جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی بھی حکمران کو ہمیشہ کے لیے اقتدار کی ضمانت نہیں دیتی۔ عوام جب چاہیں اپنے ووٹ کے ذریعے طاقت کے ایوان میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ ریاست ان کی ذاتی جاگیر نہیں اور عوام ان کی خارجہ پالیسی، جنگی جنون اور معاشی فیصلوں کی قیمت ہمیشہ ادا کرنے کے پابند نہیں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کا بنیادی تضاد بھی یہی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی طاقت کے مظاہرے سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک کے عوام کی روزمرہ زندگی میں پیدا ہونے والی مشکلات کا جواب دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
امریکا میں انتخابات محض امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں ہوتے، وہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر عوامی فیصلے کا اظہار بھی ہوتے ہیں۔ ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے وقت امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے، مہنگائی کم کریں گے، معیشت مضبوط کریں گے اور ملک کو غیر ضروری جنگوں سے دور رکھیں گے، لیکن ان وعدوں اور عملی سیاست کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ان کی سیاسی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔
فروری میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ نے اس فاصلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جنگ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور عام شہریوں کے گھریلو بجٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکی شہری بھی اب اس جنگ کی قیمت پیٹرول پمپس پر ادا کر رہے ہیں۔ جس جنگ کو طاقت اور قومی سلامتی کے نام پر شروع کیا گیا تھا، اس کے معاشی نتائج نے خود امریکی عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
اب یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا کسی ملک کی سلامتی کے نام پر دنیا کے دوسرے خطوں میں جنگ مسلط کرنا واقعی اس ملک کے عوام کے مفاد میں ہوتا ہے، اگر جنگ کے نتیجے میں تیل مہنگا ہو، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو اور عام امریکی خاندان کا گھریلو بجٹ متاثر ہو تو پھر اس جنگ کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟کیا چند فوجی اہداف حاصل کر لینا لاکھوں انسانوں کی معاشی مشکلات کا جواز بن سکتا ہے۔
امریکی عوام نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں اپنا جواب دے دیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ محض چند نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرمپ کی حکمرانی ان کی معاشی پالیسیوں اور جنگی حکمت عملی کے خلاف ایک واضح عوامی ردعمل ہے۔
کئی ایسی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے جہاں ریپبلکن پارٹی روایتی طور پر مضبوط سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس انتخابی نتیجے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کی ذاتی مقبولیت اور ان کی انتخابی مہم کا جادو اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
ٹرمپ کے لیے اس شکست کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار عوام کو یقین دلایا تھا کہ ان کی قیادت میں امریکا دنیا کی سب سے طاقتور معیشت بنے گا، لیکن امریکی عوام کے لیے عظیم امریکا کا تصور صرف اسٹاک مارکیٹ کے اعدادوشمار یا ارب پتی سرمایہ داروں کی دولت میں اضافے کا نام نہیں۔ ایک عام شہری کے لیے عظمت کا مطلب یہ ہے کہ اسے روزگار ملے، اس کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر ہو، علاج اس کی استطاعت میں ہو، گھر کا کرایہ ادا کرنا ممکن ہو اور مہینے کے آخر میں اس کی جیب خالی نہ ہو۔
ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں میں درآمدی محصولات، تجارتی محاذ آرائی اور تحفظ پسندی نے بھی قیمتوں کے مسئلے کو پیچیدہ بنایا۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں جب حکومت تجارتی جنگ کو قومی مفاد کا نام دیتی ہے تو اس کا بوجھ اکثر صارفین اور محنت کشوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سرمایہ دار اپنی منافع کی شرح برقرار رکھنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں جب کہ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی اسی رفتار سے نہیں بڑھتی۔ یوں دولت کے ارتکاز اور معاشی عدم مساوات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ امریکی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے جائزوں میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو ووٹروں کی بڑی ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔ تقریباً نوے فیصد ووٹروں نے زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو اپنے انتخابی فیصلے میں اہم یا بنیادی عنصر بتایا۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے خطرناک پہلو ایران کے خلاف جنگ ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے سامراجی مداخلت، علاقائی رقابتوں، مسلح تنازعات اور انسانی المیہ کا شکار ہے۔ عراق، افغانستان، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان ممالک میں فوجی کارروائیوں کے بعد امن جمہوریت اور خوشحالی کے جو وعدے کیے گئے تھے ،ان کی حقیقت آج بھی لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ریاستیں تباہ ہوئیں، سماج تقسیم ہوئے ،لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور انتہا پسندی کو نئے میدان ملے۔
