’’میں سمجھتا ہوں، ایک خطّے میں بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت ہمیشہ ارضی سیاست (جیو پولٹیکس) اور معاشی مفادات کے باعث جنم لیتی ہے۔ ‘‘(امریکی دانشور، رابرٹ کاغان)
٭٭
حال ہی میں یہ نئی پیش رفت جنم لے چکی کہ وسطی ایشیا کی تیل وگیس سے مالامال مسلم ریاستیں روس کے تسلط سے نکلنے کے لیے بھارت اور چین سے ہتھیار خرید رہی ہیں۔اُن کی اِس روش سے یوریشیا کے قلب میں ایک نئی ایشیائی رقابت جنم لے رہی ۔اہم ترین دفاعی معاہدوں کی ایک لہر وسطی ایشیا کا تزویراتی منظر نامے تبدیل کر سکتی ہے، کیونکہ خطّے کی ریاستیں روس کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ اور چین و بھارت کے درمیان بڑھتی رقابت کے تناظر میں اپنی خودمختاری منوانے کے لیے ہتھیار فراہم کرتی متبادل قوتوں کا سہارا لینے لگی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی دفاعی سیکرٹری ،راجیش کمار سنگھ نے متعدد میڈیا رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں تیار کردہ سطح زمین سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم ’’آکاش‘‘ تاجکستان اور ترکمانستان کو برآمد کیا جا رہا ہے۔بھارت کے سرکاری اسلحہ ساز ادارے، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کی طرف سے تیار کردہ یہ دیسی ساختہ نظام طیاروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کا 18 سے 20 کلومیٹر تک کی بلندی پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسے بھارتی راجندرا ریڈار نیٹ ورک اور لاجسٹک مینٹیننس پیکج کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔
اگرچہ بیٹریوں کی درست مقدار اور مالیت کا انکشاف نہیں کیا گیا ، لیکن یہ معاہدے 2022ء میں پہلے خریدار ،آرمینیا کے ساتھ بھارت کے معاہدے کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے ہیں۔ اس لین دین کے ذریعے تاجکستان اور ترکمانستان کو سوویت اور روسی پرانے سازوسامان سے جان چھڑانے کا ایک سستا اور قابل اعتماد متبادل فراہم ہوتا ہے، جبکہ انہیں چین سے اسلحے کی خریداری پر مکمل انحصار بھی نہیں کرنا پڑتا۔
اس اقدام نے یوکرین کی جنگ کے باعث روسی ہتھیاروں کی محدود ہوتی کھیپ سے بھی جنم لیا ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں، چین کے مغربی حصے میں اپنا آپریشنل اثر و رسوخ قائم کرکے بھارتی حکومت کا مقصد ایک ابُھرتے ہوئے عالمی اسلحہ برآمد کنندہ کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرنا جبکہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم خطّے میں طویل مدتی تعلقات اور اتحاد کو تقویت دینا ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستیں عسکری و معاشی طور پر مشکلات کا شکار روس سے دوری اختیار کرنے کے لیے بھارت اور چین جیسے ابھرتے سپلائرز سے ہتھیار خریدنے اُن کی سمت رخ کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا انوکھا رجحان ہے جو روس کے دیرینہ علاقائی اثر و رسوخ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی اسٹریٹجک مسابقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔
تاجکستان اور ترکمانستان کو بھارت کی طرف سے آکاش میزائل کی برآمد کا یہ اقدام چین کی طرف سے ازبکستان کو جے-10سی لڑاکا طیاروں کی برآمد کے فورا بعد سامنے آیا ہے۔ حالیہ ماہ ستمبر میں پاکستان کے بعد ازبکستان چین کے جدید جے-10سی لڑاکا طیاروں کا دوسرا تصدیق شدہ غیر ملکی صارف بن چکا۔ازبکستان کی طرف سے جاری کردہ سرکاری فوٹیج میں تاشقند میں کم از کم چھ طیاروں کو کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔یوں یہ تصدیق ہو گئی کہ ازبکستان نے ایسے 24 جنگی طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے اور کچھ طیارے اُسے مل بھی چکے۔ اسلحے کی یہ فروخت چین کے لیے ایک ایسی اہم وسطی ایشیائی دفاعی مارکیٹ میں بڑی کامیابی ہے جو طویل عرصے سے سوویت اور روسی اسلحہ برآمد کنندگان کے زیر اثر رہی ہے۔
بھارت کے خلاف پاکستانی فوج کی طرف سے اس قسم کے طیاروں کے کامیاب جنگی استعمال سے تقویت حاصل کرتے چین کا 4.5 جنریشن کا یہ جیٹ طیارہ خریداروں کو مسابقتی قیمتوں، تیز ترسیل اور جدید ایویونکس کے امتزاج سے اپنی طرف متوجہ کرتا اور کئی پابندیوں کا شکار روسی حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
