام رائج کرنا انقلاب کہلاتا ہے۔

اقوام عالم میں سیاسی، سماجی اور فکری اعتبار سے کئی بڑے انقلاب برپا ہوئے ہیں جنھوں نے ریاستوں اور معاشروں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ کرہ ارض میں سب سے پہلا عظیم اسلامی انقلاب حضرت محمد ﷺ کے دور میں 610ع تا 632 ع میں آیا تھا۔

مکہ و مدینہ میں برپا ہونیوالا انقلاب جس نے 23 سال کی قلیل مدت میں عرب معاشرے کے عقائد، اخلاقیات، اجتماعی نظام اور تمدن کو مکمل طور پر بدل ڈالا۔ انقلاب فرانس 1789 میں بادشاہت کے خاتمے سے شروع ہوا اور ایک نئی تحریک نے جنم لیا جس میں آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں پر مبنی سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلی کی تحریک کا آغاز ہوا۔

اسی طرح روس میں 1917 میں زار روس کی بادشاہت کا تختہ الٹا گیا اور لینن کی قیادت میں کیمونزم کی تحریک نے جنم لیا اور 1922 میں سوویت یونین کی بنیاد رکھی گئی۔ ماؤزے تنگ کی قیادت میں چین کا کیمونسٹ انقلاب 1946 میں شروع ہوا اور اکتوبر 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ مکمل ہوا۔

انقلاب ایران 1979کو آیت اللہ خمینی کی قیادت میں بادشاہت کے خاتمے کے ساتھ شروع ہوا اور ملک میں اسلامی نظام جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ 1989 کے انقلابات میں پولینڈ، ہنگری، مشرقی جرمنی، چیکو سلواکیہ اور رومانیہ سمیت مشرقی یورپ میں سوویت یونین کے اثر و رسوخ اور کیمونسٹ نظام کے خلاف پرامن عوامی مزاحمتی تحریکیں چلیں۔

دنیا بھر میں انقلابات اور مزاحمتی تحریکیں چلتی رہتی ہیں، جب حکومتیں عوام کو ان کے بنیادی حقوق میسر نہیں کرتیں اور ان کو کچھ ڈلیور نہیں کرتیں تو لوگ متحد اور یکجا ہو کر مشترکہ جدوجہد کرتے ہیں اور اپنے معاشی و آئینی حقوق کی خاطر سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ احتجاج، مزاحمتی تحریک، انقلاب، لانگ مارچ، ریلی، دھرنا وغیرہ ضرور نکلنا چاہیے لیکن پرامن طریقے سے یہ تمام مراحل ہونے چاہیے، عوامی شاعر حبیب جالب صاحب نے انقلاب کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے۔

اب گناہ و ثواب بکتے ہیں

مان لیجیے جناب بکتے ہیں

پہلے پہلے غریب بکتے تھے

اب تو عزت مآب بکتے ہیں

دور تھا انقلاب آتے تھے

آج کل انقلاب بکتے ہیں

دل کی باتیں حبیب جھوٹی ہیں

دل بھی خانہ خراب بکتے ہیں

پاکستان کے موجودہ حالات نہایت نازک ہیں۔ بد قسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے زیر سایہ عوام کو کچھ بھی ڈلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے، بنیادی معاشی حقوق سے عام آدمی محروم ہے، اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود عوام کی جانب سے کسی بھی قسم کا رد عمل نہ آنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے طاقتور ادارے مل کر بیٹھیں اور وہ عوام کی خوشحالی، فلاح و بہبود کے لیے کوئی پلان اور معاشی روڈ میپ مرتب کریں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج غریب تو غریب، مڈل کلاس طبقہ بھی فاقوں پر مجبور ہے اور دو وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جو کہ عوامی مینڈیٹ کے دعویٰ دار ہے، عوام کے لیے، عوام کی خاطر، کچھ ڈلیور کریں۔ انقلاب آتے ہوئے دیر نہیں لگتی، چھوٹی سی چنگاری بڑے بڑے انقلابوں کو جنم دیتی ہے جہاں عوام کے بنیادی معاشی حقوق،خوشحالی کی نفی ہوتی ہے، وہاں انقلاب پنپنا شروع کر دیتے ہیں، لہٰذا حکومت کی یہ اولین ذمے داری و کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی خوشحالی ترقی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

خالی نمائشی اور فرمائشی پروگراموں سے ملک نہیں چلتے، کسی بھی ملک کی مضبوطی اس کے مضبوط دفاع اور معیشت پر منحصر کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان کی طرف کوئی بھی میلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا لیکن معاشی طور پر ہمیں وہ کامیابیاں نہیں ملی جس کی بدولت پاکستان ایک مضبوط پائیدار اور مستحکم ریاست کے طور پر اقوام عالم میں ابھرے۔

اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دان اپنی رنگ بازیاں چھوڑ کر عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں، وقت کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ حکمرانوں کو یہ بات سوچنی چاہیے کہ اقتدار بھی آنے جانے والی چیز ہے۔ اللہ نے حکمرانوں کو عوام کا خادم و ضامن اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ رعایا کی خوشحالی کے لیے ترقی کے لیے کام کریں نہ کہ مالی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کریں، ہوس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

سابقہ و موجودہ حکمرانوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کو عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایوان اقتدار میں عوامی نمائندگی کا فقدان ہے، جب تک ہم پر جاگیردار وڈیرے سرمایہ دار مسلط رہیں گے عوام کی ترقی و خوشحالی ناممکن ہے۔ عوام سے بھی میری درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے معاشی حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں۔ اس وقت پاکستان کے دشمن یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں افراتفری اور انارکی پھیلے، لہٰذا ہمیں دشمنوں کی سازشوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اس قدر وسائل ہونے کے باوجود بھی آج پاکستان مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