اخلاقی انقلاب، قوم کی گمشدہ منزل

سفر یہی سکھاتا ہے۔ ہم اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں


سید طارق حسنی November 08, 2026

برسوں ہم اپنی گلیوں، محلوں اور بازاروں میں زندگی کی دوڑ میں رواں دواں رہتے ہیں۔ نہ صبح کی خبر، نہ شام کی۔ اپنے آس پاس کی دنیا ہی اچھی لگنے لگتی ہے، گویا یہی جینے کا درست سلیقہ ہے۔ ایک خاص قسم کا اطمینان پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔

حقیقت کا احساس تب ہوتا ہے جب ہم بیرون ملک سفر کرتے ہیں، ایسے مواقع کہ ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ تہذیب یافتہ ممالک خصوصاً جاپان، ملیشیا، یورپ و امریکا میں جہاں نہ صرف وہاں کی حکومتیں قانون اور آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتی ہیں اور اس سے ذرا بھی روگردانی نہیں کرتیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شہری اور سماجی طور طریقے اور روزمرہ کی زندگی میں قرینہ ہماری آنکھیں کھول دیتی ہیں۔ تب ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا احساس ہوتا ہے۔ انسان میں یہ قدرتی حساسیت ہے کہ وہ دوسروں سے مقابلہ کرتا ہے بہتر نظر آنا چاہتا ہے۔

سفر یہی سکھاتا ہے۔ ہم اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ گویا ہم اپنے آپ کو ایک آئینے میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب ہمارے اپنے ملک میں تو نہ ہی آئین کی قدر ہے ،نہ قانون کی حکمرانی ہے اور نہ ہی عوام کے ووٹ کی حرمت اور تقدس۔

اگر کسی کی اہمیت ہے تو وہ صرف طاقتور اور مالدار کی ہے۔ عوام سب سے غیر اہم ہیں۔ یقیناً میرے قارئین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہم جب بھی ملک سے باہرجاتے ہیں،ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ میزبان ملک کے مقابلے میں ہم کتنی خرابیوں اور سماجی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہمارا معاشرہ ایسا منظم کیوں نہیں ہو سکتا۔

یہ احساس دل میں چبھن پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ تفریح بد مزہ اور کوفت کا شکار ہو جاتی ہے۔ خصوصاً صفائی ستھرائی، لوگوں کا منظم انداز میں چلنا، آہستگی اور شائستگی سے گفتگو کرنا، شور و شغب اور ہنگامے سے پرہیز، گندگی پھیلانے سے اجتناب، سڑکوں پر گاڑیوں کا ایک ضابطے کے مطابق انتہائی منظم انداز میں چلنا، بسوں اور ٹرینوں پر چڑھتے اور اترتے ہوئے قاعدے سے لائن لگانا، پیدل چلنے والوں کا مخصوص راستوں ہی پر چلنا، سڑک کراس کرنے کے لیے زیبرا کراسنگ کی سہولت جہاں وہ قانون کے مطابق گزرتے ہیں اور گاڑیاں انھیں احترام کے ساتھ لازمی گزرنے کا ترجیحی موقع فراہم کرتی ہیں۔

جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کے لیے سلیقے سے ڈبے لگے ہونا، عوام الناس کے لیے خوبصورت سجے سجائے سرسبز باغات، صاف ستھرے خوبصورت اسٹیشن، آرام دہ بس اسٹاپ اور عوامی بیت الخلاء موجود ہونا۔

یہ وہ کم سے کم چیزیں ہیں جو ہر خاص و عام فوری مشاہدے میں لے آتا ہے۔ یقین مانیں، دنیا کی کوئی قوم کبھی اتنی منظم نہیں تھی جب تک کہ ان کے حکمرانوں نے عوام پر قانون کا ہتھوڑا نہیں رکھا اور ساتھ ہی ان کی اخلاقی پہلوؤں سے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ہی تربیت نہیں کی گئی۔

یہ بات ہماری قوم کو کب سمجھ آئے گی کہ ایک اچھے ڈاکٹر، انجینئر، اکاؤنٹنٹ، وکیل اور سرکاری افسر کو اپنے اپنے متعلقہ پیشوں میں ماہر ہونے کے باوجود بھی قانون پسند، بااخلاق، دوسروں کی پروا کرنیوالا، فرض شناس اور ایماندار اور دوسری انسانی و اخلاقی خوبیوں والا بھی ہونا چاہیے جن کا تعلق ہمارے سماج اور قومی زندگی سے ہے۔