روس اور یوکرین کی طویل جنگ نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو روس کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک، ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی دسمبر 2025ء میں جاری کردہ رپورٹ میں محققہ، تسپورا فرائیڈ مشاہدہ کرتی ہیں، روس کی طرف سے یوکرین پر حملے نے وسطی ایشیا میں روسی غلبے کا زوال تیز کر دیا ہے۔اس باعث یہ خطّہ ایک کثیر قطبی منظر نامے میں بٹ گیا۔
اسی رپورٹ میں فرائیڈ نے نوٹ کیا کہ روس پر مغربی پابندیوں اور جنگی رکاوٹوں نے اُن خطرات کو بے نقاب کر دیا جو وسطی ایشیائی ممالک کو روس پر اندھا دھند انحصار کرنے سے مل سکتے ہیں۔ اس صورت حال نے وسط ایشیا میں روس کے زیر اثر تجارت کے راستوں، توانائی کی پائپ لائنوں اور رقوم کی ترسیل کو غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی مہنگائی کو ہوا دی ہے۔ نتیجتاً فرائیڈ کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیائی رہنما اب روس کو ایک غیر متوقع کمزور قوت کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
روس کے اسلحہ ساز اداروں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر کمپنیوں میں یہ کمزوری واضح طور پر نظر آتی ہے۔سویڈن کی تنظیم، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مارچ 2026ء میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2016ء تا 2025 ء کے درمیانی نو برسوں میں روس کے اہم ہتھیاروں کی برآمدات میں 64 فیصد کی بڑی کمی آئی…اس سے عالمی برآمدات میں روسی اسلحے کا حصّہ 21 فیصد سے گھٹ کر صرف 6.8 فیصد رہ گیا۔
سویڈش تنظیم کی رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کے سرفہرست دس ہتھیار برآمد کرنے والے ممالک میں روس واحد سپلائر تھا جس کی برآمدات میں گراوٹ آئی، جبکہ الجزائر، چین اور مصر کو ہوئی اسلحے کی ترسیل میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔ سویڈش تنظیم کے ڈیٹا سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ ان گھٹتی ہوئی روسی عسکری برآمدات کا تقریباً تین چوتھائی حصّہ بھارت، چین اور بیلاروس تک محدود تھا۔جبکہ روسی اسلحہ ساز کمپنیوں کے زیر التوا غیر ملکی آرڈرز میں بھی حریف سپلائرز کے مقابلے میں تیزی سے کمی اگٓئی۔
تسپورا فرائیڈ کا موقف ہے کہ روس کے جیو پولیٹیکل زوال میں الجھنے سے بچنے اور قومی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے وسطی ایشیائی ریاستیں اسلحہ خریداری کے سلسلے میں چین، ترکی، یورپی یونین، امریکہ اور بھارت کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دے کر’’ تزویراتی توازن‘‘ قائم کر رہی ہیں۔ ہتھیاروں کی فروخت کسی ملک میں اثر و رسوخ قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ خریدار ممالک تربیت، اپ ڈیٹس، لاجسٹک سپورٹ اور پرزہ جات کے لیے بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ حتی کہ یہ انحصار اُن ملکوں کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو سپلائر ممالک کے مفادات کے تابع کر سکتا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے روس سے ہٹ کر بھارت اور چین جیسے دفاعی سپلائرز کے ساتھ تنوع لانا اُن کی خودمختاری کی حفاظت میں مدد کرسکتا ہے۔
بھارت کے نقطہ نظر سے تاجکستان اور ترکمانستان کو ’’آکاش‘‘ میزائلوں کی فروخت اُس کی ’’نیکلس آف ڈائمنڈز‘‘ یا ہیروں کے ہار نامی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھی جائے گی ۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے یہ حکمت عملی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے چین کی طرف سے متوقع اسٹریٹجک گھیراؤ کے جواب میں تیار کی ہے۔
چونکہ چین ہتھیاروں کی فروخت اور بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو اپنے ساتھ جوڑ رہا ہے، بھارت کو متعدد محاذوں پر تنازعات جنم لینے کا خدشہ ہے۔ وادی کشمیر میں پاکستان اور ہمالیہ میں چین بھارتی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ، جبکہ بنگلہ دیش سلی گوڑی راہداری میں بھارتی فوجی وسائل اور توجہ الجھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ بحر ہند میں چینی بحری سرگرمیاں انجام دینا آسان بنا سکتی ہے۔
چین کی یہ حکمت عملی دیکھتے ہوئے بھارتی حکومت وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی معاشی اور دفاعی شراکت داری کو مسلسل وسعت دے رہی ہے۔ چین کے ارد گرد واقع ممالک کو بھارتی ہتھیاروں کی منتقلی چین کے خلاف بھارت کی جوابی گھیراؤ کی حکمت عملی کے اہم فوجی عناصر میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ تاجکستان اور ترکمانستان کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے آکاش میزائل اور فلپائن و انڈونیشیا کو ’’برہموس‘‘سپرسونک اینٹی شپ میزائل فراہم کرنا اسی بھارتی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔
چین کے پالیسی ساز وسطی ایشیا کے ممالک کو ہتھیار فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ مدعا یہ ہے، ان ملکوں کی حکومتیں چین کے معاشی اور فوجی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔یہ کام انجام دینے میں اسلحے کی فراہمی ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ وسطی ایشیا چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹیو کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس کے پاس توانائی کے اہم وسائل اور معدنیات موجود ہیں اور یہ روس کے ساتھ جیو پولیٹیکل بفر زون کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ چین کی حکومت اکثر معاشی سرمایہ کاری اور دفاعی امداد کو جامع پیکج ڈیلز میں یکجا کرتی ہے۔ ازبکستان کو جے-10سی جنگی طیاروں کی برآمد سے ہٹ کر امریکی دانشور، گوکھان ٹیکر نے ’’جرنل آف یوریشین اسٹڈیز‘‘ میں شائع شدہ اپنے ایک حالیہ مضمون میں نوٹ کیا ہے کہ چین اب ازبکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور بنیادی غیر ملکی سرمایہ کار بن چکا۔ اسی مضمون میں ٹیکر اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح چینی سرکاری ادارے زمین سے گھری اِس ریاست کو ایک علاقائی ٹرانزٹ راہداری میں بدلنے کے لیے اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں۔اُن میں چین۔کرغزستان۔ازبکستان ریلوے اور مخصوص معاشی زونز کی تعمیر شامل ہیں۔
ان آپس میں جڑے ہوئے واقعات سے قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ روس وسطی ایشیا میں اپنے روایتی اثر و رسوخ کے مبینہ زوال پر کیا ردِعمل ظاہر کرے گا۔’’جیو پولیٹیکل مانیٹر‘‘رسالے میں چھپے تازہ مضمون میں روسی دانشوروں، الدانیز گوسینوف اور ساردور اللایاروف نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے باوجود روسی ساختہ معاشی باہمی انحصار، ادارہ جاتی دفاعی معاہدوں اور حکمران اشرافیہ کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات کے ذریعے روس اس خطّے میں اپنا دیرینہ اسٹریٹجک اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گوسینوف اور اللایاروف کا مشاہدہ ہے کہ 2023 ء میں روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 44 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو خطّے کے مجموعی تجارتی حجم کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ روسی ماہرین یہ نکتہ بھی اجاگر کرتے ہیں کہ روس اور وسطی ایشیائی ملکوں کی باہمی ادائیگیوں کا آدھے سے زیادہ حصہ پابندیوں سے بچنے والے ٹرانزٹ راہداریوں کے ذریعے مقامی کرنسیوں میں عمل میں لایا گیا۔ روسی دانشور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے ساتھ ’’کیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن‘‘(CSTO) کے تحت انجام پائے باہمی دفاعی معاہدوں کی وساطت سے روس علاقائی سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنائے ہوئے ہے۔ ان معاہدوں میں ملٹری چھاؤنیوں کی تعمیر اور مربوط ایئر ڈیفنس انتظامات شامل ہیں جیسے کرغزستان کی کانت ایئر بیس پر روسی فضائی تعیناتی اور تاجکستان کو زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز، ایس-300 فراہم کرنا۔ مزید برآں گوسینوف اور اللایاروف لکھتے ہیں کہ کثیر الجہتی سیکیورٹی کونسل سربراہی اجلاس کی باقاعدہ محفلیں اور علاقائی قیادت کے درمیان گہرے تعلقات ہونا اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ روس اپنی بنیادی اور ناگزیر جیو پولیٹیکل پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے، چاہے وسطی ایشیائی حکومتیں کثیر الجہتی سفارتی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہو جائیں۔
یہ امر بھی مگر عیاں ہے کہ حریف بیرونی طاقتیں وسطی ایشیا کو مسابقتی جیو پولیٹیکل منصوبوں کے ضمن میں ایک فعال تجربہ گاہ میں تبدیل کر رہی ہیں۔ اسی لیے طویل مدتی علاقائی استحکام کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ وسطی ایشیائی ملکوں کے رہنما اپنے بنیادی دفاعی شراکت داروں کے درمیان خطرناک کشیدگی پیدا کیے بغیر اپنی اسٹریٹجک خودمختاری بچانے کی خاطر اپنی فاعی کثیر قطبیت کا کامیابی سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں یا نہیں۔