پاکستان کی طاقت وراشرافیہ ہمیشہ سے غیر معمولی تبدیلی ، بہتری یا ترقی کے بجائے اسٹیٹس کو تک محدود ہے۔ یہ طبقہ معاشرے کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں ایک مخصوص طاقت ور طبقہ کی ترجمانی کرتا ہے اور ان کی ترجیحات میں عام افراد کے مقابلے میں ذاتی مفادات کی اہمیت ہوتی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرہ مجموعی طور پر منصفانہ ترقی کے عمل سے بہت پیچھے کھڑا ہے۔یہاں جو سیاست کا کھیل سجایا گیا ہے اس میں عام آدمی کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اسی معاشرے میں محروم یا استحصال پر مبنی طبقہ کا نمائندہ سمجھتا ہے۔
لیکن اس کے مقابلے میں طاقت ور طبقہ تسلسل کے ساتھ نہ صرف خوشحال یا ترقی کررہا ہے بلکہ اس کے وسائل اور دولت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔جب امیر اور غریب کے درمیان خلیج گہری ہوجائے تو پھر نظام کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
یہ ہی حالات اس وقت عملا پاکستان میں نظر آتی ہے۔ اس ملک کا پڑھا لکھا یا علمی و فکری طبقہ نظام کی ناکامی پر جب بہت زیادہ تنقید کرتا تھا تو اسے حکومتی سطح پر قبول نہیں کیا جاتا ۔لیکن اب حالات کی کہانی کا دوسرا منظر ہم ملک میں دیکھ رہے ہیں نظام ڈلیور نہیں کرسکا یا نظام اپنی مدت پوری کرچکا ہے جیسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔
اس طاقت ور طبقہ کے بقول اس نظام کو بڑے پیمانے پر تبدیل کرناہوگاتاکہ ہم نظام کی بہتر طور اصلاح کرسکیں۔یہ نظام ناکامی کی صورت میں یہاں تک پہنچا ہے، یہ کوئی دو چار برس کی یا کسی ایک حکومت کی ناکامی نہیں۔ یہ ناکامی حکمران طبقات کی مجموعی ناکامی ہے جسے کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ہمارے یہاں مختلف نوعیت کی سیاسی مہم جوئی یا سیاسی ایڈونچرز، انقلاب کے جذباتی نعروں کا استعمال رہا ہے، اس کے بہتر نتائج ہم نہیں دیکھ سکے۔نتیجہ یہ نکلا کے ملک مختلف نوعیت کے سیاسی، سماجی، معاشی، انتظامی،آئینی،قانونی اور ادارہ جاتی یا حکمرانی کے بحران اب بھی پیدا ہورہے ہیں۔
ہم تو ابھی تک اس بنیادی سوال پر متفق نہیں ہوسکے کہ ہمیں کس طرز کا نظام درکارہے۔ ہم آج بھی جمہوریت،کنٹرولڈ اور ہائبرڈ جمہوریت کے نظام یا ملک میں پارلیمانی اور صدارتی نظام کی بحث میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔
ہم نے اس نظام کو افراد کے تابع کیا۔موجودہ سیاسی جماعتوں کا نظام خود جمہوری طرز عمل اور نظام کی نفی ہے۔یہ مان لیتے ہیں کہ اس ملک میں سیاسی نظام کمزور رہا ہے اور جمہوری نظام میں تعطل بھی رہا مگریہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں ڈلیور نہیں کرسکی۔
اس لیے جہاں غیر سیاسی قوتوں پر تنقید ہونی چاہیے وہاں سیاسی قوتیں بھی ان حالات کو پیدا کرنے کی ذمے دار ہیں۔اس لیے جب تک ہماری سیاسی جماعتوں کا کردار بھی اس نظام میں شفاف اور جوابدہی پر مبنی نہیں ہوگا، حالات کی تبدیلی ممکن نہیں ہوسکتی۔ہمارا مجموعی سیاسی نظام ترقیاتی فنڈکے حصول تک محدود رہتا ہے اور یہ عمل ٹکراو کا سبب بنتا ہے۔
ریاست کا نظام بنیادی طورپر اسی وقت کامیابی سے چلتا ہے یا اپنی ساکھ بناتا ہے جب تمام سیاسی، انتظامی،آئینی اور قانونی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار یا حدود میں رہ کر کام کریں ہم جمہوریت کے قریب آنے کی بجائے اس سے کافی دور ہوتے جارہے ہیں کیونکہ جمہوریت سیاسی اور شہری آزادیوں،آزادی اظہار اور انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہے۔
ایک مسئلہ بڑی تیزی سے ملک میں سیاسی جماعتوں کی ملکی نظام یا عوامی سیاست سے دوری اور لاتعلقی کا ہے اور اس نے لوگوں کو سیاست سے دور کیا ہے۔جب ہم سیاست میں نئی نسل کی رائے کو اہمیت نہیں دیں گے، پھر اس سوچ اور فکرکا سخت ردعمل بھی معاشرے کی سطح پر دیکھنے کو ملے گا۔
