ترقی یافتہ ممالک میں سڑک کی روشنی کو سفر کی سہولت اور حفاظت کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں یہی روشنی اندھے پن، خوف ناک حادثات اور موت کا پیغام بن چکی ہے۔ حال ہی میں علی پور چٹھہ سے تعلق رکھنے والی سماجی متحرک شخصیت سیف اللّہ بٹ صاحب نے فیس بک پر اس سنگین مسئلے کی جانب اشارہ کیا۔
ان کا یہ خدشہ محض ایک پوسٹ نہیں بلکہ ایک کڑوی حقیقت تھی، جس پر بشکریہ ان کی توجہ دلانے کا اعتراف کرتے ہوئے اس موضوع پر گہرے غوروفکر، تحلیلی جائزے اور انتظامی و قانونی حل کی فوری ضرورت محسوس کی گئی۔ آج رات کے وقت ہماری شاہ راہوں اور شہری سڑکوں پر سفر کرنا ایک خطرناک آزمائش کا روپ دھار چکا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں میں غیرقانونی، غیرمعیاری اور ظالمانہ ہائبرڈ، HID اور LED لائٹس کا بے دریغ اور بے دھڑک استعمال ہے۔
ٹرکوں، بسوں، ڈمپروں اور کاروں سے لے کر موٹرسائیکلوں تک، کمپنی کی اصل ہیڈ لائٹس کے علاوہ دو، چار اور چھے اضافی تیز سفید فلیشرز اور ایل ای ڈی لائٹس نصب کر لی گئی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ روشنیاں سڑک کو روشن کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سامنے سے آنے والی گاڑی کو مرعوب کرنے، ڈرانے اور اپنی جھوٹی فوقیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ عمل ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی اخلاقیات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کی وجہ سے آج رات کے سفر میں سڑک پر ’’مصنوعی اندھاپن‘‘ اور حادثات کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ جب سامنے سے کسی گاڑی کی یہ تیز اور اندھی کر دینے والی روشنی پڑتی ہے تو ڈرائیور چند سیکنڈ کے لیے بصارت سے بالکل محروم ہوجاتا ہے۔
اس لمحے ڈرائیور دوہرے خوف کا شکار ہوتا ہے: ایک تو سامنے آنے والی تیز روشنی والی گاڑی سے ٹکراؤ کا خدشہ، اور دوسرا (جو زیادہ خطرناک ہے) گاڑی گزرنے کے بعد آنکھوں کے سامنے چھا جانے والی چند سیکنڈوں کی تیرگی۔ انہیں چند ناگزیر لمحوں میں سڑک پر موجود موٹر سائیکل، رکشا، ریڑھی، پیدل چلنے والا، گڑھا یا ڈیوائیڈر نظر نہیں آتا اور لمحوں میں ہنستا کھیلتا انسان حادثے کی نذر ہوجاتا ہے۔ تیز لائٹس سے صرف گاڑی ڈرائیو کرنے والے ہی متاثر نہیں ہوتے، بلکہ سڑک پار کرنے والے پیدل افراد، بزرگ اور سائیکل سوار بھی سامنے کچھ نہ دیکھ پانے کی وجہ سے گاڑیوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔
تحقیق اور میدانی مشاہدات بتاتے ہیں کہ رات کے وقت ہونے والے بیشتر مہلک حادثات کی اصل وجہ محض تیزرفتاری نہیں، بلکہ سڑک پر پیدا ہونے والا یہی ’’مصنوعی اندھا پن‘‘ (night glare / Temporary blindness) ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان لائٹس سے نکلنے والی شدید نیلگوں اور سفید روشنی انسان کی بصارت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس سے آنکھوں پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جس سے آنکھوں میں جلن، پانی آنا، اور وقت سے پہلے نظر کا کم زور ہونا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ایشیائی ممالک کا موازنہ: چین، جاپان اور بھارت میں کیا صورت حال ہے؟ اگر ہم خطے کے دیگر ایشیائی ممالک کے ٹریفک قوانین اور وہاں ان تیز ہیڈ لائٹس، ہائبرڈ لائٹس اور غیرقانونی ایل ای ڈی فلیشرز کے کنٹرول کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں قوانین کس قدر سخت ہیں:
