مشہور مقولہ ہے کہ کامیابی کے سو باپ نکل آتے ہیں لیکن ناکامی کو کوئی بھی گود لینے پر تیار نہیں ہوتا۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات نے صدر ٹرمپ، ریپبلکنز اور قدامت پرست MAGA کی سیاست اور ہیبت کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سمیت کئی روایتی ریپلبکن ریاستوں میں بھی زبردست کامیابی سے ایک بڑا سیاسی سیٹ کیا ہے۔
انتخابات کی گرد ابھی بیٹھی نہ تھی کہ وائٹ ہاوس اور ریپبلکن جماعت میں ناکامی کا طوق ڈالنے کے لیے ممکنہ کرداروں کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ پہلا نشانہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسٹ بنے لیکن فی الحال تو صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈالا ہے۔
تاہم بپھرے ہوئے ریپبلکنز ان کا مؤاخذہ کرنے کرنے پر بضد ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی سب سے مضبوط شخصیت اپنی چیف اسٹاف کو البتہ چلتا کر دیا۔ ان کی جگہ پکے اسرائیل نواز اور سخت گیر دائیں بازو کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کو ترقی دے دیہے۔ اپنی ہزیمت کا رخ موڑنے کے لیے صدر نے ایران جنگ پر دوبارہ حملے کر توجہ مرکوز کر لی ہے۔
میڈیا میں اس شکست کو کچھ اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے امریکی عوام راتوں رات امن پسند بن گئے ہیں یا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت کے خلاف کوئی اخلاقی بیداری پیدا ہو گئی ہے۔۔۔۔ تاہم اس جذباتی تاثر کے برعکس اصل کہانی مختلف ہے۔
امریکی ووٹر نہ تو اچانک ’’صلح جو‘‘ بنا ہے اور نہ ہی اسے بین الاقوامی تنازعات سے کوئی جذباتی ہمدردی ہے۔ یہ دراصل مہنگائی اور روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، گھروں کی قسطوں اور ہیلتھ و جنرل انشورنس پریمیم میں ہوش ربا اضافوں سے پیدا مہنگائی پر اسکا ردِعمل تھا جس نے برسرِ اقتدار پارٹی کو ’’نانی‘‘ یاد دلا دی۔
پولیٹکل اسٹریٹجسٹ جیمز کارویل James Carville نے 1992 کی امریکی صدارتی مہم کے دوران ایک سطری شہرہ آفاق بیانیہ تخلیق کیا تھا جو بعد ازاں ہر الیکشن اسٹریٹجی کا فیصلہ کن اصول ثابت ہوایعنیIt's the economy, stupid۔آسان الفاظ میں یہ کہ دھندے اور جیب پر نظر رکھو اور بس!!اس سادہ سے اصول کے مطابق ریپبلکنز کی تاریخی ناکامی کا سبب ووٹرز کا نظریاتی اختلاف نہیں، بلکہ روزمرہ کے اخراجات کا بڑھتا ہوا بوجھ تھا۔
امریکا ایران جنگ کے نتیجے میں امریکا میں پٹرول کی قیمتیں 4.30 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئیں۔ عام ووٹر کو جب اپنی گاڑی میں اس قیمت پر پٹرول ڈلوانا پڑا تو اسے واشنگٹن کی جنگی پالیسی کی قیمت اپنی جیب سے ادا کرنی ناگوار گزری۔ اس کے ساتھ ساتھ سات فیصد تک مارگیج (گھر کے قرضے) کی شرح، اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جمود زدہ آمدن نے عام امریکی کو عاجز کر دیا۔
ایسے میں مخالف ووٹروں کو قائل کرنے کے لیے کسی بڑی عالمی منطق کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ انھوں نے صرف یہ سادہ سوال پوچھا کہ جب ملک کے اندر عام شہری سسک رہا ہے تو اربوں ڈالر غیر ملکی جنگوں اور امداد پر کیوں بہائے جا رہے ہیں؟
انتخابات کے دوران مشی گن جیسی ریاستوں میں عرب اور مسلم ووٹروں کے ووٹ سے ابوالسعید جیسے ترقی پسند امیدواروں کی کامیابی کو میڈیا میں ایک زلزلہ بنا کر پیش کیا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی معجزاتی اخلاقی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ان علاقوں کی کثیر عرب اور مسلم آبادی اور مقامی سطح پر معاشی بدحالی کے ملاپ کا مشترکہ عوامی ردعمل تھا۔ یہ ایک مقامی سیاسی حقیقت تھی جسے پورے امریکا پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