ایران کے خلاف جنگ نے اس تاریخی تجربے کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھی اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔
اس راستے میں رکاوٹ کا مطلب صرف تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے پورے نظام پر دباؤ ہے۔ یورپ ،ایشیا اور افریقی ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے آخر دنیا کے عوام کب تک طاقتور ریاستوں کے حکمرانوں کی سیاسی مہم جوئی کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟
امریکا کے ایک عام شہری کو ایران سے کیا دشمنی ہے؟ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر یا افریقہ کے کسی غریب ملک کے محنت کش نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا فیصلہ کب کیا تھا لیکن جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر ان تمام ممالک میں خوراک ٹرانسپورٹ اور روزگار کی صورت میں پہنچتا ہے۔
ٹرمپ نے انتخابی شکست کے بعد خود بھی تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے ریپبلکن پارٹی کے انتخابی نقصان میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ووٹرز شاید ایران کے معاملے میں ان کے اقدامات سے اتفاق کرتے ہوں لیکن وہ پیٹرول کی زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی شکست کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ کو قرار دیا۔ یہ اعتراف اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ جنگ کے فیصلے واشنگٹن کے طاقت کے ایوانوں میں ہوتے ہیں لیکن ان کی قیمت امریکی عوام کو بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
یہاں ہمیں امریکی جمہوریت کے تضادات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ امریکا کی داخلی جمہوری سیاست اور اس کی عالمی خارجہ پالیسی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی۔ ایک طرف امریکی عوام اپنے ووٹ سے حکمرانوں کو بدلنے کا حق رکھتے ہیں، دوسری طرف یہی ریاست دنیا کے کئی حصوں میں فوجی مداخلت اور سیاسی دباؤ کے ذریعے دوسرے ممالک کے مستقبل پر اثرانداز ہوتی رہی ہے۔
اس لیے ٹرمپ کی انتخابی شکست کو دنیا بھر کے مظلوم عوام کی آزادی کی مکمل فتح سمجھ لینا بھی سادہ لوحی ہوگی۔ امریکی پالیسیوں کی تاریخ کسی ایک صدر یا ایک جماعت تک محدود نہیں، ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس دونوں جماعتوں کے ادوار میں امریکی خارجہ پالیسی نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔
اس کے باوجود عوامی مزاحمت اور انتخابی احتساب کی اپنی اہمیت ہے، اگر امریکی ووٹرز جنگ، مہنگائی اور حکومتی اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت جمہوری عمل ہے، لیکن اس فیصلے کی اصل معنویت اسی وقت سامنے آئے گی جب نئی منتخب قیادت ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ محض وائٹ ہاؤس کی مخالفت کرنا کافی نہیں، جنگی پالیسیوں کا متبادل پیش کرنا بھی ضروری ہے۔
دنیا کو اس وقت نئے اسلحے، مزید فوجی اڈوں، میزائلوں اور ایٹمی دھمکیوں کی نہیں بلکہ انسانی ترقی، تعلیم، صحت، موسمیاتی تحفظ اور معاشی انصاف کی ضرورت ہے۔ دنیا کے وسائل محدود ہیں مگر جنگ پر خرچ ہونے والی رقم ناقابلِ تصور ہے، اگر یہی وسائل غربت کے خاتمے بھوک بیماری ناخواندگی اور بے روزگاری کے خلاف استعمال ہوں تو انسانیت کا مستقبل کہیں بہتر ہو سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے بھی اس جنگ کا سبق بہت اہم ہے۔ ہماری معیشت قرضوں ،توانائی کے مہنگے ذرائع اور درآمدی اخراجات کے دباؤ میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کسی طویل جنگ کا نتیجہ ہمارے لیے مزید مہنگائی زرمبادلہ کے مسائل اور معاشی بے یقینی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ہمیں سفارت کاری، علاقائی تعاون اور امن کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جنگ کا پہلا شکار ہمیشہ عام انسان ہوتا ہے۔ وہ بچہ جو بمباری میں اپنا گھر کھو دیتا ہے، وہ ماں جو اپنے خاندان کے لیے روٹی تلاش کرتی ہے، وہ مزدور جو مہنگائی کے باعث اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہیں کر پاتا اور وہ کسان جس کی فصل جنگ اور معاشی بحران کی نذر ہو جاتی ہے۔ ان سب کی کوئی سرحد ،کوئی مذہب اور کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی۔ ان کا مشترکہ دکھ انسانیت کا دکھ ہے۔ امریکی انتخابات کا کوئی حقیقی سبق ہے تو وہ یہی ہے کہ عوام کی زندگی کو جنگی جنون کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