امریکا نے ایران کی مدد پر کرپٹو سمیت کینیڈا کی 8 ڈیجیٹل کمپنیوں پر پابندی عائد کردی

کرپٹو کرنسی ایکسچینج نے 2021 سے 2026 کے دوران 16 ارب ڈالر کے مشتبہ اور غیر قانونی مالیاتی لین دین میں سہولت فراہم کی


ویب ڈیسک November 08, 2026

امریکا نے ایران سے مالی روابط اور پابندیوں سے بچنے میں معاونت کے الزام میں کینیڈا میں قائم 8 مالیاتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی جبکہ معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج MEXC Global کو بھی امریکی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد ہوں گے اور امریکی شہریوں و اداروں کے ساتھ ان کے مالیاتی لین دین پر پابندی ہوگی۔

MEXC Global کے خلاف جاری حکم بھی امریکی مالیاتی اداروں کو اس پلیٹ فارم سے رقوم کی منتقلی سے روکے گا۔

یہ اقدامات ایران کے خلاف جاری آپریشن ’اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کیے گئے ہیں۔

محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے کینیڈا کے صوبوں اونٹاریو اور برٹش کولمبیا میں قائم 8 منی سروسز کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایرانی ریال سمیت مختلف کرنسیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے اور ایران سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی لین دین میں سہولت فراہم کر رہی تھیں۔

ان میں بعض لین دین ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک ڈیجیٹل والٹس اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی کرپٹو ایکسچینجز سے بھی متعلق بتائے گئے ہیں۔

پابندیوں کا سامنا کرنے والی کمپنیوں میں ملین ایکسچینج، امین ایکسچینج، این آئی اے نیشنز کرنسی، فرح ایکسچینج، کرپٹو رائل اور دیگر مالیاتی ادارے شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان میں سے بعض کمپنیوں پر منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے منتقل کرنے کا الزام ہے۔

MEXC Global کے خلاف الگ کارروائی

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ کے مالیاتی جرائم کے نفاذ کے ادارے (FinCEN) نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج MEXC Global کے خلاف بھی حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت امریکی مالیاتی اداروں کو اس پلیٹ فارم سے متعلق رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد کی جائے گی۔

امریکی حکام کے مطابق کرپٹو کرنسی ایکسچینج نے مئی 2021 سے مئی 2026 کے دوران کم از کم 16 ارب ڈالر کے مشتبہ اور غیر قانونی مالیاتی لین دین میں سہولت فراہم کی۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان لین دین میں ایران، شمالی کوریا اور روس سے متعلق پابندیوں سے بچنے کی سرگرمیاں، سائبر جرائم اور دیگر غیر قانونی مالیاتی معاملات شامل تھے۔

مذکورہ پلیٹ فارم نے ایرانی ڈیجیٹل کرنسی ایکسچینجز کے ساتھ تقریباً ایک ارب ڈالر کے براہ راست لین دین بھی کیے، جبکہ ایران کے مرکزی بینک اور پاسداران انقلاب سے متعلق لین دین بھی امریکی حکام کی نشاندہی میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے مالی پابندیوں سے بچنے کے راستوں کو محدود کرنا اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اگست 2026 میں آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ شروع کیا تھا، جس کے تحت ایران کے مالیاتی ذرائع اور ڈیجیٹل اثاثوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