جب میں خود ذاتی مشاہدے میں روزانہ کی بنیاد پر معاشرے میں موجود محرومی کو عملی بنیادوں پر دیکھتا ہوں یا ارد گرد موجود لوگوں کی براہ راست کہانیاں سنتا ہوں تو یہ نظام واقعی لوگوں پر بوجھ لگتا ہے۔کیونکہ لوگ آسائشوں سے محروم نہیں بلکہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔
دوسری طرف ان کے سامنے اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ کے شاہانہ حکمرانی اور نجی زندگی کے انداز ہوں تو ان میں بغاوت یا غصہ پیدا ہوتا ہے۔آپ اس ملک میںچاروں اطراف سے ہرطبقہ فکر کے لوگوں کی رائے کو جمع کریں اور ان سے پوچھیں کہ وہ کن حالات میں جی رہے ہیں تو آپ کو واقعی تکلیف دہ کہانیاں سننے کو ملیں گی۔
کیونکہ یہ نظام مجموعی طور پر اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکااور لوگ اس نظام سے غیر مطمن نظر آتے ہیں۔ نظام بنیادی طور پر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق پر تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور اسی بنیادپر ریاست اورشہریوں کا تعلق بھی قائم رہتا ہے۔اس لیے اگر ہم نے لوگوں سے جڑے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ نہ دی تو یہ رشتہ مضبوط ہونے کی بجائے اور زیادہ کمزور ہوگا۔
جو لوگ بھی پاکستان میں سیاسی اشرافیہ کی جانب سے نظام کی ناکامی اور تبدیلی کی بات کر رہے ہیں ان کو ایک واضح روڈ میپ پیش کرنا ہوگا جو لوگوں کے سامنے بحث کے لیے پیش ہو۔
کوئی بھی تبدیلی کا عمل اگر لوگوں کی مشاورت کے بغیر ان پر مسلط کیا جائے گا یا اس کھیل میں اپنے سیاسی مفادات کے لی مہم جوئی کا کھیل کھیلا جائے گا تو وہ ملک میں بہتر تبدیلی کے مقابلے میں داخلی محاذ پر ایک اور بڑے ٹکراو کی سیاست کا سبب بنے گا جب کہ اس کے برعکس جو لوگ بضد ہیں کہ اس نظام کوپرانی ڈگر یافرسودہ بنیاد پر ہی چلانا ہے تواس نظام کو اپنے عمل کے ساتھ ایسی نہج پر لے جانا چاہتے ہیں جس سے ہم بڑی ترقی سے دور ہوجائیں گے۔
یہ جو ہمارا بیوروکریسی کا موجودہ ڈھانچہ ہے وہ خود بھی اس نظام کی کامیابی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔اول اس نظام میں بڑے پیمانے پر سیاسی مداخلتیں،دوئم شاہانہ اخراجات اور سوئم کرپشن اور اقرباپروری پر مبنی نظام خود اپنی اہمیت کھوچکا ہے۔
اس لیے جب یہ کہا جاتا ہے کہ اس نظام کی مجموعی طور پر درستگی ہونی ہے اور کینسر جیسے مرض کا علاج کسی بھی طرح ڈسپرین کی گولی سے ممکن نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا عمل سخت گیر اقدامات کا تقاضہ کرتا ہے۔
اس لیے اس حکمرانی کے نظام کے پاس اب بھی گنجائش ہے کہ وہ سماج میں موجود بڑے پیمانے پر محرومی اور تفریق کی سیاست کو سمجھیں۔کیونکہ اگر وہ لوگوں کے اردگرد جو بھی مسائل ہیں ان سے نظریں چراتے ہیں تو لوگوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
اب تو آپ مطمن ہیں کہ لوگ کسی سطح کی مزاحمت نہیں کررہے مگر ان کے اندر مزاحمت اور مایوسی جنم لے رہی ہے۔ہمیں اس آگ پر پانی ڈالنا ہے اور لوگوں ک اعتماد اور بھروسہ بڑھانا ہے کہ ہم آپ کے اور آپ کے مسائل کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسے لگتا ہے کہ ہماری طاقت ور اشرافیہ نظام کی اصلاح سے زیادہ آج بھی اپنے مفادات کے گرد ہی کھڑی ہے۔
یہ ہی وہ سوچ ہے جو لوگوں مجبور کررہی ہے کہ اس نظام میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔اسی بنیاد پر پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور ہمارا نظام لوگوںکے اہم مسائل کو نظر انداز کرکے قوم کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ایک بات طے ہے کہ آپ اس نظا م کو جتنا مرضی کھینچ لیں یا دھکا لگالیں، یہ نظام موجودہ حالات میں نہیں چل سکے گااور نہ ہی لوگ اعتبار کریںگے۔