یقین سے کہنا مشکل ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے چھوٹے بچوں کو عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان سماجی ذمے داریوں کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں یا نہیں۔اور اگر کر رہے ہیں تو اس کے اثرات کیا مرتب ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف ہم اپنے اخبارات، سوشل میڈیا اور میڈیا پر ارباب اختیار اور سیاسی و سماجی شخصیات کو دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک ملک کے معاملات میں سیاست اور معیشت ہی اولین ترجیح ہے، مگر معاشرے کی اخلاقی بنیادوں پر تربیت اور اس کی اصلاح ان کے ایجنڈے میں یا تو سرے سے ہے ہی نہیں یا پھر وہ اتنی نچلی سطح پر اور اتنا غیر اہم ہے کہ اس پہ بات کرنے کا انھیں موقع ہی نہیں ملتا۔

ہمارے ٹی وی کے پروگراموں میں بھی کبھی ایک پروگرام بھی نہیں دیکھا جس میں لوگوں کو لائن بنا کر خریداری کرنے، بسوں میں چڑھنے اور دیگر معاملات میں اصلاح کی ترغیب دی گئی ہو، انھیں اس کے فوائد گنائے گئے ہوں، دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی خوبیاں اپنانے کی طرف راغب کیا جائے۔

ہمارے ملک میں عمارتیں بھی بنتی ہیں، سڑکیں بھی اور دیگر انفرا اسٹرکچر بھی، مگر صفائی ستھرائی وغیرہ کا کوئی معقول انتظام دیکھنے میں نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارے قومی ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔

عوام کا رویہ بھی ایسا ہے کہ وہ اپنی ہی زندگیوں میں مگن ہیں۔ وہ نہ دوسروں کا لحاظ کرتے ہیں، نہ سڑک پر چلتے ہوئے دوسروں کی کمزوریوں اور مجبوریوں کا احساس۔ قانون توڑنے کو قابلِ فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ سرخ بتی کا احترام نہ کرنا گویا ان کی امارت اور ان کی شان کا ثبوت ہے۔

سڑکوں پر غلط ڈرائیونگ، تیز رفتاری سے گاڑی چلانا، قانون کا مذاق اڑانا قابلِ فخر کارناموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اسی طرز پر چلتا رہے گا؟ کیا ہم اپنے عیبوں اور اپنی کوتاہیوں کا کبھی احتساب نہیں کریں گے؟

کیا ہمارے علماء، اساتذہ، سرکاری عہدے دار، سیاسی و سماجی تنظیمیں کبھی معاشرے کے اخلاقی عیوب کی بہتری کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے؟ کہ عوام کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ دنیا ہماری بد نظمی اور بدتمیزی کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔

کیا ایسی غیر سرکاری تنظیمیں ملک میں نہیں بنائی جا سکتیں جو عوام الناس کو سماجی آداب کی تربیت دیں یا کم از کم اسکولوں میں جا کر اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں جا کر لوگوں کی تربیت کا انتظام کر سکیں؟

اس کے ساتھ ساتھ سخت قوانین اور ان پر عمل درآمد کی بھی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ہمارے عوام ایک باوقار، باعزت اور سنجیدہ رویہ اپنائے بلکہ سڑکوں پر اور ہمارے محلے گلی کوچوں میں لوگ محفوظ اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔

سوشل میڈیا نے دنیا کو اتنا مختصر کر دیا ہے کہ ہم دور دراز، ہزاروں میل دور کے ممالک میں عوام الناس کے رویوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہم دیکھیں دنیا اپنی زندگی کیسے گزار رہی ہے۔

انسان اور جانور کی زندگی میں یہی فرق ہے کہ انسان ایک باشعور زندگی گزارنے کا عادی ہے۔ ہم کب اس زندگی کے عادی ہوں گے اور کیا اس پر ہم توجہ دے رہے ہیں۔یہ درست ہے کہ عام آدمی نہ ملکی قانون بناتا ہے نہ شہر کا انفرا اسٹرکچر بہتر کر سکتا ہے، مگر کیا عام عوام ہاتھ بے ہاتھ رکھے منتظر فردارہے؟

کسی راہ چلتے کی مدد کرنا، سڑک پر قانون کا احترام، کسی کمزور کو گاڑی روک کر سڑک پار کرانا، اسکول کے قریب رفتار کم رکھنا، اسپتال کے سامنے ہارن نہ بجانا، پارک میں خالی بوتل کو کچرے کے ڈبے میں ڈالنا، مسجد کے باہر جوتے قرینے سے مخصوص الماری میں رکھنا یا ریسٹورنٹ میں اپنے لاڈلے مگر بے قابو بچوں کو شور سے روکنا۔ یہی چھوٹی چھوٹی قومی خدمات معاشرے کو درست کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