چین: چین میں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنی کی حد (Luminous intensity) اور زاویے (Beam angle) کو قومی معیار (GB Standards) کے تحت سختی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ غیرقانونی طور پر تیز لائٹس لگانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ سب سے دل چسپ اور مؤثر بات یہ ہے کہ چین کے چند اضلاع میں اگر کوئی ڈرائیور بلا وجہ ہائی بیم (high beam) یاا فٹر مارکیٹ (market After ) تیز لائٹس استعمال کرتے ہوئے پکڑا جائے تو ٹریفک پولیس اسے ایک برقی کرسی پر بٹھا کر چند سیکنڈ کے لیے اپنی ہی گاڑی کی تیز روشنی کے سامنے دیکھنے کی علامتی سزا دیتی ہے تاکہ اسے احساس ہو کہ اس کی تیز روشنی سے سامنے والے کو کتنی اذیت ہوتی ہے۔
جاپان: جاپان میں روڈ سیفٹی قوانین اتنے جامع ہیں کہ گاڑی کے ہر سالانہ معائنے کے وقت ہیڈ لائٹس کی برائٹنس، کلر ٹمپریچر اور لائٹ کٹ آف لائن کو لیزر آلات سے ناپا جاتا ہے۔ آفٹر مارکیٹ غیرقانونی ہائبرڈ، ایچ آئی ڈی یا اضافی فلیشرز لگانا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ قانون شکنی پر گاڑی کا ڈرائیونگ لائسنس معطل اور بھاری چالان کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے جاپانی شاہراہیں دنیا میں سب سے محفوظ شمار ہوتی ہیں۔
بھارت: پاکستان سے ملتے جلتے خطے کے باوجود، بھارت نے سینٹرل موٹر وہیکلز رولز (CMVR) کے تحت تمام غیرقانونی آفٹر مارکیٹ LED اورHID غیرمنظور شدہ فلیشرز کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ٹریفک پولیس ٹول پلازوں اور شہروں کی ناکابندیوں کے دوران ایسی اضافی لائٹس کو موقع پر ہی توڑنے یا اتروانے کی مجاز ہے اور ایسا کرنے پر قانون کے تحت گاڑی کا روٹ پرمٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

یہ موازنہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا یا ہمارے پڑوسی ممالک میں ایسی اندھی کردینے والی لائٹس کی مطلق اجازت نہیں ہے، بلکہ وہاں روڈ سیفٹی کو انسانی زندگی سے جوڑ کر باقاعدہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کیا ہمارے اندر خوفِ خدا باقی ہے؟ (ایک سنجیدہ فکر) ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سڑک پر صرف نوجوان ڈرائیور ہی سفر نہیں کرتے۔ ہماری شاہراہوں پر ہر عمر کے لوگ بزرگ، بیمار، اعصابی تناؤ کے شکار افراد اور خواتین ڈرائیورز بھی روزانہ سفر کرتی ہیں۔
جب سامنے سے ایک اچانک اندھی کر دینے والی ظالمانہ روشنی آتی ہے تو ایک باہمت نوجوان کے لیے بھی گاڑی سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے، چہ جائے کہ کوئی بزرگ، خاتون یا مبتدی ڈرائیور ہو۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے اندر خوفِ خدا اور انسانیت کا کوئی احساس باقی ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری انا اور شوق کی خاطر لگائی گئی ایک اضافی تیز لائٹ کسی کے لیے کتنے خوف اور اذیت کا سبب بنتی ہے؟ قرآن و سنت ہمیں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا درس دیتے ہیں، جب کہ ہمارا یہ طرزِعمل دوسروں کے راستے میں موت کا جال بچھانے کے مترادف ہے۔
سانحے کا انتظار: ہمارا قومی المیہ۔ پاکستان میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی برائی یا غیر قانونی عمل شروع ہوتا ہے تو اسے معمولی جان کر نظرانداز کیا جاتا ہے اور سے ابتدائی سطح پر ہی جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا۔ ہم اس وقت تک بے حسی کی نیند سوئے رہتے ہیں جب تک کہ کئی افسوس ناک واقعات، خوںریز سانحات اور درجنوں قیمتی جانوں کے ضیاع کا ماتم نہ کرلیا جائے۔ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے اور میڈیا پر شور مچتا ہے تو اچانک چند دنوں کے لیے انتظامیہ جاگ اٹھتی ہے، کاغذی کارروائیاں اور دکھاوے کی مہمات شروع ہوتی ہیں اور پھر معاملہ دوبارہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ آخر ہم کب تک حادثات اور لاشیں اٹھانے کے بعد جاگنے کی اس روایت کو قائم رکھیں گے؟ کیا ان ظالمانہ لائٹس کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد انتظامیہ کی آنکھیں کھولنا ضروری ہے؟
