’’ ایک تو یہ عادت بڑی خراب ہے، آپ کی زہرہ نگارکو کوڑا دان خالی کرنے کو کہو تو اسے کھول کر کوڑا چیک کرنے لگتی ہو۔ یہ کوئی اچھی عادت نہیں ہے، سو طرح کی اچھی بری چیزیں ہوتی ہیں‘‘۔ میں نے اسے ڈانٹا۔
’’ سو تو ہے باجی جی، وہی چیک کرتی ہوں کہ کوئی اچھی چیز کوڑے میں ضایع نہ ہو جائے‘‘ کہہ کر وہ پھرسے کوڑے میں سے کچھ تلاش کرنے لگی۔’’ یہ کی بورڈ میں نے پھینک دیا تھا، پانی کی خالی بوتلیں اور میرے ٹوٹے ہوئے جوتے او ر بسکٹ کے خالی ڈبے… کیا کر رہی ہیں آپ زہرہ نگار، پھر سے کوڑا کرکٹ یہیں پھیلا دیا ہے۔‘‘
’’ ایک لفافہ دے دیں باجی جی، ابھی سب کچھ سمیٹ کر یہاں صفائی بھی کردیتی ہوں ، آپ کو لگے گا بھی نہیں کہ میں نے یہاں صفایا کیا ہے۔‘‘’’ مگر آپ ان سب چیزوں کا کریں گی کیا؟‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا، ’’ یہ پانی کی خالی بوتلیں تو بالکل بے کار ہیں، دوبارہ استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ‘‘’’ ہمارے گھر کے قریب ہی کسی نے پانی کا فلٹر لگوادیا ہے اور ہم وہیں سے پانی بھر کر لاتے ہیں اور اپنے گھر میں گھڑوں میں ڈال کر چھاؤں میں رکھ لیتے ہیں، بوتلوں سے میرے بچے کھیلتے ہیں۔
آپ کا بے کار کی بورڈ میرے بچوں کے کھیلنے کے لیے بہت پسند آئے گا۔ جوتا مرمت کروا کر اسے میں اپنی نند کی بیٹی کی شادی پر پہنوں گی اور بسکٹ کا خالی ڈبہ ہمار ے ہاں دال ڈالنے کے لیے استعمال ہوجاتا ہے یا آٹے کا خشکہ ڈالنے کے لیے۔ ‘‘
اس نے ہر چیز کی وضاحت کی۔ ’’ آپ تو ہر چیز کو بے کار سمجھ کر کوڑے میں ڈال دیتی ہیں، اسی لیے پورے محلے میں سب سے زیادہ کچرا آپ کے گھر کا ہوتا ہے۔‘‘’’ یہ سب چیزیں نئی کیوں نہیںلے لیتیں آپ، میں اکثر آپ کو بچوں کے لیے کھلونے بھی تو دیتی رہتی ہوں اور آپ کو کپڑے جوتے بھی۔‘‘ ’’
میرا گزارا تو انھی چیزوں سے چلتا ہے باجی جی! جو آپ اور آپ جیسی دوسری مہربان باجیاں دے دیتی ہیں، مجھ میں کہاں سکت ہے کہ نئی چیزیں خریدوں۔‘‘ اس نے ہمارے ’’ احسان ‘‘ کا اعتراف کیا۔’’کیوں نہیں ہے سکت، چار گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں آپ، آپ کا شوہرکام کرتا ہے اور آپ کا بیٹا بھی اسکول سے واپس آکر بعد دوپہر سے شام تک کام کرتاہے۔‘‘
میں نے اسے یاد دلایا، ’’ اصل میں سارا سلیقہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ایک عورت اپنے گھر کی وزیر خزانہ ہوتی ہے اور اس کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کا بجٹ بنا کر اس کے مطابق اخراجات کرے۔‘‘ میں نے اپنی فصاحت کے دریا بہا دیے ۔
’’ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو ذرا چند منٹ کو آپ میرا بجٹ بنا دیں، میں ایک مہینہ اس پر عمل کر کے دیکھ لیتی ہوں ۔‘‘ ا س نے میری قابلیت کو چیلنج کیا۔ زہرہ نگار ساری مشقت اس لیے کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو کسی نجی اسکول میں پڑھائے اور انھیں اعلی تعلیم دلائے۔
نو لوگوں کے کنبے کے پاس تین کمروں کا خستہ سا گھر ہے زہرہ نگار اپنے گھر کی وزیر خزانہ ہے مگر اس کے ہاتھ میں جو رقم سب کی کمائی ملا کر آتی ہے وہ پہلے سے ہی خرچ شدہ ہوتی ہے اور جو رقم باقی ہے اس سے نو لوگوں کے کنبے کا کیا بجٹ بنایا جائے، اگر سوکھی روٹی بھی کھانا ہو تو اس کے گھر میں روزانہ ڈیڑھ کلو آٹا استعمال ہوتا ہو گا، مہینے کے تیس دنوں کے آٹے کی قیمت اس وقت نو ہزار روپے ہے، اس کے بعد جو تین ہزار اور دو سو روپے بچ جاتے ہوں گے۔
چلیں کچھ زائد ہو جائے تو چار یا پانچ ہزار بچ جاتا ہوگا، اس میں سے وہ دال سبزی، گھی، نمک، مرچ، دودھ ، چینی صابن سرف جیسی انتہائی ضروری اشیاء تو لیتی ہو گی… پھل ، اچھی سبزی اور گوشت تو وہ صرف خیال اور خواب میں ہی کھا سکتے ہیں یا میرے تیرے گھروں میں سے کبھی کبھار کچھ مل جاتا ہوگا-
زہرہ نگار ایک فرضی نام ہے ۔ یہ کہانی کسی ایک زہرہ نگار کی نہیں ہے، ہمارے ہی علاقے میں اگر دس ہزار گھر ہیں تو ان میں کم از کم پانچ ہزار زہرہ نگار جیسی عورتیں ہیں۔ ہر طرف یہی حال ہے، ہمارے اپنے گھر میں سوئی گیس نہیں ہے تو سلنڈر کا استعمال ہوتا ہے، سال بھر پہلے جو بڑاسلنڈر ساڑھے بارہ ہزار کا آتا تھا، اب پچیس ہزارکا ہو گیا ہے اور اسی نسبت سے ہر چیز کے دام بڑھے ہیں مگر ذرائع آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے پانچ یا سات فیصد کے حساب سے۔