قومی سطح پر اس انتخاب نے البتہ یہ ثابت کیا کہ اقلیتی ووٹ بینک کو کوئی بھی پارٹی گھر کی کھیتی نہ سمجھے۔ لاطینی ووٹرز (Latino) کا جو جھکاؤ پچھلے انتخابات میں ریپبلکنز کی طرف تھا، وہ شدید مہنگائی اور سخت امیگرنٹس پالیسیوں کے باعث واپس پلٹ گیا۔
ڈیمو گرافکس اور سیاسی تحرک کے سبب اس بار نوجوان لاطینی، سیاہ فام اور ایشیائی ووٹروں کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر کے ڈیموکریٹس کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس بار انتخابی مہم میں ارب پتی کارپوریٹ فنڈنگ کے آنکھیں خیرہ کر دینے والے لشکارے بھی ووٹرز کو ناگوار گزرے۔
سلیکون ویلی، ایلون مسلک سمیت آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور کرپٹو کرنسی کے سرکردہ سرمایہ کاروں نے کروڑوں ڈالر وارے جسے ووٹروں نے رد کردیا۔ ووٹرز نے محسوس کیا کہ یہ ٹیک کمپنیاں اپنے مفادات اور ڈیٹا سینٹرز کو تحفظ دینے کے لیے انتخابات کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت بلا شبہ ایک بڑی سیاسی کامیابی ہے لیکن یہ ڈیموکریٹس کی قیادت کا ایک کٹھن امتحان بھی ہے۔ احتجاجی ووٹ پر حاصل کی گئی کامیابی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام ڈیموکریٹس کی اندھی سیاسی محبت میں مبتلا ہو گئے ہیں یا حمایت کا بلینک چیک تھما دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کی نئی اکثریت اب دو متضاد دھڑوں پر مشتمل ہے۔ قدامت پسند اور ریڈ و پرپل (ریپبلکن اور زبردست مقابلے والے) حلقوں سے جیتے ہوئے ڈیموکریٹ ارکان کو 2028 کے انتخابات میں اپنی نشستیں بچانی ہیں۔
اس لیے وہ غیر معمولی اخراجات، ٹیکسوں میں اضافے یا متنازع سماجی پالیسیوں کی سخت مخالفت کریں گے۔ جب کہ دوسری جانب ابوالسعید سمیت بائیں بازو کے ترقی پسند اور سوشل ڈیموکریٹس اس فتح کو اس بات کا پروانہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور دیگر ممالک کی غیر مشروط عسکری امداد پر پابندی لگائی جائے اور بڑی کارپوریشنز پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی قیادت کے لیے ان متضاد توقعات کو ساتھ لے کر چلنا ایک امتحان ہوگا۔ اگر وہ اعتدال پسندوں کو بچاتے ہیں تو ترقی پسند کیڈر کو ناراض ہو سکتے ہیں اور اگر وہ بائیں بازو کے مطالبات مانتے ہیں تو اگلے ہی الیکشن میں ان کی اکثریت داو پر لگ سکتی ہے۔
امریکا میں جب صدارت ایک پارٹی کے پاس ہو اور کانگریس دوسری پارٹی کے پاس، تو اسے ’’تقسیم شدہ حکومت‘‘ (Divided Government) کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کانگریس کے پاس چیکس اینڈ بیلنس کی طاقت کا ایک فیصلہ کن سرا ضرور ہوتا لیکن براہ راست انتظامی اختیار نہیں ہوتے۔
اگر کانگریس آ نے والے دنوں میں عوامی سہولیات کے لیے قانون سازی کرنے کے بجائے روایتی سیاسی چلن کے مطابق زیادہ تر تحقیقاتی کمیٹیوں، سماعتوں اور نوٹسز پر لگ گئی،اور اگر عام امریکی نے یہ دیکھا کہ کانگریس مہنگائی اور روزمرہ مسائل حل کرنے کے بجائے صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ سیاسی حساب کتاب برابر کر رہی ہے، تو عوام کا نزلہ اگلے الیکشن میں ڈیموکریٹس پر ہی گرے گا۔
امریکی انتخابات کے پاکستان سمیت دنیا بھر پر دوررس اثرات ہوں گے۔ ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے اس تبدیلی کا پیغام سادہ سا ہے۔ پاکستان کو سفارتی توازن اور سیکیورٹی مظبوطی برقرار رکھنا از حد ضروری ہے۔
عالمی مالیاتی امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے معاشی خود انحصاری، سیاسی استحکام، سرمایہ کاری اور سی پیک (CPEC) منصوبوں کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکا ہو یا کوئی اور ملک، اگر حکومتیں عوام کے لیے روزمرہ مہنگائی،امن و امان ، روزگار اور صحت کو ترجیح بنانے کی بجائے اپنی مفاداتی سیاست کو ترجیح بنانے پر کمر بستہ ہوں تو عوامی غم و غصہ انتخابی ردعمل کے ذریعے تخت سے تختہ کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