پاکستان میں ابھی تک اس اہم اور جان لیوا مسئلہ کی جانب دھیان نہیں دیا جارہا۔ اس ضمن میں فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے اربابِ اختیار، آئی جی موٹروے اور تمام شاہراہوں کے آفیسرز کو فوری اور ضروری اقدامات کی ضرورت ہے! ہم اس تحریر کے ذریعے آئی جی موٹروے اینڈ نیشنل ہائی وے پولیس، تمام زونل ڈی آئی جیز، ایس پیز، ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسرز اور سیف سٹی اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے دلی اور پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس سنگین اور جان لیوا مسئلے کا فوری اور سخت ترین نوٹس لیں۔ تمام قومی موٹرویز اور ہائی ویز پر بلا تفریق محاسبہ: خیبر سے کراچی تک پھیلے ہوئے پورے قومی شاہ راہی نظام—بشمول M-1 (پشاور تا اسلام آباد)، M-2 (اسلام آباد تا لاہور)، M-3، M-4، M-5 (ملتان تا سکھر)، M-9 (حیدرآباد تا کراچی)، سوات ایکسپریس وے اور N-5، N-55 سمیت تمام قومی ہائی ویز—پر روزانہ لاکھوں گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ تمام موٹروے پولیس اور ہائی وے آفیسرز ٹول پلازوں کے اینٹری پوائنٹس پر ہی ان غیرقانونی ہائبرڈ اور HID لائٹس والی گاڑیوں کا داخلہ روکیں، موقع پر ہی یہ لائٹس اتار کر ضبط کریں اور گاڑیوں کے روٹ پرمٹ یا فٹنس سرٹیفکیٹ منسوخ کریں یا بھاری جرمانہ عائد کریں۔
سیف سٹی کیمروں کا فوری اور موثر استعمال: تمام بڑے شہروں اور منسلک شاہراہوں پر اربوں روپے کی لاگت سے قائم سیف سٹی کے جدید کیمروں کا نظام صرف اوور اسپیڈنگ تک محدود نہ رکھا جائے۔ تمام چیف ایگزیکٹوز اور کنٹرول روم آفیسرز کو ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ غیرقانونی، حد سے زیادہ تیز اور فلیشر لائٹس والی گاڑیوں کی سیف سٹی کیمروں سے خودکار نشان دہی کر کے بھاری ای-چالان جاری کیے جائیں۔ واضح SOPs اور معلوماتی بورڈز: تمام موٹرویز، ایکسپریس ویز اور قومی شاہراہوں کے داخلی راستوں پر لائٹس کے استعمال اور زاویوں کے قانونی ضوابط (SOPs) پر مبنی نمایاں معلوماتی بورڈز آویزاں کیے جائیں اور ان قوانین پر بلا تفریق عمل درآمد کروایا جائے۔
معاشرتی بے حسی اور خود احتسابی: یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، خودغرضی اور نفسیاتی بگاڑ کا بھی ثبوت ہے۔ ہمیں اس بات کا ذرا احساس نہیں کہ ہماری گاڑی کی ایک اضافی لائٹ سامنے سے آنے والے کسی ڈرائیور کی وقتی طور پر بینائی چھین کر اسے بڑے حادثے سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس مسئلے کا تدارک صرف احباب اختیار اور حکومت کا ہی فرض نہیں ہم میں سے ہر شہری کی بھی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی گاڑی سے ایسی تمام اضافی اور غیر قانونی لائٹس فوری ہٹائے، کمپنی کی اصل لائٹس کا زاویہ درست رکھے اور رات کے سفر میں ڈِپر کا اخلاقی استعمال یقینی بنائے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ گاڑی سڑک کنارے کھڑی ہے لیکن لائٹس فُل ان ہیں جس سے سامنے سے آنے والوں کو بمشکل ہی نظر آتا ہے، یہ اب ہمارا اپنا سوچنے کا کام ہے کہ جب کھڑے ہی ہوئے ہیں تو اخلاقاً لائٹس کو مدھم کرلیں یا ہوسکے تو بند ہی رکھیں تاکہ دوسروں کو ہماری وجہ سے دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سڑک کسی ایک کی جاگیر نہیں، ہم سب کا مشترکہ راستہ ہے۔ اسے اپنی طاقت اور انا کے اظہار کی آماج گاہ نہ بنائیں۔ یاد رکھیے، اپنی گاڑی کی لائٹ کا زاویہ درست کرنے اور غیرقانونی لائٹ ہٹانے سے آپ کا سفر خراب نہیں ہوگا، مگر کسی کی قیمتی جان اور گھر کا چراغ بجھنے سے ضرور بچ جائے گا۔